<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:32:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:32:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>&amp;rsquo;آج بھی وہ دن ڈراؤنے خواب کی طرح یاد ہے&amp;lsquo;</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1021345/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: 2009 میں سری لنکن ٹیم اور میچ آفیشلز پر ہونے والے خوفناک حملے میں زخمی ہونے والے پاکستانی امپائر احسن رضا نے کہا ہے کہ مجھے آج بھی وہ دن کسی ڈراؤنے خواب کی طرح یاد ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے آج وہ دن، وہ لمحہ یاد ہے جب ہمارے کوچ پر حملہ کیا گیا اور یہ میری زندگی کے بدترین خوابوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اس حادثے کے بعد بھی میں مستقل ملک میں عالمی کرکٹ کی واپسی کے لیے دعائیں کرتا رہا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم اور میچ آفیشلز کی بس پردہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا، احسن رضا میچ ریفری کرس براڈ، امپائر سائمن ٹافل اور ٹی وی اور ریزرو امپائر کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس حملے میں احسن رضا کے ساتھ ساتھ ڈرائیور اور سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انٹرنیشنل امپائر احسن رضا نے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم سب بس کے فرش پر لیٹ گئے تھے لیکن ایک گولی میرے کاندھے اور دوسری میرے پیٹ لگی جس کے بعد میں بے ہوش ہو گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;احسن رضا کو ایک بڑے آپریشن سے گزرنا پڑا اور ایک موقع پر خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ مہیں وہ گولی لگنے کے سبب اپنا گردہ نہ گنوا بیٹھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;’لیکن میں کسی طرح بچ گیا اور آج میرے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ میں ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سبب بننے والی پہلی سیریز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دوں گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) زمبابوے کے خلاف تین ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے لیے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر اپنے آفیشلز پاکستان بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے آفیشلز تعینات کرنے کی اجازت دے دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت رہا کہ اس صورتحال میں زمبابوے کے سابق ٹیسٹ امپائر رسل ٹفن نے سیریز میں امپائرنگ کی حامی بھری اور وہ تینوں ایک روزہ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;احسن رضا نے کہا کہ پاکستان کرکٹ حکام کے لیے یہ آسان کام نہیں ہو گا اور تمام تر مسائل کے باوجود ہمارے لیے دنیا کو یہ بتانا مشکل ہو گا کہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کھیلی جا سکتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے دورہ زمبابوے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;میچ آفیشل نہ آنے کے سبب پاکستان کو سلیکشن کمیٹی کے رکن اظہر خان کو میچ ریفری کی ذمے داریاں سونپنی پڑیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تین بار آئی سی سی کے بہترین امپائر کا ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی امپائر علیم ڈار نے کہا کہ میں سیریز کا حصہ بننے پر بہت خوش ہوں اور یہ سیریز پاکستان کرکٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;علیم ڈار نے کہا کہ گزشتہ چھ سال میں ہمیں جس صورتحال کا سامنا رہا، میرے خیال میں اس کو دیکھتے ہوئے یہ سیریز پاکستان میں کرکٹ کی نئے سرے سے ابتدا ہوگی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: 2009 میں سری لنکن ٹیم اور میچ آفیشلز پر ہونے والے خوفناک حملے میں زخمی ہونے والے پاکستانی امپائر احسن رضا نے کہا ہے کہ مجھے آج بھی وہ دن کسی ڈراؤنے خواب کی طرح یاد ہیں۔</p><p>ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے آج وہ دن، وہ لمحہ یاد ہے جب ہمارے کوچ پر حملہ کیا گیا اور یہ میری زندگی کے بدترین خوابوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اس حادثے کے بعد بھی میں مستقل ملک میں عالمی کرکٹ کی واپسی کے لیے دعائیں کرتا رہا۔</p><p>یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم اور میچ آفیشلز کی بس پردہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا، احسن رضا میچ ریفری کرس براڈ، امپائر سائمن ٹافل اور ٹی وی اور ریزرو امپائر کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔</p><p>اس حملے میں احسن رضا کے ساتھ ساتھ ڈرائیور اور سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی ہوئے تھے۔</p><p>انٹرنیشنل امپائر احسن رضا نے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم سب بس کے فرش پر لیٹ گئے تھے لیکن ایک گولی میرے کاندھے اور دوسری میرے پیٹ لگی جس کے بعد میں بے ہوش ہو گیا۔</p><p>احسن رضا کو ایک بڑے آپریشن سے گزرنا پڑا اور ایک موقع پر خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ مہیں وہ گولی لگنے کے سبب اپنا گردہ نہ گنوا بیٹھیں۔</p><p>’لیکن میں کسی طرح بچ گیا اور آج میرے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ میں ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سبب بننے والی پہلی سیریز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دوں گا۔</p><p>واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) زمبابوے کے خلاف تین ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے لیے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر اپنے آفیشلز پاکستان بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے آفیشلز تعینات کرنے کی اجازت دے دی تھی۔</p><p>پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت رہا کہ اس صورتحال میں زمبابوے کے سابق ٹیسٹ امپائر رسل ٹفن نے سیریز میں امپائرنگ کی حامی بھری اور وہ تینوں ایک روزہ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے۔</p><p>احسن رضا نے کہا کہ پاکستان کرکٹ حکام کے لیے یہ آسان کام نہیں ہو گا اور تمام تر مسائل کے باوجود ہمارے لیے دنیا کو یہ بتانا مشکل ہو گا کہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کھیلی جا سکتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے دورہ زمبابوے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p><p>میچ آفیشل نہ آنے کے سبب پاکستان کو سلیکشن کمیٹی کے رکن اظہر خان کو میچ ریفری کی ذمے داریاں سونپنی پڑیں۔</p><p>تین بار آئی سی سی کے بہترین امپائر کا ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی امپائر علیم ڈار نے کہا کہ میں سیریز کا حصہ بننے پر بہت خوش ہوں اور یہ سیریز پاکستان کرکٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو گی۔</p><p>علیم ڈار نے کہا کہ گزشتہ چھ سال میں ہمیں جس صورتحال کا سامنا رہا، میرے خیال میں اس کو دیکھتے ہوئے یہ سیریز پاکستان میں کرکٹ کی نئے سرے سے ابتدا ہوگی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1021345</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2015 14:15:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/05/555afc90510f0.png" type="image/png" medium="image" height="520" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/05/555afc90510f0.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
