<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:26:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:26:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پکا قلعہ: شاندار ماضی، خستہ حال </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1012586/22nov2014-crumbling-majesty-the-fascinating-pakka-qila-syed-zeeshan-ahmed-bm-aq</link>
      <description>&lt;h1&gt;پکا قلعہ: شاندار ماضی، خستہ حال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.dawnnews.tv/authors/1561"&gt;سید ذیشان احمد&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item    "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546cb939ca363.jpg?r=457701103'  title=''  alt='پکا قلعہ حیدرآباد، سندھ، 1844' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              پکا قلعہ حیدرآباد، سندھ، 1844
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;&amp;#39;قلعہ ایک ہی وقت میں دفاع، حکومتی ایوان، اور  مقامی حکمرانوں کی رہائش کے کام آتا ہے&amp;#39;۔ (رچرڈ ایف برٹن، سندھ ری وزیٹڈ)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے بیچوں بیچ ایک عظیم الشان قلعے کی باقیات موجود ہیں۔ کبھی اس کی شان و شوکت کے چرچے ہر جگہ ہوا کرتے تھے، آج اس شان و شوکت کا صرف کچھ حصہ ہی باقی بچا ہے۔ ہاں ایک دیو ہیکل دروازہ اب بھی موجود ہے، اور اپنی خستہ حالی کی دہائی دیتا نظر آتا ہے۔ پکے قلعے کی کہانی ایک دلچسپ کہانی ہے، جس میں مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کی داستانیں موجود ہیں۔ قلعے کی باقیات اب بھی اس کے شاندار ماضی سے لے کر اس کی موجودہ حالتِ زار کی کہانی بیان کرتی نظر آتی ہیں۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item    "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5377231.jpg?r=980457564'  title=''  alt='مشرقی فصیل' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              مشرقی فصیل
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546d99c16a8f7.jpg?r=481944748'  title=''  alt='دائیں: مرکزی دروازہ 1844 میں، بائیں: موجودہ حالت' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              دائیں: مرکزی دروازہ 1844 میں، بائیں: موجودہ حالت
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;کہا جاتا ہے کہ خدا آباد میں مسلسل آنے والے سیلابوں نے سندھ کے حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو کو تنگ کر کے رکھ دیا تھا۔ بالاخر 1760 کی دہائی کے اختتام میں انہوں نے خدا آباد کو خدا حافظ کہنے، اور اپنا دارالحکومت کسی نئے دیار میں بسانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے نیا دارالحکومت گنج یا گنجو نامی ایک پہاڑی پر قائم ماہی گیروں کے ایک قدیم گاؤں کے کھنڈرات پر بسانے کا ارادہ کیا۔ مقامی زبان میں گنجو کے معانی بنجر کے ہیں۔ یہ قدیم گاؤں جسے کبھی نیرون یا نیرون کوٹ بھی کہا جاتا تھا، کی تاریخ موریہ عہد (185-322 قبلِ مسیح) جتنی پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہاڑی پر قائم اس قلعے کی تعمیر دیوان گدومل کی زیرِ نگرانی ہوئی تھی، جو کہ ایک قابل درباری تھے۔ اس کام کے لیے انہیں میاں غلام شاہ کلہوڑو کی جانب سے دو کشتیاں بھر کر سرمایہ دیا گیا تھا۔ وہ اس کی تعمیر کے دوران یہیں مقیم رہے، جو کہ 1768 میں مکمل ہوئی۔ اس عظیم الشان قلعے کی تعمیر میں پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے اسے سندھی میں پکو قلعو اور اردو میں پکا قلعہ کہا جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5a7f6a8.jpg?r=1279156530'  title=''  alt='مرکزی دروازہ' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              مرکزی دروازہ
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5646868.jpg?r=1122492438'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;یہ قلعہ میاں غلام شاہ کلہوڑو کا پایہ تخت تھا جہاں سے وہ اپنے نئے دارالحکومت حیدرآباد کا ارتقا دیکھ سکتے تھے۔ صرف کچھ سالوں بعد 1771-72 میں ان کی اچانک وفات کے بعد کلہوڑا دور کی تنزلی کا آغاز ہوا۔ بلوچ سرداروں کے قتل، اور علاقے میں عدم اعتماد کی فضا پھیلنے کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایک بلوچ قبیلے تالپور اور کلہوڑوں کے بیچ 1782 میں ہالانی کی جنگ لڑی گئی۔ تالپوروں کی قیادت میر فتح علی خان تالپور نے کی تھی، اور ان ہی کی قیادت میں کلہوڑو دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;جنگِ ہالانی کے بعد تالپوروں نے دارالحکومت واپس خداآباد منتقل کیا، لیکن میر فتح علی خان تالپور کے دورِ حکومت میں ہی دریائے سندھ کے تبدیل ہوتے ہوئے بہاؤ کی وجہ سے دارالحکومت واپس حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں قلعے نے شان و شوکت کی بلندیاں دیکھیں۔ نئی عمارتیں تعمیر کرائی گئیں، پرانی عمارتوں کی مرمت کی گئی۔ میر حرم، جو کہ اب بھی موجود ہے، میر فتح کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آنے والے تالپور حکمرانوں نے بھی قلعے میں کئی عمارتوں اور دیگر اسٹرکچرز کا اضافہ کیا۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item    "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa04c8c2b.jpg?r=1190547066'  title=''  alt='میر حرم کے ساتھ موجود آفس بلڈنگ' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              میر حرم کے ساتھ موجود آفس بلڈنگ
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d3e62ae.jpg?r=1105835149'  title=''  alt='آفس کا اندرونی منظر' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              آفس کا اندرونی منظر
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5479787.jpg?r=1638935896'  title=''  alt='میر حرم کے بارے میں معلومات' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              میر حرم کے بارے میں معلومات
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5ab1287.jpg?r=1154749608'  title=''  alt='میر حرم' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              میر حرم
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;1848 میں شائع ہونے والی کتاب Scenes in a Soldier&amp;#39;s Life میں مصنف جے ایچ ڈبلیو ہال قلعے کی منظرکشی ان الفاظ میں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;#39;قلعے کی دیواریں اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ہیں، اور بے حد موٹی ہیں۔ یہ تقریباً آدھے اسکوائر میل پر پھیلا ہوا ہے، اور اس میں 1800 کے قریب رہائشی مکانات ہیں، جن میں سے زیادہ تر سندھ کے امرا کے محلات ہیں۔ اس کے اندر ایک بلند و بالا مینار بھی ہے جس میں اوپر تک پہنچنے کے لیے 76 زینے ہیں، جہاں پر فارسی ساخت کی 84 پاؤنڈ والی چار توپیں موجود ہیں&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مدراس کے گھڑ سوار دستے کے ایڈورڈ آرچر لینگلے اپنی کتاب Narrative of a Residence at the Court of Meer Ali Moorad میں لکھتے ہیں۔ &amp;#39;قلعہ اور فصیل کافی بلند ہیں، یہاں سے پورے شہر پر نظر رکھی جاسکتی ہے، جبکہ دریا سے یہاں کا نظارہ بالکل کسی تصویر کی مانند خوب صورت ہے&amp;#39;۔ لینگلے نے جس دریا کا ذکر کیا ہے وہ دریائے سندھ ہے جو کسی زمانے میں شہر میں سے ہو کر بہتا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاریخوں میں ملتا ہے کہ یہ قلعہ کبھی باغات، بڑے محلات، درباروں اور دیگر خوبصورت تعمیرات سے بھرا ہوا تھا۔ 33 ایکڑ پر قائم یہ قلعہ کسی عجوبے سے کم نہیں تھا۔ لیکن اس کی تنزلی کا دور 1843 میں شروع ہوا، جب چارلس نیپیئر کی سربراہی میں برطانوی فوج اور میر تالپوروں کے درمیان جنگ ہوئی۔ جنگ میں برطانیہ کو فتح بھی حاصل ہوئی، اور سندھ کی حکمرانی بھی۔ جنگ کے دوران قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ برطانوی فوج اس معاملے میں کافی بے رحم تھی، اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ زیادہ تر عمارتیں منہدم کردی جائیں۔ جو عمارتیں باقی بچ گئیں، وہ برطانوی افسران کے لیے آفسوں کا کام دینے لگیں۔ گیٹ کے قریب کا حصہ بعد میں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔ قلعے میں قائم میناروں کو بھی گرا دیا گیا تاکہ بعد میں ہونے والی کسی بغاوت میں ان کا استعمال نہ کیا جاسکے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5616093.jpg?r=1399316790'  title=''  alt='برٹش دور کی تعمیرات' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              برٹش دور کی تعمیرات
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546da5028efab.jpg?r=1522063097'  title=''  alt='دائیں: مینار کی اصل صورت، بائیں: مینار کی موجودہ حالت' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              دائیں: مینار کی اصل صورت، بائیں: مینار کی موجودہ حالت
