<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:05:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:05:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہندوستان: جیل سے 15 ماؤ باغی فرار، 5 ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1013502/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رانچی: ہندوستان کی ریاست جھار کنڈ میں عدالت سے واپسی پر 15 قیدی فرار اور 5 ہلاک ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ہلاک شدگان اور فرار ہونے والے تمام قیدی ماؤ باغی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو عدالت سے واپسی پر ڈسٹرکٹ سنگھ بہم میں چائے باسا جیل لایا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہندوستان ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ 55 قیدیوں کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جن کو جیل واپس لایا جا رہا تھا جب قیدیوں کی ایک گاڑی سے 20 افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;این ڈی ٹی وی کے مطابق جیل کے پہلے دروازے سے قیدیوں کی گاڑی اندر آ چکی تھی جبکہ دیگر اس کے پیچھے تھیں جب دوسرے مرکزی دروازے کو قیدیوں کی گاڑی نے پار کیا تو ایک قیدی نے پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں سرخ مرچ پھینک دی اور باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;قیدیوں کے بھاگتے ہی پولیس نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے 5 قیدی ہلاک ہوئے جبکہ 5 کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں البتہ دیگر تمام قیدی با آسانی فرار ہو گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس نے ہلاک ہونے والے قیدیوں کو ماؤ باغی قرار دیا ہے جن میں ماؤسٹ ٹیپا داس اور رام ویلاس تاتی بھی شامل ہیں جبکہ فرار ہونے والوں میں 7 اہم ماؤ باغی شامل ہیں، دیگر فرار ہونے والے بھی باغیوں کے حامی بتائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس نے پورے ضلع کی ناکہ بندی کر دی البتہ وہ 15 قیدیوں میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کر سکی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ  ماؤ باغیوں نے 2003 سے مسلح کارروائیاں تیز کی تھیں ہندوستان کی وسطی ریاستیں چھتیس گڑھ، اڑیسا، بہار، جھار کنڈ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ان کے مراکز قائم ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہندوستان کی 76 اضلاع میں ماؤ باغی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ 106 سے زائد اضلاع میں ان کی حمایت موجود ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رانچی: ہندوستان کی ریاست جھار کنڈ میں عدالت سے واپسی پر 15 قیدی فرار اور 5 ہلاک ہو گئے۔</strong></p><p>رپورٹس کے مطابق ہلاک شدگان اور فرار ہونے والے تمام قیدی ماؤ باغی ہیں۔</p><p>ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو عدالت سے واپسی پر ڈسٹرکٹ سنگھ بہم میں چائے باسا جیل لایا جا رہا تھا۔</p><p>ہندوستان ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ 55 قیدیوں کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جن کو جیل واپس لایا جا رہا تھا جب قیدیوں کی ایک گاڑی سے 20 افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی۔</p><p>این ڈی ٹی وی کے مطابق جیل کے پہلے دروازے سے قیدیوں کی گاڑی اندر آ چکی تھی جبکہ دیگر اس کے پیچھے تھیں جب دوسرے مرکزی دروازے کو قیدیوں کی گاڑی نے پار کیا تو ایک قیدی نے پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں سرخ مرچ پھینک دی اور باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔</p><p>قیدیوں کے بھاگتے ہی پولیس نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے 5 قیدی ہلاک ہوئے جبکہ 5 کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں البتہ دیگر تمام قیدی با آسانی فرار ہو گئے۔</p><p>پولیس نے ہلاک ہونے والے قیدیوں کو ماؤ باغی قرار دیا ہے جن میں ماؤسٹ ٹیپا داس اور رام ویلاس تاتی بھی شامل ہیں جبکہ فرار ہونے والوں میں 7 اہم ماؤ باغی شامل ہیں، دیگر فرار ہونے والے بھی باغیوں کے حامی بتائے جاتے ہیں۔</p><p>پولیس نے پورے ضلع کی ناکہ بندی کر دی البتہ وہ 15 قیدیوں میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کر سکی۔</p><p>واضح رہے کہ  ماؤ باغیوں نے 2003 سے مسلح کارروائیاں تیز کی تھیں ہندوستان کی وسطی ریاستیں چھتیس گڑھ، اڑیسا، بہار، جھار کنڈ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ان کے مراکز قائم ہیں۔</p><p>ہندوستان کی 76 اضلاع میں ماؤ باغی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ 106 سے زائد اضلاع میں ان کی حمایت موجود ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1013502</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2014 21:56:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اردو ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/12/548729441d497.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/12/548729441d497.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/12/5487294493e76.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/12/5487294493e76.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
