<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 14:26:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 14:26:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماہ رمضان کے دوران پھانسیاں نہ دینے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1022515/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد : حکومت نے ہفتہ کو اعلان کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران پھانسی کی سزاﺅں پر عملدرآمد کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں صوبائی حکومتوں کو اس حکم پر عمل کرنے کی ہایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے گزشتہ سال سولہ دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان حملے میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ طالبعلموں اور اساتذہ کی ہلاکت کے بعد 17 دسمبر کو دہشتگردوں کے لیے سزائے موت پر عائد غیر اعلانیہ پابندی کو اٹھا لیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بعد میں سزائے موت کے دیگر قیدیوں تک بھی اس فیصلے کی توسیع کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اب تک گزشتہ چھ ماہ کے دوران 158 پھانسیاں دی جاچکی ہیں مگر ان میں سے صرف 20 فیصد ہی دہشتگرد تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انسٹیٹوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کے مطابق &amp;quot; درست آفیشل اعدادوشمار دستیاب نہیں مگر فرقہ وارانہ ہلاکتوں یا حکومتی ادارون اور اہلکاروں پر حملے میں ملوث دہشتگردوں کو پھانسی پر لٹکائے جانے کی تعداد کافی کم یعنی 26 فیصد ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی گزشتہ تین ماہ کے دوران تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا &amp;quot; اس کم تعداد کی وجہ دہشتگردوں یا ان کے حامیوں کو دی جانے والی سزاﺅں کی کم شرح ہے&amp;quot;۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد : حکومت نے ہفتہ کو اعلان کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران پھانسی کی سزاﺅں پر عملدرآمد کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کردیا جائے گا۔</p><p>وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں صوبائی حکومتوں کو اس حکم پر عمل کرنے کی ہایت کی گئی ہے۔</p><p>وفاقی حکومت نے گزشتہ سال سولہ دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان حملے میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ طالبعلموں اور اساتذہ کی ہلاکت کے بعد 17 دسمبر کو دہشتگردوں کے لیے سزائے موت پر عائد غیر اعلانیہ پابندی کو اٹھا لیا تھا۔</p><p>بعد میں سزائے موت کے دیگر قیدیوں تک بھی اس فیصلے کی توسیع کردی تھی۔</p><p>اب تک گزشتہ چھ ماہ کے دوران 158 پھانسیاں دی جاچکی ہیں مگر ان میں سے صرف 20 فیصد ہی دہشتگرد تھے۔</p><p>انسٹیٹوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کے مطابق &quot; درست آفیشل اعدادوشمار دستیاب نہیں مگر فرقہ وارانہ ہلاکتوں یا حکومتی ادارون اور اہلکاروں پر حملے میں ملوث دہشتگردوں کو پھانسی پر لٹکائے جانے کی تعداد کافی کم یعنی 26 فیصد ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی گزشتہ تین ماہ کے دوران تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا&quot;۔</p><p>انہوں نے مزید کہا &quot; اس کم تعداد کی وجہ دہشتگردوں یا ان کے حامیوں کو دی جانے والی سزاﺅں کی کم شرح ہے&quot;۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1022515</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jun 2015 02:39:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قلب علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/06/557ca2ad94062.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/06/557ca2ad94062.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