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;1947 میں تقسیم کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث حکام نے قلعے کو عارضی طور پر کیمپ میں تبدیل کردیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عارضی کیمپ ایک بے ہنگم قصبے جیسی اپنی موجودہ حالت اختیار کرتا گیا۔ لوگوں کی جانب سے قلعے پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات بھی مسائل میں سے ایک ہیں۔ حکومت کی جانب سے 90 کی دہائی میں کی جانے والی کوششوں کے باوجود لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں، حالانکہ اس میں رہنا اب کسی بھی طرح خطرے سے خالی نہیں ہے۔ نکاسی آب کا کوئی مناسب انتظام بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ روز بروز خستہ حالی کی جانب مائل ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;قلعہ اصل میں بیضوی شکل کا تھا، اور اب اس کا بہت کم حصہ ہی اپنی اصل حالت میں برقرار ہے۔ اس کا مغربی دروازہ شاہی بازار کی جانب کھلتا ہے، لیکن اب انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ تھوڑا سا چلیں اور بائیں جانب مڑیں، تو کچھ قدم اور چلنے کے بعد میر حرم ہے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d5ee7a7.jpg?r=1529942932'  title=''  alt='میر حرم اور دیگر عمارتوں کی طرف جانے والی تنگ گلی' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              میر حرم اور دیگر عمارتوں کی طرف جانے والی تنگ گلی
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5dabdea5.jpg?r=1472588830'  title=''  alt='شمالی فصیل میں موجود ایک چھوٹا دروازہ' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              شمالی فصیل میں موجود ایک چھوٹا دروازہ
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d4e2780.jpg?r=1374904114'  title=''  alt='مشرقی فصیل' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              مشرقی فصیل
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;
          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa07c0b32.jpg?r=972331353'  title=''  alt='مغربی فصیل' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              مغربی فصیل
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی ایک بڑی عمارت ہے جو کبھی تالپوروں کے زیرِ استعمال ہوا کرتی تھی اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ دیوار کے اوپر نقش و نگار بنائے گئے تھے جو ماہ و سال کی سختیوں کی وجہ سے تقریباً مٹ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa055367c.jpg?r=1115414957'  title=''  alt='نقش و نگار جو اب تقریباً مٹ چکے ہیں' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              نقش و نگار جو اب تقریباً مٹ چکے ہیں
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;کہا جاتا ہے کہ میوزیم سے وقت کے ساتھ ساتھ کئی نوادرات چوری ہوچکے ہیں، جبکہ محکمہ آثارِ قدیمہ کا یہاں موجود کیش بھی چرا لیا گیا ہے۔ میر حرم کے سامنے ایک آفس بلڈنگ ہے، جو کہ اب حکومت کے زیرِ استعمال ہے۔ میر حرم کے ساتھ ہی بائیں جانب لکڑی کا ایک بہت بڑا دروازہ ہے۔ اس پورے دروازے پر لوہے کی سیخیں جڑی ہوئی ہیں۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa0959bc0.jpg?r=445917599'  title=''  alt='لکڑی کا دروازہ' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              لکڑی کا دروازہ
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;قلعے کی باقی رہ جانے والی تعمیرات میں سے ایک ایسی چیز بھی ہے جس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ یہ قلعے کی مشرقی جانب کچھ تنگ گلیوں میں سے گزرنے کے بعد سامنے ایک دروازہ موجود ہے، اور اس کے سامنے کچھ زینے ہیں۔ یہاں پر ایک نمایاں قبر موجود ہے اور کچھ سرنگیں بھی ہیں۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca6c4527f2.jpg?r=909902157'  title=''  alt='قلعے کی سرنگ کی جانب جاتا ہوا راستہ' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              قلعے کی سرنگ کی جانب جاتا ہوا راستہ
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;ایک مقامی شخص نے مجھے بتایا کہ نشے کے عادی افراد کی جانب سے سرنگوں کے استعمال کے بعد ان کو لوگوں نے سیل کردیا ہے۔ سرنگیں کہاں جاتی ہیں؟ اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d903e69.jpg?r=1227711493'  title=''  alt='قلعے کی سرنگیں جو اب سیل کردی گئی ہیں' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              قلعے کی سرنگیں جو اب سیل کردی گئی ہیں
