<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:25:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:25:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھر :ایک سال میں سیکڑوں بچے ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1014610/</link>
      <description>&lt;p&gt;ننگر پارکر : تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے مٹھی کے سول اسپتال میں غذائی قلت کا شکار ایک اور نومولود بچے نے دم توڑ دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;صحرائی علاقوں مٹھی، ڈیپلو اور ننگرپارکر کے اسپتالوں میں 150 سے زائد بچے اب بھی زیر علاج ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تھر  میں غزائی قلت کے ساتھ ساتھ سردی بھی بچوں کی اموات اور بیمارویوں میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ماہ (دسمبر 2014)  میں 145 سے زائد بچے لقمہ اجل بنے   جس کے بعد ایک سال کے دوران تھر میں دُنیا سے رُخصت ہونے والے بچوں کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54a61ff8e1dd8.jpg?r=1952674396'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;مٹھی، چھاچھرو اور ننگر پارکر کے اضلاع غذائی قلت کا زیادہ شکار ہیں&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ تھر کی آبادی کا ابڑا حصہ خط غربت سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جبکہ صحت کی سہولیات کا بھی شدید فقدان ہے جس کے باعث دسمبر اور جنوری کے مہینے کی سخت سردی میں بچوں میں قلت اور نمونیا سمیت دیگر بیماریوں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ننگر پارکر : تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے مٹھی کے سول اسپتال میں غذائی قلت کا شکار ایک اور نومولود بچے نے دم توڑ دیا۔</p><p>صحرائی علاقوں مٹھی، ڈیپلو اور ننگرپارکر کے اسپتالوں میں 150 سے زائد بچے اب بھی زیر علاج ہیں۔</p><p>تھر  میں غزائی قلت کے ساتھ ساتھ سردی بھی بچوں کی اموات اور بیمارویوں میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہی ہے۔</p><p>واضح رہے کہ گزشتہ ماہ (دسمبر 2014)  میں 145 سے زائد بچے لقمہ اجل بنے   جس کے بعد ایک سال کے دوران تھر میں دُنیا سے رُخصت ہونے والے بچوں کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54a61ff8e1dd8.jpg?r=1952674396'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p>مٹھی، چھاچھرو اور ننگر پارکر کے اضلاع غذائی قلت کا زیادہ شکار ہیں</p><p>یاد رہے کہ تھر کی آبادی کا ابڑا حصہ خط غربت سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جبکہ صحت کی سہولیات کا بھی شدید فقدان ہے جس کے باعث دسمبر اور جنوری کے مہینے کی سخت سردی میں بچوں میں قلت اور نمونیا سمیت دیگر بیماریوں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1014610</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2015 08:57:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان نیوز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/01/54a61e899fc09.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/01/54a61e899fc09.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
