<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Multimedia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 16:40:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 16:40:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپالی خواتین کیلئے خصوصی بس سروس کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1015029/</link>
      <description>          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2f842b19.jpg?r=1551445703'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو میں خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ میں جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی بس سروس شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کھٹمنڈو میں چار 17 نشستی منی بسیں چلائی گئی ہیں، جن پر &amp;#39;صرف خواتین کے لیے&amp;#39; کے سائن بورڈز لگائے گئے ہیں اور یہ صرف صبح اور شام کے اوقات میں شہر کے اہم مقامات پر چلا کریں گی۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2eca901a.jpg?r=1283609269'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;اگرچہ نیپال میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے کوئی سرکاری اعدادو شمار دستیاب نہیں، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں صنفی جرائم کے حوالے سے آگاہی بڑھنے کے بعد خواتین پر جنسی تشدد کے واقعات میں چار گنا اضافہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سینیئر افسر تلسی پراساد سیتولہ کے مطابق پُر ہجوم بسوں میں سفر کے دوران خواتین پر جنسی تشدد کے ساتھ انھیں ہراساں کیے جانے کے حوالے سے شکایات موصول ہورہی تھیں۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2f79a165.jpg?r=1020682475'  title=''  alt='نیپال میں چلائی گئی خواتین کے لیے مخصوص بس کی کنڈیکٹر سورج شرشتھا بس کے دروازے میں کھڑی خواتین مسافروں کا انتظار کر رہی ہیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              نیپال میں چلائی گئی خواتین کے لیے مخصوص بس کی کنڈیکٹر سورج شرشتھا بس کے دروازے میں کھڑی خواتین مسافروں کا انتظار کر رہی ہیں۔
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;فی الوقت بسوں کے ڈرائیور مرد ہیں اور صرف ایک بس میں خاتون کنڈیکٹر ہیں لیکن جلد ہی ان بسوں میں تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہوگا۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2eca1e79.jpg?r=2122539277'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;کھٹمنڈو میں سفر کرنے والی خواتین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک 17 سالہ طالبہ پر بتی گرنگ نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ آرام دہ بھی ہیں، لیکن ان بسوں کو رات میں بھی چلنا چاہیے کیونکہ اُس وقت خواتین کو سفر کرنے میں بہت مشکلات ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پربتی کے یہ خیالات، دنیا کے 15 بڑے ممالک کی خواتین سے کیے گئے سروے  سے مماثلت رہتے ہیں جن میں خواتین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایک جنس کے لیے مخصوص بسوں یا ٹرینوں میں سفر کرنے پر خود کو محفوظ تصور کریں گی۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2f748d1a.jpg?r=49804714'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;خواتین کی ایک بس کے اندر کسی نے نیپالی زبان میں &amp;#39;خواتین کے لیے مخصوص نشست&amp;#39; کے الفاظ تحریر کررکھے ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2f842b19.jpg?r=1551445703'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p><strong>نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو میں خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ میں جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی بس سروس شروع کر دی گئی ہے۔</strong></p><p>کھٹمنڈو میں چار 17 نشستی منی بسیں چلائی گئی ہیں، جن پر &#39;صرف خواتین کے لیے&#39; کے سائن بورڈز لگائے گئے ہیں اور یہ صرف صبح اور شام کے اوقات میں شہر کے اہم مقامات پر چلا کریں گی۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2eca901a.jpg?r=1283609269'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p>اگرچہ نیپال میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے کوئی سرکاری اعدادو شمار دستیاب نہیں، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں صنفی جرائم کے حوالے سے آگاہی بڑھنے کے بعد خواتین پر جنسی تشدد کے واقعات میں چار گنا اضافہ ہوگیا ہے۔</p><p>محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سینیئر افسر تلسی پراساد سیتولہ کے مطابق پُر ہجوم بسوں میں سفر کے دوران خواتین پر جنسی تشدد کے ساتھ انھیں ہراساں کیے جانے کے حوالے سے شکایات موصول ہورہی تھیں۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2f79a165.jpg?r=1020682475'  title=''  alt='نیپال میں چلائی گئی خواتین کے لیے مخصوص بس کی کنڈیکٹر سورج شرشتھا بس کے دروازے میں کھڑی خواتین مسافروں کا انتظار کر رہی ہیں۔' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              نیپال میں چلائی گئی خواتین کے لیے مخصوص بس کی کنڈیکٹر سورج شرشتھا بس کے دروازے میں کھڑی خواتین مسافروں کا انتظار کر رہی ہیں۔
            </td></tr>
          </table><p>فی الوقت بسوں کے ڈرائیور مرد ہیں اور صرف ایک بس میں خاتون کنڈیکٹر ہیں لیکن جلد ہی ان بسوں میں تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہوگا۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2eca1e79.jpg?r=2122539277'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p>کھٹمنڈو میں سفر کرنے والی خواتین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔</p><p>ایک 17 سالہ طالبہ پر بتی گرنگ نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ آرام دہ بھی ہیں، لیکن ان بسوں کو رات میں بھی چلنا چاہیے کیونکہ اُس وقت خواتین کو سفر کرنے میں بہت مشکلات ہوتی ہیں۔</p><p>پربتی کے یہ خیالات، دنیا کے 15 بڑے ممالک کی خواتین سے کیے گئے سروے  سے مماثلت رہتے ہیں جن میں خواتین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایک جنس کے لیے مخصوص بسوں یا ٹرینوں میں سفر کرنے پر خود کو محفوظ تصور کریں گی۔</p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54b0d2f748d1a.jpg?r=49804714'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p>خواتین کی ایک بس کے اندر کسی نے نیپالی زبان میں &#39;خواتین کے لیے مخصوص نشست&#39; کے الفاظ تحریر کررکھے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Multimedia</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1015029</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2015 14:32:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/01/54b0efbe90a22.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/01/54b0efbe90a22.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
