<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:26:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:26:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شندور سے کالاش: کشور حسین شاد باد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1023199/30june2015-shandoor-se-kalash-kishwar-e-haseen-shadbad-syed-mehdi-bukhari-bm</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانسیسی ماہرِ طبیعیات پاسکل نے کہا تھا کہ قدرت ایک لامحدود دائرہ ہے جس کا مرکز ہر جگہ ہے اور محیط کہیں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈپریشن دور کرنے کا، اپنے ماحول سے گھبرا کے فرار ہونے کا ایک طریقہ ہے سفر۔ دور دراز کے پہاڑوں کا سفر جہاں آج کے انسان نُما کوئی چیز نہ ہو۔ برف ہو، پہاڑ ہوں، درخت ہوں، اور فضا میں نم زدہ پتوں کی خوشبو پھیلی ہو۔ ایک اخیر قسم کی تنہائی ہو جہاں سانس لیتے کانوں کو خراشیں سنائی دیں۔ پھر ایک وادی ہو جو شام ڈھلے برقی قمقموں کے روشن ہونے سے ٹمٹمانے لگے۔ شام ڈھلے اُفق پر رنگ بکھرے ہوں یا دُھند زدہ سفید منظر ہو، جب دل ہی بہلانا ہے اور وحشت کو پُرسہ دینا ہے تو رنگ کیا اور بے رنگا کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹاپ سے بیٹھ کر وادی میں گزرتی ٹریفک، ان گاڑیوں میں انسان کی نقل و حمل، پوپلر کے درختوں سے سیٹی مار کر گزرتی ٹھنڈی یخ ہوائیں۔ لاوے کی طرح اُبلتا دماغ، اور ایک لمبی سیر پہاڑی راستے پر: فرار ہونے کا اصل نسخہ۔ لوٹ کے واپس آنے پر اپنے ماحول کو، گرد و پیش کو، گھر کو، نوکری کو، سارے معاشرے کو انسان نئی اُمید سے دیکھے کہ شاید اب کی بار کوئی تبدیلی آ جائے۔ اسی اُمید پر تو جیے جاتے ہیں۔ ورنہ پھر سے فرار ہونے کا آسان حل ایک سفر تو ہے ناں۔ بھاگ مسافر بھاگ۔ پہاڑوں کی طرف، جن کے دامن کشادہ ہیں۔ جن پر برف نے سفید چادر بچھا کر ان کی کالی ہولناکی کو ڈھانپ دیا ہے۔ جہاں اپنی ہی آواز اِیکو کرتی ہے۔ چیڑ کے درختوں میں کوا بھی بولے تو کوئل جیسا محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&amp;mdash;سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل—سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قدرت کو دیکھنے اور اپنے اندر سمونے کی چاہ نے کئی سفر کروائے مگر غذر سے گزرتے ہوئے مجھے لگنے لگا تھا کہ قدرت کا محیط یہیں کہیں ہے۔ سفر کی عادت نے مجھے اندرون و بیرونِ ملک آج تک ایسے ایسے مناظر دکھائے، کہ جن کو یاد کروں تو دل تیز دھڑکنے لگتا ہے۔ دماغ کے پردے پر رنگوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سانسوں میں خوشبو مہکنے لگتی ہے۔ اس سارے بیتے منظروں میں سب سے شوخ رنگے منظر غذر کے ہوتے ہیں۔ مجھے ہمالیہ کے دامن میں بسے دیوسائی کے میدان میں پھیلی ایک انجان مہک، غذر کی فضا میں معطر کستوری سی، اور بارش کے پہلے پہلے قطروں سے اُٹھنے والی گیلی مٹی کی خوشبو سے عشق ہے۔ ان مقامات سے گزرتے ہوئے گہرے سانس بھرنے کی عادت ہے۔ وادی پھنڈر کی دلکشی کو میں نے ایک بارش زدہ گیلی دوپہر میں چھوڑ دیا۔ میری منزل غذر کے بستیوں ٹیرو، گلاغمولی اور لنگر سے ہوتے ہوئے درہ شندور اور اس کے پار چترال میں بسی کالاش کی وادیاں تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="غذر کی خزاں&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;غذر کی خزاں— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کہیں وادیء پھنڈر کے پاس&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کہیں وادیء پھنڈر کے پاس— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راستے میں بارش تھمی تو کافی دیر کو اپنے ہمسفر دریائے غذر کے کناروں پر فوٹوگرافی کرنے میں مشغول رہا۔ جب ٹیرو آیا تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور روشنی اندھیرے میں گھُلتی جاتی تھی۔ پرندوں نے درختوں پر رین بسیرے ڈھونڈنا شروع کر دیے تھے۔ رات کا سکوت چھا جانے سے قبل بستی میں رونق کا دور دورہ تھا۔ کھیتوں سے واپس لوٹتے لوگ، سڑک پر کھیلتے بچے، باتوں میں مصروف نوجوان سرمئی آسمان تلے اب آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے۔ دریا کے بہاؤ میں بھی ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ سارا دن پانی اُچھل اُچھل کر تھک چکے تھے شاید۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیرو میں شام اُتر رہی تھی۔ غذر کی آبادیوں پر سائے منڈلانے لگے تھے۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی روشنی سڑک کنارے دونوں اطراف کھڑے پوپلر کے لمبے درختوں کے پیلے پڑتے پتوں کو مزید بھڑکانے لگی۔ پل بھر کو یوں لگنے لگا جیسے ماچس کی تیلیاں قطار اندر قطار جل رہی ہوں۔ دور درہ شندور سے ملحقہ چوٹیوں پر ابھی سورج آخری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ ہندوکش کی چوٹیاں تپی ہوئی دھات جیسی سُرخ نظر پڑتی تھیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شندور کی سمت سفر کرتے میں سوچ رہا تھا کہ گلگت بلتستان کی سرحد کے پاس پیچھے چھُوٹ جانے والے کیسے کیسے لوگ تھے۔ کیا کیا منظر تھے جو میں دیکھتا آ رہا تھا، جو اب گُل ہو چکے تھے۔ گلگت بلتستان کی حدود ختم ہو رہی تھی۔ کبھی کبھی شام بھی یوں ڈھلتی ہے کہ دل دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے ایسے لمحوں میں یادوں کا بادباں کھُل جائے تو انسان مٹی کا بُت بنا ایک نقطے پر آنکھیں مرکوز کیے رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیرو گزرا تو چھوٹی سی بستی گلاغمولی راستے میں آئی۔ بستی میں پنجے پھیلائے اُترتی شام کی انتر ہوُت اداسی پھیلی تھی۔ بچے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ میری نظر گلاغمولی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول کی عمارت پر پڑی تو مجھے بیتے سال کی وہ گھڑیاں یاد آئیں جب میں نے اس اسکول کے اندر قدم رکھا تھا۔ ہنزہ میں موسمِ بہار شروع ہو چکا تھا۔ چیری کے پھول ہر طرف کھِلے تھے۔ میں اپریل کے وسط میں ہنزہ سے ہوتا غذر آ پہنچا تھا۔ میرا ارادہ درہ شندور تک جانے کا تھا مگر یہاں ابھی برفیں نہیں پگھلیں تھیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ٹیرو&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ٹیرو— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گلاغمولی کی بہار&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلاغمولی کی بہار— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گلاغمولی موسمِ سرما میں&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلاغمولی موسمِ سرما میں— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چلتے چلتے راہ میں یہ اسکول نظر آیا۔ سردی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی، اور اردگرد کے برف پوش پہاڑوں سے ٹکرا کر ہوائیں وادی کو یخ زدہ کرتی تھیں۔ اسکول کے صحن میں چھوٹے چھوٹے بچے پڑھنے میں مشغول تھے۔ میں نے اسکول کے اندر قدم رکھا اور چند تصویریں لے کر جب اسکول اور بچوں کی حالت پر غور کیا تو دل پسیج گیا۔ اسکول کی دو خواتین اساتذہ نے مجھے میڈیا کا نمائندہ سمجھتے ہوئے اپنی، بچوں اور اسکول کی حالتِ زار سنائی بھی دکھائی بھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ غریب کسانوں کے بچے تھے۔ سردی میں بھی ان کے پاؤں میں ڈھنگ کی جوتی تھی نہ تن پر گرم کپڑے۔ کئیوں کے پاس تو پہننے کو سویٹر تک نہیں تھے مگر علم کی لگن سے سرشار یہ بچے اور ان کے والدین کے حوصلوں کو سلام ہے کہ جس دن میں ٹھٹھر رہا تھا، اس دن بنا گرم جوتوں اور کپڑوں کے یہ ننھے طالبِ علم چہرے پر مُسکان سجائے پڑھنے میں مشغول تھے۔ اسکول کے صحن میں پاکستان کا جھنڈا لگا تھا۔ چاند تارا ہوا میں لہرا رہا تھا اور فرشتے زمین پر گِیان حاصل کر رہے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ٹیچر کے کہنے پر بچوں نے قومی ترانہ اونچی پڑھنا شروع کیا۔ میری نظر ایک بچی پر ٹکی رہی جس کے چہرے پر ایسی معصومیت تھی اور نیلی آنکھوں میں ایسی شرم کہ اس سے نظر ہٹائے نہ ہٹتی تھی۔ قومی ترانہ پڑھتے پڑھتے وہ بچی سب بچوں سے اونچا اچانک بولی "کشورِ حسین شاد باد" تو باقی بچے ترانہ چھوڑ کر کھِلکھِلا کر ہنسنے لگے۔ ان نامساعد حالات اور غربت میں ان بچوں کو علم کی شمع جلائے مُسکراتا دیکھ کر دل سوڈے کی بوتل جیسا کھُل گیا تھا۔ سوڈا تیزی سے اوپر کو چڑھنے لگا۔ اس سے پہلے کے آنکھوں کے بند سیلاب سے ٹوٹ جاتے میں نے دھیان بٹانے کو پہاڑوں کی سمت کیمرا کر کے دھندلے ویوفائنڈر سے تصویر لے لی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گلاغمولی کا اسکول&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلاغمولی کا اسکول— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسکول سے نکل کر اپنی راہ لیتے سارا راستہ میرے کانوں میں اس کا "کشورِ حسین شاد باد" گونجتا رہا۔ وہی نیلی آنکھوں والی بچی کہ جس کے تن پر گرم کپڑے نہیں تھے مگر چہرے پر گرمجوشی اور آنکھوں میں تمازت تھی۔ جس دن میں اسکول کے بچوں کے لیے کچھ تحائف لے کر کچھ ماہ بعد واپس وہاں پہنچا، اس دن وہ نیلی آنکھوں والی بچی اسکول نہیں آئی تھی۔ مجھے اس کا نام پتہ تو معلوم نہیں تھا، اس لیے میرے منہ سے نکلا: "وہ کشورِ حسین شاد باد کدھر گئی؟"۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھیلتی شام کے دھندلکے میں اسکول گذرا۔ گلاغمولی کی بستی پیچھے چھوٹ گئی۔ جیپ آگے بڑھتی گئی۔ لنگر کے قریب سڑک نے موڑ کاٹا تو بہت نیچے دریائے غذر کھُلی ہوئی وادی میں پھیلا تاریک سا نظر آیا۔ اسی مقام سے میں نے سردیوں میں جب اسی نظارے کو دیکھا تھا تو میرے منہ سے اچانک نکلا تھا "یاک سرائے"۔ وادی میں دریائے غذر کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ سینکڑوں یاک چر رہے تھے۔ پہاڑ برف سے ڈھکے تھے اور دور سے یاک متحرک نقطے لگتے تھے۔ اس دن بھی وادی میں خاموشی گونج رہی تھی اور آج بھی پھیلتی تاریکی میں وادی گہری چُپ میں تھی۔ لنگر سے گزرتے ایک پہاڑی نالے کا پُل عبور کیا تو نیچے پانیوں میں شفق کی سُرخی اُتر آئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لنگر کے قریب&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لنگر کے قریب— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لنگر&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لنگر— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="یاک گھاس چر رہے ہیں۔&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;یاک گھاس چر رہے ہیں۔— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چوٹیوں سے دھوپ اُتری تو شام کے دھندلکے میں چاند پر نظر پڑی۔ چاند بھی کیسا پورا چاند۔ چکور اور مسافر کے لیے ایسا چاند مرگ آثار کشش رکھتا ہے۔ خانہ بدوشوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ پاس سے گزرا، اور مرد نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ میں اس قافلے کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ اندھیرے میں گُم نہیں ہو گیا۔ درہ شندور قریب آتا جا رہا تھا، اور کچھ دیر میں درے کی چڑھائیاں شروع ہونے والی تھیں۔ سردی میں اضافہ ہونے لگا۔ پانیوں کی آواز کہیں پیچھے رہ گئی۔ جیپ کی ہیڈ لائیٹس جلنے لگیں۔ انشاء کی غزل اسپیکروں پر گونجی&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے اے میرے اچھے انشأ چاند&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درہ شندور کی چڑھائیاں ختم ہونے تک رات سُرمئی آنچل کی طرح پھیل چُکی تھی۔ نومبر کا آغاز تھا۔ شدید سردی نے لپیٹ میں لے لیا۔ شندور پر واقع فوجی چوکیوں میں مکمل تاریکی چھائی تھی۔ ان کے سامنے پہاڑی ڈھلوان پر اکلوتا ایک کمرے کا ہوٹل ہے جو نیٹکو بسوں کے مسافروں کا اسٹاپ ہے، جدھر مسافر کچھ دیر رُک کر چائے پیتے اور پھر بس میں بیٹھ کر اپنی منزل کی سمت چل پڑتے ہیں۔ گندے سے ہوٹل کا بوڑھا مالک لانگ کوٹ اور مفلر سے چہرہ لپیٹ کر باہر نکلا تو مجھے ہالی وڈ کا ڈراؤنا فلمی کردار لگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور کے قریب&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;درہ شندور کے قریب— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور کے قریب&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;درہ شندور کے قریب— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;درہ شندور— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور میں رات&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;درہ شندور میں رات— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمرے کے اندر چولہا گرم تھا جس کی وجہ سے کمرے کے اندر کا ماحول انتہائی آرام دہ لگا۔ شب بسری کو وہیں ٹھکانہ بنا لیا۔ ساری رات بوڑھا اپنے قصے سناتا رہا۔ سنتے سنتے مجھے کب نیند آ گئی پتہ نہیں چلا۔ صبح صادق کو آنکھ کھُلی تو میں شندور جھیل کی فوٹوگرافی کرنے باہر نکل گیا۔ درجہ حرارت منفی تھا۔ اُفق پر ہلکی پو پھٹنے لگی تھی۔ نیلی سی روشنی چہار سُو پھیلی تھی۔ سردی نے مجھے جکڑ لیا تھا۔ چلتے چلتے شندور کے پولو گراؤنڈ سے گزرا تو مجھے وہ دن یاد آگئے جب شندور پولو فیسٹیول دیکھنے یہاں آیا کرتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شندور پولو فیسٹول ہر سال سات سے نو جولائی تک منعقد ہوتا ہے۔ 12,200 فٹ کی بلندی پر واقع شندور دنیا کی سب سے بلند پولو گراؤنڈ ہے۔ یہاں آکسیجن کی کمی سے سانس بھی ٹھیک نہیں آتا، مگر گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں نے اس ویرانے میں دیدہ زیب کھیل رچا رکھا ہے۔ ہر سال گلگت اور چترال کی پولو ٹیموں کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوتا ہے اور جیتنے والے پورا ہفتہ فتح کا جشن مناتے رہتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولو کے لیے گھوڑوں کو خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ عام گھوڑا اتنی بلندی پر پولو نہیں کھیل سکتا۔ یہ خاص نسل کے تربیت یافتہ گھوڑے بھی کئی بار کھیلتے کھیلتے حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ جس دن پہلی بار میں شندور پولو میلہ دیکھنے پہنچا سارے میدان میں دُھول بھری تھی۔ مٹی کی غبار نے آسمان تک کو دھندلا دیا تھا۔ میلے پر درہ شندور بالکل روایتی میلوں جیسا لگ رہا تھا۔ جا بجا ٹینٹ لگے تھے جن میں لوگ رہائش پذیر تھے، قدم قدم پر دکانیں سجی تھیں، جنریٹروں کا شور تھا اور لوگوں کی چہل پہل۔ ہنسی قہقہے فضا میں بکھرے تھے اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں، ساری رات رونق لگی رہتی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گلگت بلتستان اور چترال کے کونے کونے سے لوگ میلہ دیکھنے پہنچتے ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے یہ وادیاں سرشار ہیں، ویرانوں میں رونق ہے، جنہوں نے برفانی ہواؤں میں جینا سیکھا ہے اور باقی دنیا سے کٹ کر رہنے کا ہُنر جانا ہے۔ گلگت بلتستان کی سرزمینوں میں، کہیں سنگلاخ پہاڑوں میں، کہیں خوبانیوں اور سیب کے باغوں میں ان ہی لوگوں کے ہونے سے زندگی ہے۔ ان ہی سے زندگی کی دشواریوں اور پریشانیوں نے ہار مانی ہے۔ ان کی صدیاں یوں گزریں کہ نہ تن پر اچھا لباس نہ کھانے کو اچھا کھانا، نہ پیروں میں جوتے نہ تعلیم نہ علاج۔ ایسی سختیوں میں بھی یہی لوگ تھے جو خدا کا نام لے کر گھوڑوں کی پشت پر بیٹھتے تھے اور پولو کھیلتے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولو دیکھنے والے یہ سخت جان لوگ داد تحسین کے ایسے نعرے بلند کرتے کہ کھلاڑیوں کے سر پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی زیادہ بلند ہو جایا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ حالات میں تبدیلی تو آئی، تعلیم عام ہوئی، شرح خواندگی میں زبردست اضافہ ہُوا، لوگوں کا معیارِ زندگی قدرے بہتر ہُوا، شعور اس معاشرے میں اُجاگر ہُوا، مگر آج بھی یہ لوگ اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ ویسے میں اُن کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف وہی نہیں ساری پاکستانی عوام بھی اپنے آئینی حقوق سے محروم ہے۔ کاغذوں میں لکھے ہوئے مقدس صحیفے یعنی آئین پاکستان کا نفاذ اہلِ وطن پر آج تک اپنی اصل روح کے مطابق نہیں ہُوا۔ اب اس پولو گراؤنڈ پر ویرانی چھائی تھی۔ ایک مدھم سی نیلی روشنی آسمان پر پھیلی تھی۔ پولو گراؤنڈ کو نیلاہٹ اوڑھے سُنسان دیکھ کر دل بوجھل ہونے لگا۔ وہ مقامات جو رونق میں انسان نے دیکھے ہوں اُن کو ایسا ویران و سنسان دیکھ کو دل خود ہی بیٹھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو گراؤنڈ رات میں&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور پولو گراؤنڈ رات میں— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب سورج نے پربت اُجالا تو کرنیں جھیل کے پانیوں پر جھلمل کرتی دِکھنے لگیں۔ پہاڑ کی اوٹ سے خورشید نے ایسے جھانکا جیسے دیکھنا چاہ رہا ہو کہ شندور جھیل کے پانی خاموش سوئے ہوئے ہیں یا لہروں میں ہلچل ہے۔ کیمرے کا شٹر گرا۔ کناروں پر جمی برف آہستہ آہستہ کرنوں کی تمازت سے پگھلنے لگی۔ شبنم کے قطرے برف کی پتلی شفاف تہہ پر ٹھہرتے، اور پھر ٹوٹ کر بہہ جاتے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دھوپ کی پیلاہٹ نیلے پانیوں میں گہری اُترنے لگی۔ شندور میں صبح اُتری تو دھوپ کی پہلی کرنیں میرے چہرے پر پڑیں اور پھر بالوں پر پڑی اوس پگھلنے لگی تو نمی پلکوں کے اوپر محسوس ہونے لگی۔ صبح صادق سے میں جھیل کے کنارے کھڑا تصویریں لے رہا تھا۔ سردی کی وجہ سے چہرے اور بالوں پر اوس کے قطرے جم چکے تھے جو اب پگھل رہے تھے۔ پلکوں کو آدھ موند کر میں نے سورج کو دیکھا تو جھیل میں بیدار ہوتی لہروں نے آگے بڑھ کر اپنے یخ پانیوں سے میرے جوتے بھگو دیے۔ شندور کی ایک ٹھنڈی صبح مجھے ایک عرصے تک سلگاتی رہی، جب تک میں پھر سے واپس شندور نہیں پہنچ گیا، کسی اور سال، کسی اور موسم میں کسی اور سمت کا ارادہ لیے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درہ شندور کو چھوڑا تو شدید قسم کی اُترائی شروع ہوئی۔ کانوں پر دباؤ پڑتا تو جیپ کے انجن کی آواز گندم پیسنے والی چکی جیسی بھاری سی سنائی پڑتی۔ میرا ڈرائیور مجھ سے کچھ کہتا تو کچھ پَلے نہ پڑتا، میں بس مُسکرا کے سر ہلا دیتا۔ اُترائیاں ختم ہوئیں تو سورلاسپور کی بستی نے استقبال کیا۔ بچوں نے سڑک کے کنارے حیرت زدہ ہو کر انگلیاں دانتوں میں داب لیں تو عورتوں نے گھونگھٹ نکال لیے۔ شرمیلی ہنسی نے لاسپور کی فضا کو مہکا دیا۔ بونی قصبے کے آنے تک کمر ٹوٹ چکی تھی۔ یہ کچی اور خستہ جیپ سڑک تھی جس پر قدم قدم پر شدید جھٹکے لگتے تھے۔ مستوج سے ہوتے ہوئے چترال پہنچنے تک رات ہو رہی تھی۔ میں اس سفر کی شدت سے اور سر و کمر کے درد سے نڈھال ہو چکا تھا۔ شب بسری کو چترال میں ہی ٹھکانہ ڈھونڈ لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہندوکش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع چترال قیام پاکستان کے وقت ریاست چترال کے نام سے مشہور تھا۔ اور ریاست چترال ماضی میں برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ تھی۔ یہ ریاست چترال کی ساری وادیوں اور ضلع غذر پر مشتمل تھی جن پر برطانوی ایجنٹ نگران تھا اور چترال کے مہتر ان کے نمائندے تھے۔ چترال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جس ریاست نے  سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، وہ چترال کی ریاست تھی۔ اس ریاست نے غیرمشروط پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل پر پیراگلائیڈنگ&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل پر پیراگلائیڈنگ— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سردی سے جم چکی شندور جھیل&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سردی سے جم چکی شندور جھیل— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل پر طلوعِ آفتاب&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل پر طلوعِ آفتاب— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل پر غروبِ آفتاب&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور جھیل پر غروبِ آفتاب— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ریاست کا بادشاہ ہوتا تھا جسے چترال میں بولی جانے والی زبان کھوار میں میتار اور اردو میں مہتر کہا جاتا تھا۔ چترال کی آبادی 5 لاکھ کے قریب ہے۔ ضلع چترال کی سات تحصیلیں ہیں۔ چمبر کن، دارکوت، اور بروغل چترال کے مشہور درے ہیں۔ شندور، قزیدہ، چاں تار، یارخون، اور بروغل مشہور جھیلیں ہیں۔ ارکاری، لاسپور، تورکھو اہم گلیشئر جبکہ لاسپور، مولکہو، بمبوریت، لٹ کہو چترال کے مشہور دریا ہیں اور یہ تمام دریا، دریائے چترال میں جا گرتے ہیں۔ چترال کے مشرقی جانب گلگت، سوات اور یاسین کے علاقے، مغربی جانب بدخشاں، چین اور روس جبکہ جنوبی کی طرف سے درہ لواری اور دیر کے علاقے واقع ہیں۔ مستوج سے ایک ذیلی پتھریلی سڑک تاجکستان جا نکلتی ہے۔ کالاش کے نالے سے ایک راستہ افغانستان کا صوبہ نورستان کو لگتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہوٹل میں پڑے پڑے ساری رات مجھے یاد آتا رہا جب گرمیوں کی ایک صبح میں اسی مقام پر وارد ہوا تھا اور اسی بستر پر لیٹا تھا جہاں اب سرد رات میں رضائی میں دبکا بیٹھا تھا۔ وہ شدید گرمی کے دن تھے۔ میں پنجاب کی لُو سے گھبرا کر چترال چلا آیا تھا، مگر یہاں پہنچ کر بھی گرمی نے جان نہیں چھوڑی تھی البتہ اس کی شدت ویسی نہیں رہی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اُس صبح میری منزل کالاش کی وادی بمبوریت تھی۔ کالاش، کہ جس کو زمانہ قدیم میں کافرستان بھی کہا جاتا تھا، کے مقامی لوگوں کے عقائد و مخصوص کالے لباس کی وجہ سے اس علاقے کو کافرستان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ مقامی باشندے خود کو سکندرِ اعظم کی اولاد مانتے ہیں اور اپنا تعلق یونان سے جوڑتے ہیں۔ راہ میں وادی ایون کی جھلک بلندی سی دکھائی پڑی۔ سرسبز کھیت پہاڑی ڈھلوانوں پر لہرا رہے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="وادیء ایون&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وادیء ایون— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور اور بونی کے درمیان&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شندور اور بونی کے درمیان— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کالاشی بچے&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کالاشی بچے— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کالاشی لڑکی&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کالاشی لڑکی— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کالاش تک کی سڑک پتھریلی ناہموار ہے جس کے ساتھ ساتھ نیچے کہیں جھاگ اڑاتا تیز بہتا پتھروں سے ٹکراتا کالاش کا دریا چلتا ہے۔ چترال سے تقریباً دو گھنٹے کا سفر کر کے بمبوریت پہنچ گیا۔ بمبوریت کالاش کا صدرمقام ہے۔ کالاش تین وادیوں بمبوریت، رومبور، اور بریر پر مشتمل ہے۔ انوکھی رسومات اور انتہائی منفرد و دلچسپ تہواروں کی سرزمین کالاش کے صدر مقام بمبوریت پہنچا تو سورج سر پر آن کھڑا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مکئی کے سرسبز شاداب کھیت ہر طرف پھیلے تھے جن کے کناروں پر شفاف ٹھنڈا پانی نالیوں کی صورت میں بہتا تھا۔ کالاشی لڑکیاں اور عورتیں اپنے مخصوص کالے لباس میں جھنڈ بنا کر درختوں کے سائے تلے براجمان تھیں۔ بزرگ اور جوان دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھے تھے یا ٹہل رہے تھے۔ ٹھنڈی چھاؤں قدم قدم پر میسر آ جاتی۔ ساری وادی با رونق اور سرسبز تھی۔ بلندی سے گرتے پانی تھے جن کا مصرف نالیاں بنا کر کھیتوں کو سیراب کرنا تھا۔ ایک سکوت اور سکون سا وادی میں ٹھہرا تھا اور اردگرد کالے پہاڑ واحد دہشت کا سامان تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کالاشی لڑکیاں&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کالاشی لڑکیاں— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بمبوریت— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بمبوریت— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں بل کھاتے پانی کی نالیوں، مکئی کے لہلاتے کھیتوں، کھیتوں میں جگہ جگہ پرندوں کو ڈرانے کے لیے کھڑے لکڑی کے سیاہ لباس اوڑھے پُتلوں، اور مکئی کی سوندھی سی خوشبو بکھیرتی فضاؤں نے مجھے سحرزدہ کر دیا تھا۔ روایتی ٹوپیاں پہنی نوعمر بچیاں، دروازوں پر کھڑی بوڑھی کالاشی عورتیں، اور سیاحوں کے منتظر کالاشی مرد اَدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میں سارا دن بمبوریت کی گلیوں میں پیدل چلتا رہا۔ پرانی طرز تعمیر کے لکڑی کے دو اور تین منزلہ مکانات تھے، جن کی کھڑکیوں سے سیپیوں کی نیلی مالائیں پہنے اور سر پر رنگین ٹوپیاں جمائے لڑکیاں جھانکتیں، اور کھِلکھلا کر ہنسنے لگتیں۔ جب سر اُٹھا کر اُن کی طرف دیکھتا تو شرما کر کھڑکیاں بند ہو جاتیں۔ مرد دکھائی پڑتے جو کمر اور کاندھوں پر بوجھ اُٹھائے چل رہے ہوتے۔ کچھ عورتیں جانوروں کے چارے کے لیے مکئی کے بڑے بڑے پتوں کا بنڈل بنا کر سر پر اٹھائے نظر پڑتیں۔ کہیں کہیں بچے کھیل تماشے میں مصروف ملتے۔ میں جب ان سے بات کرنا چاہتا تو انہیں سمجھ نہ آتی، اور وہ آگے سے سر ہلا دیتے یا ہاتھ سے بائے بائے کا اشارہ کرنے لگتے۔ کبھی کبھی  ’’ایش پاتا‘‘ بولتے۔ مجھے مقامی لڑکے نے بتایا کہ یہ آپ کی خیریت پوچھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دن ڈھلنے لگا۔ وادی میں بہتے پانیوں کا شور مزید واضح سنائی دینے لگا۔ لوگوں کی نقل و حمل گھٹنے لگی۔ کالاش کی اس وادی میں پہنچنے تک میری جِلد سورج کی تمازت سے جھُلس چُکی تھی۔ دریا کے کنارے بیٹھے اس کے کناروں پر کھڑے پانیوں میں اپنا عکس واضح نظر آ رہا تھا۔ ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا جو مجھے پھر سے ناسٹالجیا کا شکار کر گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بمبوریت— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بمبوریت— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بمبوریت— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بمبوریت— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب جب میں زندگی کی بتیس خزائیں دیکھ چکا ہوں، کبھی آئینے میں اپنی صورت دیکھوں تو سر کے بالوں میں چاندی اُترنے لگی ہے۔ ان سفید ہوتے بالوں اور سیاہ پڑتی آنکھوں، جذبات کی مدھم ہوتی لَو، اور گم گشتہ رشتوں کے بیچ ایسے کھڑا ہوں جیسے مسافر آدھے سفر کے بعد کسی سرائے میں کچھ دیر کو ٹھہرے اور پھر باقی آدھے سفر کی تیاری کرنے لگے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر انسان کی اوسط عمر ساٹھ سال ہے تو آدھی گزر چکی (بالیقیں حیات و موت کا مالک جب چاہے قصہ تمام کر دے)۔ مسافر مڑ کے دیکھنا بھی چاہے تو پیچھے راستوں پر گردباد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ دُھول مٹی کا طوفان ہے جیسے کچے راستے سے گزر کر سواری اپنے پیچھے گرد مٹی کا طوفان چھوڑ جاتی ہے۔ اسی گردباد میں کئی دوست، رشتے، ماں باپ، اور عزیز مٹی اوڑھ کر سو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زندگی کے اب تک کے سفر میں کیسے کیسے نقش مٹ چکے ہیں۔ دوست ہنگامہ روز و شب میں فکرِ معاش لیے دور جا بسے ہیں۔ اچھے سے اچھے کی تلاش میں، لائف اسٹائل کو پر تعیش بنانے کی چاہ میں دوست بچھڑتے جاتے ہیں اور میں اپنی دُھن میں اپنے شوق کے پیچھے کئی سالوں سے سرگرداں ہوں۔ نوکر پیشہ اتنا ہی سفر کرتا ہے جتنا اس کی زنجیرِ پا کرنے دیتی ہے، پر پھر بھی کوشش کی کہ ہر زنجیر توڑ کے بھاگوں چاہے کچھ دنوں کے لیے ہی سہی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تصویر کشی یا مصوری ایک ثانوی فن ہے، اصل تو سفر ہے جو انسان کو شعور بخشتا ہے۔ دوسروں کے بارے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ کئی کہانیاں سنائی دیتی ہیں، کئی رسم و رواج دکھائی دیتے ہیں۔ کئی ہمسفر ہمیشہ یاد رہتے ہیں، تو کئیوں سے انسان اسی وقت فرار ہو جاتا ہے۔ مزاج داں ملے نہ ملے سفر کا سارا مزہ دوسروں کو جاننے میں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راستے میں ایک پہاڑی چشمہ&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راستے میں ایک پہاڑی چشمہ— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="چلو اب گھر چلیں، دن جا رہا ہے۔&amp;mdash; سید مہدی بخاری" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چلو اب گھر چلیں، دن جا رہا ہے۔— سید مہدی بخاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بمبوریت میں ایک اور شام ڈھلنے لگی تو وہیں کہیں شاخِ سبز کی چھاؤں میں بیٹھ رہا۔ پاس چلتے پانیوں سے ٹکرا کر آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے گرمی سے جھُلسے چہرے پر پڑتے اور بالوں کو اڑاتے تو بہت سکون محسوس ہوتا۔ سفر کی شدت کے بعد اسلم انصاری کی نظم "گوتم کا آخری وعظ" دھیان میں گونجنے لگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میرے عزیزو میں جل چکا ہوں &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میرے عزیزو میں بُجھ رہا ہوں&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ميں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آگيا ہوں&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وجود دکھ ہے، وجود کی يہ نمود دکھ ہے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حيات دکھ ہے، ممات دکھ ہے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;يہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دکھ ہے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شعور کيا ہے؟ اک التزامِ وجود ہے، اور وجود کا التزام دکھ ہے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;يہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، يہ اہتمام دکھ ہے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سکوت دکھ ہے، کہ اس کے کربِ عظيم کو کون سہہ سکا ہے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کلام دکھ ہے، کہ کون دنيا ميں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;يہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے،&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میرے عزيزو تمام دکھ ہے!&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے سفرنامے کی سیریز میں نواں مضمون ہے۔ گذشتہ حصے پڑھنے کے لیے &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/authors/1791/syed-mehdi-bukhari"&gt;یہاں&lt;/a&gt; کلک کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396 150w, https://i.dawn.com/large/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396 150w, https://i.dawn.com/primary/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396 150w' sizes='(min-width: 992px)  150px, (min-width: 768px)  150px,  150px' alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			لکھاری پیشے کے اعتبار سے نیٹ ورک انجینیئر ہیں۔ فوٹوگرافی شوق ہے، سفر کرنا جنون ہے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کا فیس بک پیج &lt;a href="https://www.facebook.com/photographybysmbukhari"&gt;یہاں&lt;/a&gt; وزٹ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانسیسی ماہرِ طبیعیات پاسکل نے کہا تھا کہ قدرت ایک لامحدود دائرہ ہے جس کا مرکز ہر جگہ ہے اور محیط کہیں نہیں ہے۔</p>