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;اس کے بائیں جانب خیمے نماں اسٹرکچر ہے جو کہ کبھی شاہی اصطبل ہوا کرتا تھا۔ اس کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اب یہ انتہائی خراب حالت میں ہے اور اب اس میں موجود کچرے کے ڈھیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا استعمال کچرہ کنڈی کے طور پر کیا جارہا ہے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--uneven  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca0488c668.jpg?r=1427867422'  title=''  alt='خیمہ نما اسٹرکچر' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              خیمہ نما اسٹرکچر
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک تاریخی عمارت اس حالت کو جاپہنچی ہے۔ اس کی دیواریں آہستہ آہستہ گر رہی ہیں، جبکہ لوگ اس کے اندر اور اس کی دیواروں کے سائے تلے اب بھی رہائش پذیر ہیں۔ کاش میں اس کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید ہوسکتا۔ جو تباہ ہوچکا ہے اسے تو واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن جو ہے اسے بچانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ورنہ ایک اور قدیم ورثہ صفحہ ہستی سے مٹ کر صرف کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائے گا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.dawn.com/news/1145533/crumbling-majesty-the-fascinating-pakka-qila"&gt;انگلش میں پڑھیں۔&lt;/a&gt; &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;حوالہ جات: &lt;/p&gt;&lt;p&gt;Sind Revisited – Richard F. Burton (1877)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;History of Sindh – Mohan Gehani (English vr. 2008)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;Personal Observations of Sindh – T. Postans (1843)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;Scenes in a Soldier’s Life – J.H.W. Hall (1848)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;Narrative of a Residence at the Court of Meer Ali Moorad (Vol. 1) – Edward Archer Langley &lt;/p&gt;&lt;p&gt;مرکزی دروازے کا خاکہ 1844 میں ولیم ایڈورڈز نے بنایا، جبکہ مینار کا خاکہ لیفٹیننٹ ایڈورڈز نے 1845 میں بنایا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>پکا قلعہ: شاندار ماضی، خستہ حال</h1>
<p><a href="http://www.dawnnews.tv/authors/1561">سید ذیشان احمد</a></p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item    "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546cb939ca363.jpg?r=457701103'  title=''  alt='پکا قلعہ حیدرآباد، سندھ، 1844' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              پکا قلعہ حیدرآباد، سندھ، 1844
            </td></tr>
          </table><p>&#39;قلعہ ایک ہی وقت میں دفاع، حکومتی ایوان، اور  مقامی حکمرانوں کی رہائش کے کام آتا ہے&#39;۔ (رچرڈ ایف برٹن، سندھ ری وزیٹڈ)</p><p>سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے بیچوں بیچ ایک عظیم الشان قلعے کی باقیات موجود ہیں۔ کبھی اس کی شان و شوکت کے چرچے ہر جگہ ہوا کرتے تھے، آج اس شان و شوکت کا صرف کچھ حصہ ہی باقی بچا ہے۔ ہاں ایک دیو ہیکل دروازہ اب بھی موجود ہے، اور اپنی خستہ حالی کی دہائی دیتا نظر آتا ہے۔ پکے قلعے کی کہانی ایک دلچسپ کہانی ہے، جس میں مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کی داستانیں موجود ہیں۔ قلعے کی باقیات اب بھی اس کے شاندار ماضی سے لے کر اس کی موجودہ حالتِ زار کی کہانی بیان کرتی نظر آتی ہیں۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item    "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5377231.jpg?r=980457564'  title=''  alt='مشرقی فصیل' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              مشرقی فصیل
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546d99c16a8f7.jpg?r=481944748'  title=''  alt='دائیں: مرکزی دروازہ 1844 میں، بائیں: موجودہ حالت' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              دائیں: مرکزی دروازہ 1844 میں، بائیں: موجودہ حالت
            </td></tr>
