<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 03:23:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 03:23:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لندن: اسکول میں روزے رکھنے پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1022477/</link>
      <description>&lt;p&gt;لندن: لندن کے ایک اسکول میں مسلم طالب علموں پر رمضان کے دوران روزے رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.telegraph.co.uk/news/religion/11669767/Primary-schools-ban-children-from-fasting-during-Ramadan.html"&gt;ٹیلی گراف کی رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق 10 جون کے ایک خط میں مشرقی لندن کے بارکلے پرائمری اسکول نے والدین کو اس حوالے سے خط لکھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خط میں اسکول کا کہنا تھا کہ اسلامک قوانین کے مطابق بچوں پر رمضان کے دوران روزے رکھنے لازم نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خط میں روزوں کو بچوں کی طبیعت خراب کرنے کا باعث قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ روزے رکھنے سے طالب علم تعلیمی سرگرمیوں سے پوری طرح مستفید نہیں ہوپاتے۔&lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full  media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
			&lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%"&gt;
				&lt;a href="https://twitter.com/ShirajShiraj/status/609100048782254080"&gt;&lt;/a&gt;
			&lt;/blockquote&gt;
&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
			&lt;/table&gt;
&lt;p&gt;اسکول کا ماننا ہے کہ اگر بچوں کو کھانے پینے سے دور رکھا جائے تو ان کی صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;برطانیہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم نے اسکول کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول کو اس طرح کے معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ اس حوالے سے پہلے سے موجود قوانین ہی کافی تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تنظیم کے ترجمان نے میل آن لائن کو بتایا کہ اسلام میں روزے نہ رکھنے اور اسے توڑنے کے قوانین موجود ہیں اور وہ کافی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کے مطابق یہ فیصلہ والدین کو کرنا چاہیے کہ ان کے بچے روزے رکھیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں کو اس سلسلے میں والدین کے لیے سپورٹنگ کردار ادا کرنا چاہیے اور اس طرح کے مسائل پر بات چیت کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسکول ٹرسٹ کے سی ای او جسٹن جیمز نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو والدین اپنے بچوں کو روزہ رکھوانے کے خواہشمند ہیں انہیں اسکول سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے لیے الگ سے انتظامات کیے جاسکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک اعلامیے میں ان کا کہنا تھا کہ جب تک والدین اسکول کے ہیڈ سے نہیں ملیں گے یہی سمجھا جائے گا کہ بچے کا روزہ نہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لندن: لندن کے ایک اسکول میں مسلم طالب علموں پر رمضان کے دوران روزے رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔</p><p><a href="http://www.telegraph.co.uk/news/religion/11669767/Primary-schools-ban-children-from-fasting-during-Ramadan.html">ٹیلی گراف کی رپورٹ</a> کے مطابق 10 جون کے ایک خط میں مشرقی لندن کے بارکلے پرائمری اسکول نے والدین کو اس حوالے سے خط لکھا۔</p><p>خط میں اسکول کا کہنا تھا کہ اسلامک قوانین کے مطابق بچوں پر رمضان کے دوران روزے رکھنے لازم نہیں۔</p><p>خط میں روزوں کو بچوں کی طبیعت خراب کرنے کا باعث قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ روزے رکھنے سے طالب علم تعلیمی سرگرمیوں سے پوری طرح مستفید نہیں ہوپاتے۔</p>			<table class='media  issue1144 w-full  media--uneven'>
				<tr><td class='media__item    media__item--twitter  '>
			<blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%">
				<a href="https://twitter.com/ShirajShiraj/status/609100048782254080"></a>
			</blockquote>
</td></tr>
				
			</table>
<p>اسکول کا ماننا ہے کہ اگر بچوں کو کھانے پینے سے دور رکھا جائے تو ان کی صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p><p>برطانیہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم نے اسکول کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول کو اس طرح کے معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ اس حوالے سے پہلے سے موجود قوانین ہی کافی تھے۔</p><p>تنظیم کے ترجمان نے میل آن لائن کو بتایا کہ اسلام میں روزے نہ رکھنے اور اسے توڑنے کے قوانین موجود ہیں اور وہ کافی ہیں۔</p><p>ان کے مطابق یہ فیصلہ والدین کو کرنا چاہیے کہ ان کے بچے روزے رکھیں گے یا نہیں۔</p><p>انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں کو اس سلسلے میں والدین کے لیے سپورٹنگ کردار ادا کرنا چاہیے اور اس طرح کے مسائل پر بات چیت کرنی چاہیے۔</p><p>اسکول ٹرسٹ کے سی ای او جسٹن جیمز نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو والدین اپنے بچوں کو روزہ رکھوانے کے خواہشمند ہیں انہیں اسکول سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے لیے الگ سے انتظامات کیے جاسکیں۔</p><p>ایک اعلامیے میں ان کا کہنا تھا کہ جب تک والدین اسکول کے ہیڈ سے نہیں ملیں گے یہی سمجھا جائے گا کہ بچے کا روزہ نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1022477</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2015 21:24:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/06/557b076febdb0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/06/557b076febdb0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