<p>ڈپریشن دور کرنے کا، اپنے ماحول سے گھبرا کے فرار ہونے کا ایک طریقہ ہے سفر۔ دور دراز کے پہاڑوں کا سفر جہاں آج کے انسان نُما کوئی چیز نہ ہو۔ برف ہو، پہاڑ ہوں، درخت ہوں، اور فضا میں نم زدہ پتوں کی خوشبو پھیلی ہو۔ ایک اخیر قسم کی تنہائی ہو جہاں سانس لیتے کانوں کو خراشیں سنائی دیں۔ پھر ایک وادی ہو جو شام ڈھلے برقی قمقموں کے روشن ہونے سے ٹمٹمانے لگے۔ شام ڈھلے اُفق پر رنگ بکھرے ہوں یا دُھند زدہ سفید منظر ہو، جب دل ہی بہلانا ہے اور وحشت کو پُرسہ دینا ہے تو رنگ کیا اور بے رنگا کیا۔</p>

<p>ٹاپ سے بیٹھ کر وادی میں گزرتی ٹریفک، ان گاڑیوں میں انسان کی نقل و حمل، پوپلر کے درختوں سے سیٹی مار کر گزرتی ٹھنڈی یخ ہوائیں۔ لاوے کی طرح اُبلتا دماغ، اور ایک لمبی سیر پہاڑی راستے پر: فرار ہونے کا اصل نسخہ۔ لوٹ کے واپس آنے پر اپنے ماحول کو، گرد و پیش کو، گھر کو، نوکری کو، سارے معاشرے کو انسان نئی اُمید سے دیکھے کہ شاید اب کی بار کوئی تبدیلی آ جائے۔ اسی اُمید پر تو جیے جاتے ہیں۔ ورنہ پھر سے فرار ہونے کا آسان حل ایک سفر تو ہے ناں۔ بھاگ مسافر بھاگ۔ پہاڑوں کی طرف، جن کے دامن کشادہ ہیں۔ جن پر برف نے سفید چادر بچھا کر ان کی کالی ہولناکی کو ڈھانپ دیا ہے۔ جہاں اپنی ہی آواز اِیکو کرتی ہے۔ چیڑ کے درختوں میں کوا بھی بولے تو کوئل جیسا محسوس ہوتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926d898765c.jpg?r=905428497 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&mdash;سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل—سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>قدرت کو دیکھنے اور اپنے اندر سمونے کی چاہ نے کئی سفر کروائے مگر غذر سے گزرتے ہوئے مجھے لگنے لگا تھا کہ قدرت کا محیط یہیں کہیں ہے۔ سفر کی عادت نے مجھے اندرون و بیرونِ ملک آج تک ایسے ایسے مناظر دکھائے، کہ جن کو یاد کروں تو دل تیز دھڑکنے لگتا ہے۔ دماغ کے پردے پر رنگوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سانسوں میں خوشبو مہکنے لگتی ہے۔ اس سارے بیتے منظروں میں سب سے شوخ رنگے منظر غذر کے ہوتے ہیں۔ مجھے ہمالیہ کے دامن میں بسے دیوسائی کے میدان میں پھیلی ایک انجان مہک، غذر کی فضا میں معطر کستوری سی، اور بارش کے پہلے پہلے قطروں سے اُٹھنے والی گیلی مٹی کی خوشبو سے عشق ہے۔ ان مقامات سے گزرتے ہوئے گہرے سانس بھرنے کی عادت ہے۔ وادی پھنڈر کی دلکشی کو میں نے ایک بارش زدہ گیلی دوپہر میں چھوڑ دیا۔ میری منزل غذر کے بستیوں ٹیرو، گلاغمولی اور لنگر سے ہوتے ہوئے درہ شندور اور اس کے پار چترال میں بسی کالاش کی وادیاں تھیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de9c4b72.jpg?r=2065159187 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="غذر کی خزاں&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">غذر کی خزاں— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925de96e5f4.jpg?r=2014194285 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کہیں وادیء پھنڈر کے پاس&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کہیں وادیء پھنڈر کے پاس— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>راستے میں بارش تھمی تو کافی دیر کو اپنے ہمسفر دریائے غذر کے کناروں پر فوٹوگرافی کرنے میں مشغول رہا۔ جب ٹیرو آیا تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور روشنی اندھیرے میں گھُلتی جاتی تھی۔ پرندوں نے درختوں پر رین بسیرے ڈھونڈنا شروع کر دیے تھے۔ رات کا سکوت چھا جانے سے قبل بستی میں رونق کا دور دورہ تھا۔ کھیتوں سے واپس لوٹتے لوگ، سڑک پر کھیلتے بچے، باتوں میں مصروف نوجوان سرمئی آسمان تلے اب آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے۔ دریا کے بہاؤ میں بھی ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ سارا دن پانی اُچھل اُچھل کر تھک چکے تھے شاید۔ </p>