          </table><p>کہا جاتا ہے کہ خدا آباد میں مسلسل آنے والے سیلابوں نے سندھ کے حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو کو تنگ کر کے رکھ دیا تھا۔ بالاخر 1760 کی دہائی کے اختتام میں انہوں نے خدا آباد کو خدا حافظ کہنے، اور اپنا دارالحکومت کسی نئے دیار میں بسانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے نیا دارالحکومت گنج یا گنجو نامی ایک پہاڑی پر قائم ماہی گیروں کے ایک قدیم گاؤں کے کھنڈرات پر بسانے کا ارادہ کیا۔ مقامی زبان میں گنجو کے معانی بنجر کے ہیں۔ یہ قدیم گاؤں جسے کبھی نیرون یا نیرون کوٹ بھی کہا جاتا تھا، کی تاریخ موریہ عہد (185-322 قبلِ مسیح) جتنی پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہاڑی پر قائم اس قلعے کی تعمیر دیوان گدومل کی زیرِ نگرانی ہوئی تھی، جو کہ ایک قابل درباری تھے۔ اس کام کے لیے انہیں میاں غلام شاہ کلہوڑو کی جانب سے دو کشتیاں بھر کر سرمایہ دیا گیا تھا۔ وہ اس کی تعمیر کے دوران یہیں مقیم رہے، جو کہ 1768 میں مکمل ہوئی۔ اس عظیم الشان قلعے کی تعمیر میں پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے اسے سندھی میں پکو قلعو اور اردو میں پکا قلعہ کہا جاتا ہے۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5a7f6a8.jpg?r=1279156530'  title=''  alt='مرکزی دروازہ' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              مرکزی دروازہ
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5646868.jpg?r=1122492438'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p>یہ قلعہ میاں غلام شاہ کلہوڑو کا پایہ تخت تھا جہاں سے وہ اپنے نئے دارالحکومت حیدرآباد کا ارتقا دیکھ سکتے تھے۔ صرف کچھ سالوں بعد 1771-72 میں ان کی اچانک وفات کے بعد کلہوڑا دور کی تنزلی کا آغاز ہوا۔ بلوچ سرداروں کے قتل، اور علاقے میں عدم اعتماد کی فضا پھیلنے کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایک بلوچ قبیلے تالپور اور کلہوڑوں کے بیچ 1782 میں ہالانی کی جنگ لڑی گئی۔ تالپوروں کی قیادت میر فتح علی خان تالپور نے کی تھی، اور ان ہی کی قیادت میں کلہوڑو دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا۔ </p><p>جنگِ ہالانی کے بعد تالپوروں نے دارالحکومت واپس خداآباد منتقل کیا، لیکن میر فتح علی خان تالپور کے دورِ حکومت میں ہی دریائے سندھ کے تبدیل ہوتے ہوئے بہاؤ کی وجہ سے دارالحکومت واپس حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں قلعے نے شان و شوکت کی بلندیاں دیکھیں۔ نئی عمارتیں تعمیر کرائی گئیں، پرانی عمارتوں کی مرمت کی گئی۔ میر حرم، جو کہ اب بھی موجود ہے، میر فتح کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آنے والے تالپور حکمرانوں نے بھی قلعے میں کئی عمارتوں اور دیگر اسٹرکچرز کا اضافہ کیا۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item    "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa04c8c2b.jpg?r=1190547066'  title=''  alt='میر حرم کے ساتھ موجود آفس بلڈنگ' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              میر حرم کے ساتھ موجود آفس بلڈنگ
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d3e62ae.jpg?r=1105835149'  title=''  alt='آفس کا اندرونی منظر' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              آفس کا اندرونی منظر
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5479787.jpg?r=1638935896'  title=''  alt='میر حرم کے بارے میں معلومات' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              میر حرم کے بارے میں معلومات
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5ab1287.jpg?r=1154749608'  title=''  alt='میر حرم' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              میر حرم
            </td></tr>
          </table><p>1848 میں شائع ہونے والی کتاب Scenes in a Soldier&#39;s Life میں مصنف جے ایچ ڈبلیو ہال قلعے کی منظرکشی ان الفاظ میں کرتے ہیں۔</p><p>&#39;قلعے کی دیواریں اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ہیں، اور بے حد موٹی ہیں۔ یہ تقریباً آدھے اسکوائر میل پر پھیلا ہوا ہے، اور اس میں 1800 کے قریب رہائشی مکانات ہیں، جن میں سے زیادہ تر سندھ کے امرا کے محلات ہیں۔ اس کے اندر ایک بلند و بالا مینار بھی ہے جس میں اوپر تک پہنچنے کے لیے 76 زینے ہیں، جہاں پر فارسی ساخت کی 84 پاؤنڈ والی چار توپیں موجود ہیں&#39;۔</p><p>مدراس کے گھڑ سوار دستے کے ایڈورڈ آرچر لینگلے اپنی کتاب Narrative of a Residence at the Court of Meer Ali Moorad میں لکھتے ہیں۔ &#39;قلعہ اور فصیل کافی بلند ہیں، یہاں سے پورے شہر پر نظر رکھی جاسکتی ہے، جبکہ دریا سے یہاں کا نظارہ بالکل کسی تصویر کی مانند خوب صورت ہے&#39;۔ لینگلے نے جس دریا کا ذکر کیا ہے وہ دریائے سندھ ہے جو کسی زمانے میں شہر میں سے ہو کر بہتا تھا۔ </p><p>تاریخوں میں ملتا ہے کہ یہ قلعہ کبھی باغات، بڑے محلات، درباروں اور دیگر خوبصورت تعمیرات سے بھرا ہوا تھا۔ 33 ایکڑ پر قائم یہ قلعہ کسی عجوبے سے کم نہیں تھا۔ لیکن اس کی تنزلی کا دور 1843 میں شروع ہوا، جب چارلس نیپیئر کی سربراہی میں برطانوی فوج اور میر تالپوروں کے درمیان جنگ ہوئی۔ جنگ میں برطانیہ کو فتح بھی حاصل ہوئی، اور سندھ کی حکمرانی بھی۔ جنگ کے دوران قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ برطانوی فوج اس معاملے میں کافی بے رحم تھی، اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ زیادہ تر عمارتیں منہدم کردی جائیں۔ جو عمارتیں باقی بچ گئیں، وہ برطانوی افسران کے لیے آفسوں کا کام دینے لگیں۔ گیٹ کے قریب کا حصہ بعد میں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔ قلعے میں قائم میناروں کو بھی گرا دیا گیا تاکہ بعد میں ہونے والی کسی بغاوت میں ان کا استعمال نہ کیا جاسکے۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546c9f5616093.jpg?r=1399316790'  title=''  alt='برٹش دور کی تعمیرات' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              برٹش دور کی تعمیرات
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546da5028efab.jpg?r=1522063097'  title=''  alt='دائیں: مینار کی اصل صورت، بائیں: مینار کی موجودہ حالت' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              دائیں: مینار کی اصل صورت، بائیں: مینار کی موجودہ حالت
            </td></tr>
          </table><p>1947 میں تقسیم کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث حکام نے قلعے کو عارضی طور پر کیمپ میں تبدیل کردیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عارضی کیمپ ایک بے ہنگم قصبے جیسی اپنی موجودہ حالت اختیار کرتا گیا۔ لوگوں کی جانب سے قلعے پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات بھی مسائل میں سے ایک ہیں۔ حکومت کی جانب سے 90 کی دہائی میں کی جانے والی کوششوں کے باوجود لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں، حالانکہ اس میں رہنا اب کسی بھی طرح خطرے سے خالی نہیں ہے۔ نکاسی آب کا کوئی مناسب انتظام بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ روز بروز خستہ حالی کی جانب مائل ہے۔ </p><p>قلعہ اصل میں بیضوی شکل کا تھا، اور اب اس کا بہت کم حصہ ہی اپنی اصل حالت میں برقرار ہے۔ اس کا مغربی دروازہ شاہی بازار کی جانب کھلتا ہے، لیکن اب انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ تھوڑا سا چلیں اور بائیں جانب مڑیں، تو کچھ قدم اور چلنے کے بعد میر حرم ہے۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d5ee7a7.jpg?r=1529942932'  title=''  alt='میر حرم اور دیگر عمارتوں کی طرف جانے والی تنگ گلی' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              میر حرم اور دیگر عمارتوں کی طرف جانے والی تنگ گلی
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5dabdea5.jpg?r=1472588830'  title=''  alt='شمالی فصیل میں موجود ایک چھوٹا دروازہ' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              شمالی فصیل میں موجود ایک چھوٹا دروازہ
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d4e2780.jpg?r=1374904114'  title=''  alt='مشرقی فصیل' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              مشرقی فصیل
            </td></tr>
          </table>
          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa07c0b32.jpg?r=972331353'  title=''  alt='مغربی فصیل' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              مغربی فصیل
            </td></tr>
          </table><p>اس کے ساتھ ہی ایک بڑی عمارت ہے جو کبھی تالپوروں کے زیرِ استعمال ہوا کرتی تھی اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ دیوار کے اوپر نقش و نگار بنائے گئے تھے جو ماہ و سال کی سختیوں کی وجہ سے تقریباً مٹ چکے ہیں۔</p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa055367c.jpg?r=1115414957'  title=''  alt='نقش و نگار جو اب تقریباً مٹ چکے ہیں' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              نقش و نگار جو اب تقریباً مٹ چکے ہیں
