<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 30 May 2026 19:42:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 30 May 2026 19:42:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لندن کے ہوٹل میں دھماکہ، 14 افراد زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1012671/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لندن : وسطی لندن کے ایک ہوٹل میں مشتبہ گیس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد زخمی ہوگئے، سابق صدر آصف علی زرداری بھی ہوٹل میں مقیم تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt; برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a href="http://www.bbc.com/news/uk-england-london-30157144"&gt;بی بی سی&lt;/a&gt; کے مطابق لندن کے علاقے پورٹ مین اسکوائر میں واقع فائیو اسٹار حیات ریجنسی ہوٹل میں نصف شب سے قبل دھماکے کے بعد لوگوں کا انخلاءکرایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی اس ہوٹل میں مقیم تھے تاہم وہ دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود نہ تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;نجی چینل جیو ٹی وی کے ایک رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ نے بھی اپنے ٹوئٹرپیغام میں کہا ہے کہ  سابق صدر آصف علی زرداری  دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/MurtazaGeoNews/status/535982240766107648"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق واقعے کے بعد سابق صدر کی رہائش دوسرے ہوٹل میں منتقل کردی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کی بڑی تعداد ہوٹل پہنچی اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، جبکہ عمارت کے کئی حصوں میں آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لندن فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ہوٹل کے بیسمینٹ میں موجود کچن میں ہوا جس سے عمارت کے کچھ حصے منہدم ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واقعے کے وقت ہوٹل میں پانچ سو کے قریب افراد موجود تھے جن کا انخلاء کرایا گیا، جبکہ عملے کے پانچ افراد شدید زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر نو افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لندن : وسطی لندن کے ایک ہوٹل میں مشتبہ گیس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد زخمی ہوگئے، سابق صدر آصف علی زرداری بھی ہوٹل میں مقیم تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔</strong></p><p> برطانوی خبر رساں ادارے <a href="http://www.bbc.com/news/uk-england-london-30157144">بی بی سی</a> کے مطابق لندن کے علاقے پورٹ مین اسکوائر میں واقع فائیو اسٹار حیات ریجنسی ہوٹل میں نصف شب سے قبل دھماکے کے بعد لوگوں کا انخلاءکرایا گیا۔</p><p>سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی اس ہوٹل میں مقیم تھے تاہم وہ دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود نہ تھے۔</p><p>نجی چینل جیو ٹی وی کے ایک رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ نے بھی اپنے ٹوئٹرپیغام میں کہا ہے کہ  سابق صدر آصف علی زرداری  دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود نہیں تھے۔</p><p>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%">
                <a href="https://twitter.com/MurtazaGeoNews/status/535982240766107648"></a>
            </blockquote>
</p><p>ڈان نیوز کے مطابق واقعے کے بعد سابق صدر کی رہائش دوسرے ہوٹل میں منتقل کردی گئی۔</p><p>عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کی بڑی تعداد ہوٹل پہنچی اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، جبکہ عمارت کے کئی حصوں میں آگ لگ گئی۔</p><p>لندن فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ہوٹل کے بیسمینٹ میں موجود کچن میں ہوا جس سے عمارت کے کچھ حصے منہدم ہوگئے۔</p><p>واقعے کے وقت ہوٹل میں پانچ سو کے قریب افراد موجود تھے جن کا انخلاء کرایا گیا، جبکہ عملے کے پانچ افراد شدید زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر نو افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1012671</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2014 12:33:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان نیوز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/11/547027406652b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/11/547027406652b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