<p>ٹیرو میں شام اُتر رہی تھی۔ غذر کی آبادیوں پر سائے منڈلانے لگے تھے۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی روشنی سڑک کنارے دونوں اطراف کھڑے پوپلر کے لمبے درختوں کے پیلے پڑتے پتوں کو مزید بھڑکانے لگی۔ پل بھر کو یوں لگنے لگا جیسے ماچس کی تیلیاں قطار اندر قطار جل رہی ہوں۔ دور درہ شندور سے ملحقہ چوٹیوں پر ابھی سورج آخری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ ہندوکش کی چوٹیاں تپی ہوئی دھات جیسی سُرخ نظر پڑتی تھیں۔ </p>

<p>شندور کی سمت سفر کرتے میں سوچ رہا تھا کہ گلگت بلتستان کی سرحد کے پاس پیچھے چھُوٹ جانے والے کیسے کیسے لوگ تھے۔ کیا کیا منظر تھے جو میں دیکھتا آ رہا تھا، جو اب گُل ہو چکے تھے۔ گلگت بلتستان کی حدود ختم ہو رہی تھی۔ کبھی کبھی شام بھی یوں ڈھلتی ہے کہ دل دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے ایسے لمحوں میں یادوں کا بادباں کھُل جائے تو انسان مٹی کا بُت بنا ایک نقطے پر آنکھیں مرکوز کیے رہ جاتا ہے۔</p>