            </td></tr>
          </table><p>کہا جاتا ہے کہ میوزیم سے وقت کے ساتھ ساتھ کئی نوادرات چوری ہوچکے ہیں، جبکہ محکمہ آثارِ قدیمہ کا یہاں موجود کیش بھی چرا لیا گیا ہے۔ میر حرم کے سامنے ایک آفس بلڈنگ ہے، جو کہ اب حکومت کے زیرِ استعمال ہے۔ میر حرم کے ساتھ ہی بائیں جانب لکڑی کا ایک بہت بڑا دروازہ ہے۔ اس پورے دروازے پر لوہے کی سیخیں جڑی ہوئی ہیں۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546caa0959bc0.jpg?r=445917599'  title=''  alt='لکڑی کا دروازہ' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              لکڑی کا دروازہ
            </td></tr>
          </table><p>قلعے کی باقی رہ جانے والی تعمیرات میں سے ایک ایسی چیز بھی ہے جس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ یہ قلعے کی مشرقی جانب کچھ تنگ گلیوں میں سے گزرنے کے بعد سامنے ایک دروازہ موجود ہے، اور اس کے سامنے کچھ زینے ہیں۔ یہاں پر ایک نمایاں قبر موجود ہے اور کچھ سرنگیں بھی ہیں۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca6c4527f2.jpg?r=909902157'  title=''  alt='قلعے کی سرنگ کی جانب جاتا ہوا راستہ' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              قلعے کی سرنگ کی جانب جاتا ہوا راستہ
            </td></tr>
          </table><p>ایک مقامی شخص نے مجھے بتایا کہ نشے کے عادی افراد کی جانب سے سرنگوں کے استعمال کے بعد ان کو لوگوں نے سیل کردیا ہے۔ سرنگیں کہاں جاتی ہیں؟ اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca5d903e69.jpg?r=1227711493'  title=''  alt='قلعے کی سرنگیں جو اب سیل کردی گئی ہیں' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              قلعے کی سرنگیں جو اب سیل کردی گئی ہیں
            </td></tr>
          </table><p>اس کے بائیں جانب خیمے نماں اسٹرکچر ہے جو کہ کبھی شاہی اصطبل ہوا کرتا تھا۔ اس کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اب یہ انتہائی خراب حالت میں ہے اور اب اس میں موجود کچرے کے ڈھیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا استعمال کچرہ کنڈی کے طور پر کیا جارہا ہے۔ </p>          <table class="media    issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--uneven  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/11/546ca0488c668.jpg?r=1427867422'  title=''  alt='خیمہ نما اسٹرکچر' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              خیمہ نما اسٹرکچر
            </td></tr>
          </table><p>یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک تاریخی عمارت اس حالت کو جاپہنچی ہے۔ اس کی دیواریں آہستہ آہستہ گر رہی ہیں، جبکہ لوگ اس کے اندر اور اس کی دیواروں کے سائے تلے اب بھی رہائش پذیر ہیں۔ کاش میں اس کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید ہوسکتا۔ جو تباہ ہوچکا ہے اسے تو واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن جو ہے اسے بچانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ورنہ ایک اور قدیم ورثہ صفحہ ہستی سے مٹ کر صرف کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائے گا۔ </p><p><a href="http://www.dawn.com/news/1145533/crumbling-majesty-the-fascinating-pakka-qila">انگلش میں پڑھیں۔</a> </p><hr>
<p>حوالہ جات: </p><p>Sind Revisited – Richard F. Burton (1877)</p><p>History of Sindh – Mohan Gehani (English vr. 2008)</p><p>Personal Observations of Sindh – T. Postans (1843)</p><p>Scenes in a Soldier’s Life – J.H.W. Hall (1848)</p><p>Narrative of a Residence at the Court of Meer Ali Moorad (Vol. 1) – Edward Archer Langley </p><p>مرکزی دروازے کا خاکہ 1844 میں ولیم ایڈورڈز نے بنایا، جبکہ مینار کا خاکہ لیفٹیننٹ ایڈورڈز نے 1845 میں بنایا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1012586</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2014 15:07:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید ذیشان احمد )</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/11/546d99c16a8f7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1000" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/11/546d99c16a8f7.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
