<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:09:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:09:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم مخالف اشتہارات کی جگہ مسلم کریکٹر نے لے لی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1015920/</link>
      <description>&lt;p&gt;سان فرانسسکو: شہر بھر کی بسوں پر اسلام مخالف اشتہارات پر مسلم سپر ہیرو کارٹون کیریکٹر کمالا کے اشتہارات  لگا دیئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلانے والے اشتہارات امریکا کے ایک گروپ ’فریڈم ڈیفنس انیشی ایٹو‘ کی جانب سے لگائے گئے تھے جن میں مسلمانوں کو نازیوں کے برابر قرار دیا گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک بس پر لگے اشتہارات میں فلسطین کے خلاف اسرائیلی جنگ کو مدد فراہم کرنے کے حوالے سے یہ الفاظ درج تھے کہ ’اسرائیل کو سپورٹ کرو، جہاد کو شکست دو‘۔&lt;/p&gt;            &lt;table class='media  issue1144 w-full  '&gt;
                &lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c79668f049d.jpg?r=1273451288'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                
            &lt;/table&gt;
&lt;p&gt;بس پر لگے ایک مسلم مخالف اشتہار میں امریکا کی جانب سے مسلم ممالک کو دی جانے والی امداد کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ امریکا کی جانب سے جاری ہونے والی دوتہائی امداد مسلم ممالک کی دی جاتی ہےجسے بند کیا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس مہم نے اس وقت دم توڑ دیا جب بسوں پر لگائے گئے وہ تمام اشتہارات جس میں یہودیوں کی جانب سے اسلام کےخلاف نفرت انگیز باتیں لکھی گئی تھیں ان پر مسلم کریکٹر کمالا خان کے ساتھ ’نفرت نا پھیلاؤں‘ والے اشتہارات لگا دیئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;            &lt;table class='media  issue1144 w-full  '&gt;
                &lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c79611e9362.jpg?r=203407209'  title=''  alt='مسلم مخالف اشتہارات پر لگائے گئے کمالا خان کے کردار والے پوسٹر &amp;mdash; فوٹو:بشکریہ ٹوائے باکس' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                
                &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
                    مسلم مخالف اشتہارات پر لگائے گئے کمالا خان کے کردار والے پوسٹر &amp;mdash; فوٹو:بشکریہ ٹوائے باکس
                &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            &lt;/table&gt;
&lt;p&gt;کمالا خان مسلم کارٹون کردار ہے جو ایک حیرت انگیز کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا،اس کردار کو امریکا میں 2013 میں ’مس مارویل‘کے نام سے ہونے والی ایک اشاعت میں پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کارٹون کریکر کی لکھاری جی ویلاؤں ویلسن نے بھی ان اشتہارات کو دیکھنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;            &lt;table class='media  issue1144 w-full  '&gt;
                &lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/GWillowWilson/status/559548463373774848"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                
            &lt;/table&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فرانسیسی رسالے چارلی ہیبدو پر دہشت گردوں کے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد بہت سے کارٹون بنانے والوں کی جانب سے خاص طور پر یورپ کے علاقوں میں مسلم مخالف مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;            &lt;table class='media  issue1144 w-full  '&gt;
                &lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c79670e2d8c.jpg?r=1066257252'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                
            &lt;/table&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سان فرانسسکو کی بسوں پر ایک پیغام یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’آزاد ی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ نفرت پھیلائی جائے‘۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سان فرانسسکو: شہر بھر کی بسوں پر اسلام مخالف اشتہارات پر مسلم سپر ہیرو کارٹون کیریکٹر کمالا کے اشتہارات  لگا دیئے گئے ہیں۔</p><p>مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلانے والے اشتہارات امریکا کے ایک گروپ ’فریڈم ڈیفنس انیشی ایٹو‘ کی جانب سے لگائے گئے تھے جن میں مسلمانوں کو نازیوں کے برابر قرار دیا گیا۔ </p><p>ایک بس پر لگے اشتہارات میں فلسطین کے خلاف اسرائیلی جنگ کو مدد فراہم کرنے کے حوالے سے یہ الفاظ درج تھے کہ ’اسرائیل کو سپورٹ کرو، جہاد کو شکست دو‘۔</p>            <table class='media  issue1144 w-full  '>
                <tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c79668f049d.jpg?r=1273451288'  title=''  alt='' /></td></tr>
                
            </table>
<p>بس پر لگے ایک مسلم مخالف اشتہار میں امریکا کی جانب سے مسلم ممالک کو دی جانے والی امداد کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ امریکا کی جانب سے جاری ہونے والی دوتہائی امداد مسلم ممالک کی دی جاتی ہےجسے بند کیا جائے۔</p><p>اس مہم نے اس وقت دم توڑ دیا جب بسوں پر لگائے گئے وہ تمام اشتہارات جس میں یہودیوں کی جانب سے اسلام کےخلاف نفرت انگیز باتیں لکھی گئی تھیں ان پر مسلم کریکٹر کمالا خان کے ساتھ ’نفرت نا پھیلاؤں‘ والے اشتہارات لگا دیئے گئے ہیں۔</p>            <table class='media  issue1144 w-full  '>
                <tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c79611e9362.jpg?r=203407209'  title=''  alt='مسلم مخالف اشتہارات پر لگائے گئے کمالا خان کے کردار والے پوسٹر &mdash; فوٹو:بشکریہ ٹوائے باکس' /></td></tr>
                
                <tr><td class="media__caption  ">
                    مسلم مخالف اشتہارات پر لگائے گئے کمالا خان کے کردار والے پوسٹر &mdash; فوٹو:بشکریہ ٹوائے باکس
                </td></tr>
            </table>
<p>کمالا خان مسلم کارٹون کردار ہے جو ایک حیرت انگیز کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا،اس کردار کو امریکا میں 2013 میں ’مس مارویل‘کے نام سے ہونے والی ایک اشاعت میں پیش کیا گیا تھا۔</p><p>اس کارٹون کریکر کی لکھاری جی ویلاؤں ویلسن نے بھی ان اشتہارات کو دیکھنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>            <table class='media  issue1144 w-full  '>
                <tr><td class='media__item  media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%">
                <a href="https://twitter.com/GWillowWilson/status/559548463373774848"></a>
            </blockquote>
</td></tr>
                
            </table>
<p>واضح رہے کہ فرانسیسی رسالے چارلی ہیبدو پر دہشت گردوں کے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد بہت سے کارٹون بنانے والوں کی جانب سے خاص طور پر یورپ کے علاقوں میں مسلم مخالف مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔</p>            <table class='media  issue1144 w-full  '>
                <tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/01/54c79670e2d8c.jpg?r=1066257252'  title=''  alt='' /></td></tr>
                
            </table>
<p>اسی طرح سان فرانسسکو کی بسوں پر ایک پیغام یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’آزاد ی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ نفرت پھیلائی جائے‘۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1015920</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2015 20:10:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/01/54c795730f295.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/01/54c795730f295.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