<p>ٹیرو گزرا تو چھوٹی سی بستی گلاغمولی راستے میں آئی۔ بستی میں پنجے پھیلائے اُترتی شام کی انتر ہوُت اداسی پھیلی تھی۔ بچے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ میری نظر گلاغمولی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول کی عمارت پر پڑی تو مجھے بیتے سال کی وہ گھڑیاں یاد آئیں جب میں نے اس اسکول کے اندر قدم رکھا تھا۔ ہنزہ میں موسمِ بہار شروع ہو چکا تھا۔ چیری کے پھول ہر طرف کھِلے تھے۔ میں اپریل کے وسط میں ہنزہ سے ہوتا غذر آ پہنچا تھا۔ میرا ارادہ درہ شندور تک جانے کا تھا مگر یہاں ابھی برفیں نہیں پگھلیں تھیں۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f2550811.jpg?r=589441932 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ٹیرو&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ٹیرو— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f249e2ad.jpg?r=956018904 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گلاغمولی کی بہار&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلاغمولی کی بہار— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f26a58d7.jpg?r=1343238200 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گلاغمولی موسمِ سرما میں&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلاغمولی موسمِ سرما میں— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>چلتے چلتے راہ میں یہ اسکول نظر آیا۔ سردی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی، اور اردگرد کے برف پوش پہاڑوں سے ٹکرا کر ہوائیں وادی کو یخ زدہ کرتی تھیں۔ اسکول کے صحن میں چھوٹے چھوٹے بچے پڑھنے میں مشغول تھے۔ میں نے اسکول کے اندر قدم رکھا اور چند تصویریں لے کر جب اسکول اور بچوں کی حالت پر غور کیا تو دل پسیج گیا۔ اسکول کی دو خواتین اساتذہ نے مجھے میڈیا کا نمائندہ سمجھتے ہوئے اپنی، بچوں اور اسکول کی حالتِ زار سنائی بھی دکھائی بھی۔ </p>

<p>یہ غریب کسانوں کے بچے تھے۔ سردی میں بھی ان کے پاؤں میں ڈھنگ کی جوتی تھی نہ تن پر گرم کپڑے۔ کئیوں کے پاس تو پہننے کو سویٹر تک نہیں تھے مگر علم کی لگن سے سرشار یہ بچے اور ان کے والدین کے حوصلوں کو سلام ہے کہ جس دن میں ٹھٹھر رہا تھا، اس دن بنا گرم جوتوں اور کپڑوں کے یہ ننھے طالبِ علم چہرے پر مُسکان سجائے پڑھنے میں مشغول تھے۔ اسکول کے صحن میں پاکستان کا جھنڈا لگا تھا۔ چاند تارا ہوا میں لہرا رہا تھا اور فرشتے زمین پر گِیان حاصل کر رہے تھے۔ </p>

<p>ایک ٹیچر کے کہنے پر بچوں نے قومی ترانہ اونچی پڑھنا شروع کیا۔ میری نظر ایک بچی پر ٹکی رہی جس کے چہرے پر ایسی معصومیت تھی اور نیلی آنکھوں میں ایسی شرم کہ اس سے نظر ہٹائے نہ ہٹتی تھی۔ قومی ترانہ پڑھتے پڑھتے وہ بچی سب بچوں سے اونچا اچانک بولی "کشورِ حسین شاد باد" تو باقی بچے ترانہ چھوڑ کر کھِلکھِلا کر ہنسنے لگے۔ ان نامساعد حالات اور غربت میں ان بچوں کو علم کی شمع جلائے مُسکراتا دیکھ کر دل سوڈے کی بوتل جیسا کھُل گیا تھا۔ سوڈا تیزی سے اوپر کو چڑھنے لگا۔ اس سے پہلے کے آنکھوں کے بند سیلاب سے ٹوٹ جاتے میں نے دھیان بٹانے کو پہاڑوں کی سمت کیمرا کر کے دھندلے ویوفائنڈر سے تصویر لے لی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f77c1afc.jpg?r=998865751 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="گلاغمولی کا اسکول&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلاغمولی کا اسکول— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55925f7898d6a.jpg?r=1998050602 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسکول سے نکل کر اپنی راہ لیتے سارا راستہ میرے کانوں میں اس کا "کشورِ حسین شاد باد" گونجتا رہا۔ وہی نیلی آنکھوں والی بچی کہ جس کے تن پر گرم کپڑے نہیں تھے مگر چہرے پر گرمجوشی اور آنکھوں میں تمازت تھی۔ جس دن میں اسکول کے بچوں کے لیے کچھ تحائف لے کر کچھ ماہ بعد واپس وہاں پہنچا، اس دن وہ نیلی آنکھوں والی بچی اسکول نہیں آئی تھی۔ مجھے اس کا نام پتہ تو معلوم نہیں تھا، اس لیے میرے منہ سے نکلا: "وہ کشورِ حسین شاد باد کدھر گئی؟"۔ </p>

<p>پھیلتی شام کے دھندلکے میں اسکول گذرا۔ گلاغمولی کی بستی پیچھے چھوٹ گئی۔ جیپ آگے بڑھتی گئی۔ لنگر کے قریب سڑک نے موڑ کاٹا تو بہت نیچے دریائے غذر کھُلی ہوئی وادی میں پھیلا تاریک سا نظر آیا۔ اسی مقام سے میں نے سردیوں میں جب اسی نظارے کو دیکھا تھا تو میرے منہ سے اچانک نکلا تھا "یاک سرائے"۔ وادی میں دریائے غذر کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ سینکڑوں یاک چر رہے تھے۔ پہاڑ برف سے ڈھکے تھے اور دور سے یاک متحرک نقطے لگتے تھے۔ اس دن بھی وادی میں خاموشی گونج رہی تھی اور آج بھی پھیلتی تاریکی میں وادی گہری چُپ میں تھی۔ لنگر سے گزرتے ایک پہاڑی نالے کا پُل عبور کیا تو نیچے پانیوں میں شفق کی سُرخی اُتر آئی تھی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025d357e.jpg?r=614442204 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لنگر کے قریب&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لنگر کے قریب— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926025f3982.jpg?r=1419686899 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لنگر&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لنگر— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926026aa58c.jpg?r=1053255395 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592603cd97cf.jpg?r=238864260 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="یاک گھاس چر رہے ہیں۔&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">یاک گھاس چر رہے ہیں۔— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>چوٹیوں سے دھوپ اُتری تو شام کے دھندلکے میں چاند پر نظر پڑی۔ چاند بھی کیسا پورا چاند۔ چکور اور مسافر کے لیے ایسا چاند مرگ آثار کشش رکھتا ہے۔ خانہ بدوشوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ پاس سے گزرا، اور مرد نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ میں اس قافلے کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ اندھیرے میں گُم نہیں ہو گیا۔ درہ شندور قریب آتا جا رہا تھا، اور کچھ دیر میں درے کی چڑھائیاں شروع ہونے والی تھیں۔ سردی میں اضافہ ہونے لگا۔ پانیوں کی آواز کہیں پیچھے رہ گئی۔ جیپ کی ہیڈ لائیٹس جلنے لگیں۔ انشاء کی غزل اسپیکروں پر گونجی</p>

<p>چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے؟</p>

<p>چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے اے میرے اچھے انشأ چاند</p>

