<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 00:48:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 00:48:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک کا سب سے بڑا نقصان ؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1019493/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیویارک : سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کا بہت زیادہ استعمال صارفین کے اندر مایوسی کے جذبات کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے دوستوں کی اچھی پوسٹس پر حسد محسوس کرنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ دلچسپ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہیوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق فیس بک کے بیشتر صارفین اپنی بیزاریت دور کرنے اور وقت گزاری کے لیے اس ویب سائٹ میں گم رہتتے ہیں اور وہ اس میں اپنے دوستوں کو مزے کرتے اور زندگی کی دوڑ میں جیتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی جانب سے کی جانے والی مثبت پوسٹس ان کے دوستوں کی زندگیوں میں ضرور انتشار پھیلا دیتی ہیں کیونکہ بیشتر خود کو تنہا تصور کرنے لگتے ہیں اور ان کے اندر مایوسی کے جذبات پھیل جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محققین کے مطابق فیس بک پر دیگر افراد کی تصاویر اور اسٹیٹس اپ ڈیٹس کو دیکھتے ہوئے وقت گزارنا بیشتر افراد کے اندر مایوسی کی علامات کو بڑھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ خواتین کے مقابلے مرد اس چیز سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ دیگر سے موازنے پر خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تحقیق کے بقول فیس بک ہمیں اپنے دوستوں کی وہ معلومات بھی فراہم کردیتی ہے جس سے عام زندگی میں لوگ واقف نہیں ہوتے جس سے ہمیں سماجی طور پر موازنے کا زیادہ موقع مل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس موازنے کے دوران آپ اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں رکھ پاتے کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے دوست کیا پوسٹ کرنے والے ہیں، مزید یہ کہ فیس بک فرینڈز اپنی زندگیوں کے جو اچھے پل پوسٹ کرتے ہیں وہ آپ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محققین نے مشورہ دیا ہے کہ فیس بک پر اپنے قیام کا دورانیہ کم کرکے اس قسم کی مایوسی سے بچا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیویارک : سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کا بہت زیادہ استعمال صارفین کے اندر مایوسی کے جذبات کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے دوستوں کی اچھی پوسٹس پر حسد محسوس کرنے لگتے ہیں۔</p><p>یہ دلچسپ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے۔</p><p>ہیوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق فیس بک کے بیشتر صارفین اپنی بیزاریت دور کرنے اور وقت گزاری کے لیے اس ویب سائٹ میں گم رہتتے ہیں اور وہ اس میں اپنے دوستوں کو مزے کرتے اور زندگی کی دوڑ میں جیتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔</p><p>تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی جانب سے کی جانے والی مثبت پوسٹس ان کے دوستوں کی زندگیوں میں ضرور انتشار پھیلا دیتی ہیں کیونکہ بیشتر خود کو تنہا تصور کرنے لگتے ہیں اور ان کے اندر مایوسی کے جذبات پھیل جاتے ہیں۔</p><p>محققین کے مطابق فیس بک پر دیگر افراد کی تصاویر اور اسٹیٹس اپ ڈیٹس کو دیکھتے ہوئے وقت گزارنا بیشتر افراد کے اندر مایوسی کی علامات کو بڑھا دیتا ہے۔</p><p>تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ خواتین کے مقابلے مرد اس چیز سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ دیگر سے موازنے پر خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔</p><p>تحقیق کے بقول فیس بک ہمیں اپنے دوستوں کی وہ معلومات بھی فراہم کردیتی ہے جس سے عام زندگی میں لوگ واقف نہیں ہوتے جس سے ہمیں سماجی طور پر موازنے کا زیادہ موقع مل جاتا ہے۔</p><p>تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس موازنے کے دوران آپ اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں رکھ پاتے کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے دوست کیا پوسٹ کرنے والے ہیں، مزید یہ کہ فیس بک فرینڈز اپنی زندگیوں کے جو اچھے پل پوسٹ کرتے ہیں وہ آپ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔</p><p>محققین نے مشورہ دیا ہے کہ فیس بک پر اپنے قیام کا دورانیہ کم کرکے اس قسم کی مایوسی سے بچا جاسکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1019493</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2015 22:34:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/04/552413f6cb4eb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/04/552413f6cb4eb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
