<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 17:36:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 17:36:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بارش سے متاثرہ میچوں کیلئے نیا قانون متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1017749/</link>
      <description>&lt;p&gt;سڈنی: ورلڈکپ 2015 کے دوران ڈک ورتھ لوئس میتھڈ نئے انداز میں سامنے آگیا اور اس میں نئے قانون کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے اسٹیون  اسٹیرن کا نام بھی حصہ بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;نئے قاعدے سے بارش سے متاثرہ ایسے مقابلوں کا فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی جس میں 300 سے زیادہ رنز اسکور ہوئے ہوں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; یاد رہے کہ بارش سے متاثرہ مقابلوں میں اہداف پر نظر ثانی کے لئے ڈک ورتھ لوئس قاعدہ استعمال کیا جاتا رہا ہے جو کہ انگلینڈ کے فرینک کے ڈک ورتھ  اور ٹونی لوئس نے بنایا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لکنا اب اسٹیون اسٹرن کا نام جُڑ جانے کے بعد اس کا نام ڈک ورتھ لوئس اسٹرن ہوگیا ہے، اسٹرن برسبین کی یونیورسٹی میں شماریات کے پروفیسر اور کمپیوٹر پروگرامر ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1994 میں آسٹریلیا منتقل ہونے والے اسٹیون اسٹرن  کا کہنا ہے کہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ کے بعد اب ون ڈے کرکٹ میں بھی کافی تیزی آ گئی ہے اور  باکثرت 300 سے زائد اسکور دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ایسے میں ایسے سسٹم کی ضرورت محسوس کی گئی جس سے بڑے اسکور والے مقابلوں کے بارے میں نظرثانی شدہ اہداف زیادہ بہتر انداز میں ترتیب دیے جاسکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا یہ ہے کہ کوئی بھی میچ کو بارش  سے متاثر نہیں دیکھنا چاہتا مگر یہ بھی ٖقیقت ہے کہ میچز منسوخ کردینا بھی مناسب نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ مرتبہ 1992 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقدہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے سیمی فائنل مقابلے میں ڈک ورتھ لوئس قانون کا اطلاق کیا گیا تھا جس کے بعد سے یہ قانون مسلسل تنقید کی زد میں رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سیمی فائنل میں آخری 13 گیندوں پر جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 23 رنز درکار تھے کہ بارش نے میچ میں مداخلت کردی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;میچ بارش کے بعد جب دوبارہ شروع ہوا تو تمام ہی شائقین اس وقت حیران رہ گئے جب اس قانون کے تحت جنوبی افریقہ کو ایک گیند پر 22 رنز کا نظرثانی شدہ ہدف دیا گیا جس کے باعث انگلنیڈ باآسانی فائنل میں پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سڈنی: ورلڈکپ 2015 کے دوران ڈک ورتھ لوئس میتھڈ نئے انداز میں سامنے آگیا اور اس میں نئے قانون کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے اسٹیون  اسٹیرن کا نام بھی حصہ بن گیا ہے۔</p><p>نئے قاعدے سے بارش سے متاثرہ ایسے مقابلوں کا فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی جس میں 300 سے زیادہ رنز اسکور ہوئے ہوں۔</p><p> یاد رہے کہ بارش سے متاثرہ مقابلوں میں اہداف پر نظر ثانی کے لئے ڈک ورتھ لوئس قاعدہ استعمال کیا جاتا رہا ہے جو کہ انگلینڈ کے فرینک کے ڈک ورتھ  اور ٹونی لوئس نے بنایا تھا۔</p><p>لکنا اب اسٹیون اسٹرن کا نام جُڑ جانے کے بعد اس کا نام ڈک ورتھ لوئس اسٹرن ہوگیا ہے، اسٹرن برسبین کی یونیورسٹی میں شماریات کے پروفیسر اور کمپیوٹر پروگرامر ہیں۔</p><p>1994 میں آسٹریلیا منتقل ہونے والے اسٹیون اسٹرن  کا کہنا ہے کہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ کے بعد اب ون ڈے کرکٹ میں بھی کافی تیزی آ گئی ہے اور  باکثرت 300 سے زائد اسکور دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ایسے میں ایسے سسٹم کی ضرورت محسوس کی گئی جس سے بڑے اسکور والے مقابلوں کے بارے میں نظرثانی شدہ اہداف زیادہ بہتر انداز میں ترتیب دیے جاسکیں۔</p><p>ان کا مزید کہنا یہ ہے کہ کوئی بھی میچ کو بارش  سے متاثر نہیں دیکھنا چاہتا مگر یہ بھی ٖقیقت ہے کہ میچز منسوخ کردینا بھی مناسب نہیں ہے۔</p><p>یاد رہے کہ گزشتہ مرتبہ 1992 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقدہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے سیمی فائنل مقابلے میں ڈک ورتھ لوئس قانون کا اطلاق کیا گیا تھا جس کے بعد سے یہ قانون مسلسل تنقید کی زد میں رہا ہے۔</p><p>سیمی فائنل میں آخری 13 گیندوں پر جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 23 رنز درکار تھے کہ بارش نے میچ میں مداخلت کردی۔</p><p>میچ بارش کے بعد جب دوبارہ شروع ہوا تو تمام ہی شائقین اس وقت حیران رہ گئے جب اس قانون کے تحت جنوبی افریقہ کو ایک گیند پر 22 رنز کا نظرثانی شدہ ہدف دیا گیا جس کے باعث انگلنیڈ باآسانی فائنل میں پہنچ گیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1017749</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2015 13:46:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/03/54f4233bc2687.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/03/54f4233bc2687.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
