<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 04:24:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Apr 2026 04:24:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملکہ ترنم نور جہاں کی یاد میں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1014143/</link>
      <description>          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--daily-motion"&gt;                        &lt;iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xurppy?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تمغہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس کی حامل پاکستان کی معروف گلو کارہ ملکہ ترنم نور جہاں کو دنیا سے منہ موڑے آج 14 برس بیت گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt; ملکہ ترنم نور جہاں 21 ستمبر 1926 کو قصور میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام اللہ وسائی جبکہ نور جہاں ان کا فلمی نام تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; نور جہاں نے اپنے فنی کریئر کا آغاز 1935 میں کلکتہ میں بننے والی فلم &amp;#39;پنڈ دی کڑی&amp;#39; سے کیا چند مزید فلموں میں کام کرنے کے بعد 1938میں وہ لاہور واپس آگئیں جہاں انہوں نے فلم گل بکاﺅلی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ فلم تھی جس سے بطور گلوکارہ بھی ان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا، اس کے بعد انہوں نے فلم یملا جٹ اور چوہدری میں کام کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سال1941میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم خزانچی میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا اور اسی برس بمبئی میں بننے والی فلم خاندان ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایت کار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں،دوست، لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی اور جگنو کے نام سرفہرست ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر شوکت حسین رضوی کے ہمراہ ممبئی سے کراچی شفٹ ہوگئیں اور انہوں نے فلم چن وے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انہی نے دی تھی۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--daily-motion"&gt;                        &lt;iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/x12gmto?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;بطور اداکارہ ان کی لولی وڈ کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں انہوں نے میرے ڈھول سپاہیا، اے وطن کے سجیلے جوانوں، ایہہ پتر ہٹاں تے نئی وکدے، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میرا سوہنا شہر قصورنیں سمیت بے شمار ملی نغمے گا کر قوم اور فوج کے جوش و ولولہ میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--daily-motion"&gt;                        &lt;iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xzbknk?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;انہیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز اور بعد میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;نور جہاں نے مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد غزلیں و گیت گائے جن میں سے بیشتر اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--daily-motion"&gt;                        &lt;iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xwilt4?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;ملکہ ترنم نور جہاں 23 دسمبر 2000 کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگرچہ آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی غزلیں اور گیت آج بھی عوام کے دلوں میں رس گھول رہے ہیں۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  media__item--daily-motion"&gt;                        &lt;iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xzzbln?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--daily-motion">                        <iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xurppy?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></td></tr>
            
          </table><p><strong>تمغہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس کی حامل پاکستان کی معروف گلو کارہ ملکہ ترنم نور جہاں کو دنیا سے منہ موڑے آج 14 برس بیت گئے۔</strong></p><p> ملکہ ترنم نور جہاں 21 ستمبر 1926 کو قصور میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام اللہ وسائی جبکہ نور جہاں ان کا فلمی نام تھا۔</p><p> نور جہاں نے اپنے فنی کریئر کا آغاز 1935 میں کلکتہ میں بننے والی فلم &#39;پنڈ دی کڑی&#39; سے کیا چند مزید فلموں میں کام کرنے کے بعد 1938میں وہ لاہور واپس آگئیں جہاں انہوں نے فلم گل بکاﺅلی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ فلم تھی جس سے بطور گلوکارہ بھی ان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا، اس کے بعد انہوں نے فلم یملا جٹ اور چوہدری میں کام کیا۔</p><p>سال1941میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم خزانچی میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا اور اسی برس بمبئی میں بننے والی فلم خاندان ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔</p><p>اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایت کار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں،دوست، لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی اور جگنو کے نام سرفہرست ہیں۔</p><p>قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر شوکت حسین رضوی کے ہمراہ ممبئی سے کراچی شفٹ ہوگئیں اور انہوں نے فلم چن وے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انہی نے دی تھی۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--daily-motion">                        <iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/x12gmto?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></td></tr>
            
          </table><p>بطور اداکارہ ان کی لولی وڈ کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کرلیا۔</p><p> انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں انہوں نے میرے ڈھول سپاہیا، اے وطن کے سجیلے جوانوں، ایہہ پتر ہٹاں تے نئی وکدے، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میرا سوہنا شہر قصورنیں سمیت بے شمار ملی نغمے گا کر قوم اور فوج کے جوش و ولولہ میں اضافہ کیا۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--daily-motion">                        <iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xzbknk?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></td></tr>
            
          </table><p>انہیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز اور بعد میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔</p><p>نور جہاں نے مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد غزلیں و گیت گائے جن میں سے بیشتر اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--daily-motion">                        <iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xwilt4?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></td></tr>
            
          </table><p>ملکہ ترنم نور جہاں 23 دسمبر 2000 کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ </p><p>اگرچہ آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی غزلیں اور گیت آج بھی عوام کے دلوں میں رس گھول رہے ہیں۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  media__item--daily-motion">                        <iframe src="http://www.dailymotion.com/embed/video/xzzbln?syndication=202395" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></td></tr>
            
          </table>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1014143</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2014 13:44:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اردو ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/12/5499170b07102.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/12/5499170b07102.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
