<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 11:14:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 11:14:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>&amp;rsquo;حکومت این ایف سی ایوارڈ دینے کی پابند نہیں&amp;lsquo;</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1021047/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی وزیرِ تجارت خرم دستگیر خان نے سینٹ میں آئندہ کے مالی سال میں ممکنہ نئے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئینی طور پر صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کی ادائیگی کی پابند نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آٹھویں این ایف سی ایوارڈ کے اعلان میں تاخیر کے حوالے سے پی پی کی سینٹر سسی پلیجو کے توجہ دلاؤ نوٹس پر خرم دستگیر نے سینٹ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئین این ایف سی ایوارڈ کے مختلف مراحل کی تشکیل کا حکم دیتا ہے، جو کہ پانچ سال سے زیادہ طویل نہ ہوں، تاہم یہ مرکز کو ایوارڈ دینے کا پابند نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نیا این ایف سی ایوارڈ سال 2015-16ء کے لیے قابل اطلاق نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس موقع پر سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا کہ ’’آپ کیوں مجھے آئین پڑھ کر سنانے اور ایک حکم دینے کے لیے مجبور  کررہے ہیں؟‘‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خرم دستگیر نے کہا کہ حکومت نے یکم جولائی 2014ء کو این ایف سی ایوارڈ بنا کر اپنا کام مکمل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 24 اپریل کو اس کی منظوری دے دی تھی اور اس پر کمیشن کا ایک اجلاس پہلے ہی منعقد کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وفاقی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے لیے 4 ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے ہیں اور ان کو وقت کی سہولت کے مطابق اپنی سفارشات جمع کروانے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی وزیرِ تجارت خرم دستگیر خان نے سینٹ میں آئندہ کے مالی سال میں ممکنہ نئے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئینی طور پر صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کی ادائیگی کی پابند نہیں ہے۔</p><p>آٹھویں این ایف سی ایوارڈ کے اعلان میں تاخیر کے حوالے سے پی پی کی سینٹر سسی پلیجو کے توجہ دلاؤ نوٹس پر خرم دستگیر نے سینٹ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئین این ایف سی ایوارڈ کے مختلف مراحل کی تشکیل کا حکم دیتا ہے، جو کہ پانچ سال سے زیادہ طویل نہ ہوں، تاہم یہ مرکز کو ایوارڈ دینے کا پابند نہیں کرتا۔</p><p>انہوں نے کہا کہ نیا این ایف سی ایوارڈ سال 2015-16ء کے لیے قابل اطلاق نہیں ہوگا۔</p><p>اس موقع پر سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا کہ ’’آپ کیوں مجھے آئین پڑھ کر سنانے اور ایک حکم دینے کے لیے مجبور  کررہے ہیں؟‘‘</p><p>خرم دستگیر نے کہا کہ حکومت نے یکم جولائی 2014ء کو این ایف سی ایوارڈ بنا کر اپنا کام مکمل کردیا ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 24 اپریل کو اس کی منظوری دے دی تھی اور اس پر کمیشن کا ایک اجلاس پہلے ہی منعقد کیا جا چکا ہے۔</p><p>وفاقی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے لیے 4 ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے ہیں اور ان کو وقت کی سہولت کے مطابق اپنی سفارشات جمع کروانے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1021047</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2015 08:22:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/05/55528b8aee53a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/05/55528b8aee53a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