<p>درہ شندور کی چڑھائیاں ختم ہونے تک رات سُرمئی آنچل کی طرح پھیل چُکی تھی۔ نومبر کا آغاز تھا۔ شدید سردی نے لپیٹ میں لے لیا۔ شندور پر واقع فوجی چوکیوں میں مکمل تاریکی چھائی تھی۔ ان کے سامنے پہاڑی ڈھلوان پر اکلوتا ایک کمرے کا ہوٹل ہے جو نیٹکو بسوں کے مسافروں کا اسٹاپ ہے، جدھر مسافر کچھ دیر رُک کر چائے پیتے اور پھر بس میں بیٹھ کر اپنی منزل کی سمت چل پڑتے ہیں۔ گندے سے ہوٹل کا بوڑھا مالک لانگ کوٹ اور مفلر سے چہرہ لپیٹ کر باہر نکلا تو مجھے ہالی وڈ کا ڈراؤنا فلمی کردار لگا۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610befc24.jpg?r=590007107 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور کے قریب&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">درہ شندور کے قریب— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610786fd0.jpg?r=858229421 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور کے قریب&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">درہ شندور کے قریب— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610b45c39.jpg?r=2112741924 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">درہ شندور— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592610bd64ad.jpg?r=309955474 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="درہ شندور میں رات&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">درہ شندور میں رات— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کمرے کے اندر چولہا گرم تھا جس کی وجہ سے کمرے کے اندر کا ماحول انتہائی آرام دہ لگا۔ شب بسری کو وہیں ٹھکانہ بنا لیا۔ ساری رات بوڑھا اپنے قصے سناتا رہا۔ سنتے سنتے مجھے کب نیند آ گئی پتہ نہیں چلا۔ صبح صادق کو آنکھ کھُلی تو میں شندور جھیل کی فوٹوگرافی کرنے باہر نکل گیا۔ درجہ حرارت منفی تھا۔ اُفق پر ہلکی پو پھٹنے لگی تھی۔ نیلی سی روشنی چہار سُو پھیلی تھی۔ سردی نے مجھے جکڑ لیا تھا۔ چلتے چلتے شندور کے پولو گراؤنڈ سے گزرا تو مجھے وہ دن یاد آگئے جب شندور پولو فیسٹیول دیکھنے یہاں آیا کرتا تھا۔</p>

<p>شندور پولو فیسٹول ہر سال سات سے نو جولائی تک منعقد ہوتا ہے۔ 12,200 فٹ کی بلندی پر واقع شندور دنیا کی سب سے بلند پولو گراؤنڈ ہے۔ یہاں آکسیجن کی کمی سے سانس بھی ٹھیک نہیں آتا، مگر گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں نے اس ویرانے میں دیدہ زیب کھیل رچا رکھا ہے۔ ہر سال گلگت اور چترال کی پولو ٹیموں کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوتا ہے اور جیتنے والے پورا ہفتہ فتح کا جشن مناتے رہتے ہیں۔ </p>

<p>پولو کے لیے گھوڑوں کو خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ عام گھوڑا اتنی بلندی پر پولو نہیں کھیل سکتا۔ یہ خاص نسل کے تربیت یافتہ گھوڑے بھی کئی بار کھیلتے کھیلتے حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ جس دن پہلی بار میں شندور پولو میلہ دیکھنے پہنچا سارے میدان میں دُھول بھری تھی۔ مٹی کی غبار نے آسمان تک کو دھندلا دیا تھا۔ میلے پر درہ شندور بالکل روایتی میلوں جیسا لگ رہا تھا۔ جا بجا ٹینٹ لگے تھے جن میں لوگ رہائش پذیر تھے، قدم قدم پر دکانیں سجی تھیں، جنریٹروں کا شور تھا اور لوگوں کی چہل پہل۔ ہنسی قہقہے فضا میں بکھرے تھے اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں، ساری رات رونق لگی رہتی۔ </p>

<p>گلگت بلتستان اور چترال کے کونے کونے سے لوگ میلہ دیکھنے پہنچتے ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے یہ وادیاں سرشار ہیں، ویرانوں میں رونق ہے، جنہوں نے برفانی ہواؤں میں جینا سیکھا ہے اور باقی دنیا سے کٹ کر رہنے کا ہُنر جانا ہے۔ گلگت بلتستان کی سرزمینوں میں، کہیں سنگلاخ پہاڑوں میں، کہیں خوبانیوں اور سیب کے باغوں میں ان ہی لوگوں کے ہونے سے زندگی ہے۔ ان ہی سے زندگی کی دشواریوں اور پریشانیوں نے ہار مانی ہے۔ ان کی صدیاں یوں گزریں کہ نہ تن پر اچھا لباس نہ کھانے کو اچھا کھانا، نہ پیروں میں جوتے نہ تعلیم نہ علاج۔ ایسی سختیوں میں بھی یہی لوگ تھے جو خدا کا نام لے کر گھوڑوں کی پشت پر بیٹھتے تھے اور پولو کھیلتے تھے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620d93363.jpg?r=1389510366 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e7e66b.jpg?r=1624155520 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620e75b44.jpg?r=1201291278 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592620cd6f89.jpg?r=243351716 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو فیسٹیول&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور پولو فیسٹیول— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پولو دیکھنے والے یہ سخت جان لوگ داد تحسین کے ایسے نعرے بلند کرتے کہ کھلاڑیوں کے سر پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی زیادہ بلند ہو جایا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ حالات میں تبدیلی تو آئی، تعلیم عام ہوئی، شرح خواندگی میں زبردست اضافہ ہُوا، لوگوں کا معیارِ زندگی قدرے بہتر ہُوا، شعور اس معاشرے میں اُجاگر ہُوا، مگر آج بھی یہ لوگ اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ ویسے میں اُن کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف وہی نہیں ساری پاکستانی عوام بھی اپنے آئینی حقوق سے محروم ہے۔ کاغذوں میں لکھے ہوئے مقدس صحیفے یعنی آئین پاکستان کا نفاذ اہلِ وطن پر آج تک اپنی اصل روح کے مطابق نہیں ہُوا۔ اب اس پولو گراؤنڈ پر ویرانی چھائی تھی۔ ایک مدھم سی نیلی روشنی آسمان پر پھیلی تھی۔ پولو گراؤنڈ کو نیلاہٹ اوڑھے سُنسان دیکھ کر دل بوجھل ہونے لگا۔ وہ مقامات جو رونق میں انسان نے دیکھے ہوں اُن کو ایسا ویران و سنسان دیکھ کو دل خود ہی بیٹھ جاتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592628e272ed.jpg?r=491026788 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور پولو گراؤنڈ رات میں&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور پولو گراؤنڈ رات میں— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جب سورج نے پربت اُجالا تو کرنیں جھیل کے پانیوں پر جھلمل کرتی دِکھنے لگیں۔ پہاڑ کی اوٹ سے خورشید نے ایسے جھانکا جیسے دیکھنا چاہ رہا ہو کہ شندور جھیل کے پانی خاموش سوئے ہوئے ہیں یا لہروں میں ہلچل ہے۔ کیمرے کا شٹر گرا۔ کناروں پر جمی برف آہستہ آہستہ کرنوں کی تمازت سے پگھلنے لگی۔ شبنم کے قطرے برف کی پتلی شفاف تہہ پر ٹھہرتے، اور پھر ٹوٹ کر بہہ جاتے۔ </p>

<p>دھوپ کی پیلاہٹ نیلے پانیوں میں گہری اُترنے لگی۔ شندور میں صبح اُتری تو دھوپ کی پہلی کرنیں میرے چہرے پر پڑیں اور پھر بالوں پر پڑی اوس پگھلنے لگی تو نمی پلکوں کے اوپر محسوس ہونے لگی۔ صبح صادق سے میں جھیل کے کنارے کھڑا تصویریں لے رہا تھا۔ سردی کی وجہ سے چہرے اور بالوں پر اوس کے قطرے جم چکے تھے جو اب پگھل رہے تھے۔ پلکوں کو آدھ موند کر میں نے سورج کو دیکھا تو جھیل میں بیدار ہوتی لہروں نے آگے بڑھ کر اپنے یخ پانیوں سے میرے جوتے بھگو دیے۔ شندور کی ایک ٹھنڈی صبح مجھے ایک عرصے تک سلگاتی رہی، جب تک میں پھر سے واپس شندور نہیں پہنچ گیا، کسی اور سال، کسی اور موسم میں کسی اور سمت کا ارادہ لیے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592632d67075.jpg?r=1338090255 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633150efc.jpg?r=396583496 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926332a1eca.jpg?r=1074418339 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592633246cf2.jpg?r=589204186 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>درہ شندور کو چھوڑا تو شدید قسم کی اُترائی شروع ہوئی۔ کانوں پر دباؤ پڑتا تو جیپ کے انجن کی آواز گندم پیسنے والی چکی جیسی بھاری سی سنائی پڑتی۔ میرا ڈرائیور مجھ سے کچھ کہتا تو کچھ پَلے نہ پڑتا، میں بس مُسکرا کے سر ہلا دیتا۔ اُترائیاں ختم ہوئیں تو سورلاسپور کی بستی نے استقبال کیا۔ بچوں نے سڑک کے کنارے حیرت زدہ ہو کر انگلیاں دانتوں میں داب لیں تو عورتوں نے گھونگھٹ نکال لیے۔ شرمیلی ہنسی نے لاسپور کی فضا کو مہکا دیا۔ بونی قصبے کے آنے تک کمر ٹوٹ چکی تھی۔ یہ کچی اور خستہ جیپ سڑک تھی جس پر قدم قدم پر شدید جھٹکے لگتے تھے۔ مستوج سے ہوتے ہوئے چترال پہنچنے تک رات ہو رہی تھی۔ میں اس سفر کی شدت سے اور سر و کمر کے درد سے نڈھال ہو چکا تھا۔ شب بسری کو چترال میں ہی ٹھکانہ ڈھونڈ لیا۔</p>

