<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Afghanistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:54:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:54:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایس آئی پر افغان پارلیمنٹ پر حملے کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1022964/</link>
      <description>&lt;p&gt;کابل: افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک افسر نے گزشتہ ہفتے طالبان کی افغان پارلیمنٹ پر حملے میں مدد کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;افغان انٹیلی جنس سروسز کے ترجمان حسیب صدیقی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ آئی ایس آئی کے ایک افسر نے کابل میں پارلیمنٹ کے باہر کیے گئے حملے میں حقانی نیٹ ورک کی مدد کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ حملہ ایک ایسے موقع ہر کیا گیا تھا جب پارلیمنٹ میں قانون دانوں کا اجلاس جاری تھا، حملے میں دو افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حسیب صدیقی نے کہا کہ پیر کو کیے گئے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی پشاور میں تیار ہوئی اور افغان حکام کو حملے کے بارے میں دس جون کو ہی بتا دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اضافی حفاظتی اقدامات کر لیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کئی سالوں سے جاری عدم اعتماد کے بعد حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے جہاں اس سے قبل دونوں ملک ایک دوسرے پر سرحد پار شدت پسندوں کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تقریباً ایک ماہ قبل آئی ایس آئی اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت دونوں خفیہ ادارے انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں تعاون کریں گے۔ اس معاہدے کا سب سے اہم نکتہ دونوں ملکوں کے درمیان دہشتد گردی کے ملزمان سے مشترکہ تفتیش تھی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کی جانب سے این ڈی ایس کو آلات کی فراہمی اور افراد کی تربیت بھی معاہدے کا اہم پہلو تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس وقت ایک پاکستانی حکومتی آفیشل نے کہا تھا کہ اسمعاہدے پر دستخط افغانستان اور پاکستان خصوصاً ان کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے درمیان قائم ہونے والے نئے اعتماد کے عکاس ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جب اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے آئی ایس آئی پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں افغانستان کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے اس طرح کے دعوے کیے گئے ہوں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی انتہائی واضح ہے، دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن ہے اور اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اس موقف کی تائید کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان پیر کو ہونے والے حملے کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پڑوسی کی مدد جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کابل: افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک افسر نے گزشتہ ہفتے طالبان کی افغان پارلیمنٹ پر حملے میں مدد کی۔</p><p>افغان انٹیلی جنس سروسز کے ترجمان حسیب صدیقی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ آئی ایس آئی کے ایک افسر نے کابل میں پارلیمنٹ کے باہر کیے گئے حملے میں حقانی نیٹ ورک کی مدد کی۔</p><p>یہ حملہ ایک ایسے موقع ہر کیا گیا تھا جب پارلیمنٹ میں قانون دانوں کا اجلاس جاری تھا، حملے میں دو افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔</p><p>حسیب صدیقی نے کہا کہ پیر کو کیے گئے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی پشاور میں تیار ہوئی اور افغان حکام کو حملے کے بارے میں دس جون کو ہی بتا دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اضافی حفاظتی اقدامات کر لیے تھے۔</p><p>کئی سالوں سے جاری عدم اعتماد کے بعد حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے جہاں اس سے قبل دونوں ملک ایک دوسرے پر سرحد پار شدت پسندوں کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔</p><p>تقریباً ایک ماہ قبل آئی ایس آئی اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔</p><p>اس معاہدے کے تحت دونوں خفیہ ادارے انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں تعاون کریں گے۔ اس معاہدے کا سب سے اہم نکتہ دونوں ملکوں کے درمیان دہشتد گردی کے ملزمان سے مشترکہ تفتیش تھی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کی جانب سے این ڈی ایس کو آلات کی فراہمی اور افراد کی تربیت بھی معاہدے کا اہم پہلو تھی۔</p><p>اس وقت ایک پاکستانی حکومتی آفیشل نے کہا تھا کہ اسمعاہدے پر دستخط افغانستان اور پاکستان خصوصاً ان کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے درمیان قائم ہونے والے نئے اعتماد کے عکاس ہیں۔</p><p>جب اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے آئی ایس آئی پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں افغانستان کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے اس طرح کے دعوے کیے گئے ہوں۔</p><p>دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی انتہائی واضح ہے، دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن ہے اور اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اس موقف کی تائید کر چکے ہیں۔</p><p>پاکستان پیر کو ہونے والے حملے کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پڑوسی کی مدد جاری رکھے گا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1022964</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2015 23:36:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/06/558af563bccff.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/06/558af563bccff.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