<p>ہندوکش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع چترال قیام پاکستان کے وقت ریاست چترال کے نام سے مشہور تھا۔ اور ریاست چترال ماضی میں برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ تھی۔ یہ ریاست چترال کی ساری وادیوں اور ضلع غذر پر مشتمل تھی جن پر برطانوی ایجنٹ نگران تھا اور چترال کے مہتر ان کے نمائندے تھے۔ چترال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جس ریاست نے  سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، وہ چترال کی ریاست تھی۔ اس ریاست نے غیرمشروط پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c5da14b.jpg?r=857220900 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل پر پیراگلائیڈنگ&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل پر پیراگلائیڈنگ— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263c7317ee.jpg?r=133339820 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سردی سے جم چکی شندور جھیل&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سردی سے جم چکی شندور جھیل— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cce108e.jpg?r=1897678703 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل پر طلوعِ آفتاب&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل پر طلوعِ آفتاب— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559263cc7b072.jpg?r=1217106497 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور جھیل پر غروبِ آفتاب&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور جھیل پر غروبِ آفتاب— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس ریاست کا بادشاہ ہوتا تھا جسے چترال میں بولی جانے والی زبان کھوار میں میتار اور اردو میں مہتر کہا جاتا تھا۔ چترال کی آبادی 5 لاکھ کے قریب ہے۔ ضلع چترال کی سات تحصیلیں ہیں۔ چمبر کن، دارکوت، اور بروغل چترال کے مشہور درے ہیں۔ شندور، قزیدہ، چاں تار، یارخون، اور بروغل مشہور جھیلیں ہیں۔ ارکاری، لاسپور، تورکھو اہم گلیشئر جبکہ لاسپور، مولکہو، بمبوریت، لٹ کہو چترال کے مشہور دریا ہیں اور یہ تمام دریا، دریائے چترال میں جا گرتے ہیں۔ چترال کے مشرقی جانب گلگت، سوات اور یاسین کے علاقے، مغربی جانب بدخشاں، چین اور روس جبکہ جنوبی کی طرف سے درہ لواری اور دیر کے علاقے واقع ہیں۔ مستوج سے ایک ذیلی پتھریلی سڑک تاجکستان جا نکلتی ہے۔ کالاش کے نالے سے ایک راستہ افغانستان کا صوبہ نورستان کو لگتا ہے۔</p>

<p>ہوٹل میں پڑے پڑے ساری رات مجھے یاد آتا رہا جب گرمیوں کی ایک صبح میں اسی مقام پر وارد ہوا تھا اور اسی بستر پر لیٹا تھا جہاں اب سرد رات میں رضائی میں دبکا بیٹھا تھا۔ وہ شدید گرمی کے دن تھے۔ میں پنجاب کی لُو سے گھبرا کر چترال چلا آیا تھا، مگر یہاں پہنچ کر بھی گرمی نے جان نہیں چھوڑی تھی البتہ اس کی شدت ویسی نہیں رہی تھی۔ </p>

<p>اُس صبح میری منزل کالاش کی وادی بمبوریت تھی۔ کالاش، کہ جس کو زمانہ قدیم میں کافرستان بھی کہا جاتا تھا، کے مقامی لوگوں کے عقائد و مخصوص کالے لباس کی وجہ سے اس علاقے کو کافرستان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ مقامی باشندے خود کو سکندرِ اعظم کی اولاد مانتے ہیں اور اپنا تعلق یونان سے جوڑتے ہیں۔ راہ میں وادی ایون کی جھلک بلندی سی دکھائی پڑی۔ سرسبز کھیت پہاڑی ڈھلوانوں پر لہرا رہے تھے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592649de265c.jpg?r=1548967488 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="وادیء ایون&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وادیء ایون— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559264ed7b539.jpg?r=1408788153 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شندور اور بونی کے درمیان&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شندور اور بونی کے درمیان— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926530e3111.jpg?r=1161111814 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کالاشی بچے&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کالاشی بچے— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265316cd31.jpg?r=1969294891 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کالاشی لڑکی&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کالاشی لڑکی— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کالاش تک کی سڑک پتھریلی ناہموار ہے جس کے ساتھ ساتھ نیچے کہیں جھاگ اڑاتا تیز بہتا پتھروں سے ٹکراتا کالاش کا دریا چلتا ہے۔ چترال سے تقریباً دو گھنٹے کا سفر کر کے بمبوریت پہنچ گیا۔ بمبوریت کالاش کا صدرمقام ہے۔ کالاش تین وادیوں بمبوریت، رومبور، اور بریر پر مشتمل ہے۔ انوکھی رسومات اور انتہائی منفرد و دلچسپ تہواروں کی سرزمین کالاش کے صدر مقام بمبوریت پہنچا تو سورج سر پر آن کھڑا تھا۔ </p>

<p>مکئی کے سرسبز شاداب کھیت ہر طرف پھیلے تھے جن کے کناروں پر شفاف ٹھنڈا پانی نالیوں کی صورت میں بہتا تھا۔ کالاشی لڑکیاں اور عورتیں اپنے مخصوص کالے لباس میں جھنڈ بنا کر درختوں کے سائے تلے براجمان تھیں۔ بزرگ اور جوان دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھے تھے یا ٹہل رہے تھے۔ ٹھنڈی چھاؤں قدم قدم پر میسر آ جاتی۔ ساری وادی با رونق اور سرسبز تھی۔ بلندی سے گرتے پانی تھے جن کا مصرف نالیاں بنا کر کھیتوں کو سیراب کرنا تھا۔ ایک سکوت اور سکون سا وادی میں ٹھہرا تھا اور اردگرد کالے پہاڑ واحد دہشت کا سامان تھے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b468eba.jpg?r=235509581 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="کالاشی لڑکیاں&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کالاشی لڑکیاں— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b470cf3.jpg?r=101246428 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بمبوریت— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265b5d36e0.jpg?r=456184430 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بمبوریت— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہاں بل کھاتے پانی کی نالیوں، مکئی کے لہلاتے کھیتوں، کھیتوں میں جگہ جگہ پرندوں کو ڈرانے کے لیے کھڑے لکڑی کے سیاہ لباس اوڑھے پُتلوں، اور مکئی کی سوندھی سی خوشبو بکھیرتی فضاؤں نے مجھے سحرزدہ کر دیا تھا۔ روایتی ٹوپیاں پہنی نوعمر بچیاں، دروازوں پر کھڑی بوڑھی کالاشی عورتیں، اور سیاحوں کے منتظر کالاشی مرد اَدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے۔ </p>

<p>میں سارا دن بمبوریت کی گلیوں میں پیدل چلتا رہا۔ پرانی طرز تعمیر کے لکڑی کے دو اور تین منزلہ مکانات تھے، جن کی کھڑکیوں سے سیپیوں کی نیلی مالائیں پہنے اور سر پر رنگین ٹوپیاں جمائے لڑکیاں جھانکتیں، اور کھِلکھلا کر ہنسنے لگتیں۔ جب سر اُٹھا کر اُن کی طرف دیکھتا تو شرما کر کھڑکیاں بند ہو جاتیں۔ مرد دکھائی پڑتے جو کمر اور کاندھوں پر بوجھ اُٹھائے چل رہے ہوتے۔ کچھ عورتیں جانوروں کے چارے کے لیے مکئی کے بڑے بڑے پتوں کا بنڈل بنا کر سر پر اٹھائے نظر پڑتیں۔ کہیں کہیں بچے کھیل تماشے میں مصروف ملتے۔ میں جب ان سے بات کرنا چاہتا تو انہیں سمجھ نہ آتی، اور وہ آگے سے سر ہلا دیتے یا ہاتھ سے بائے بائے کا اشارہ کرنے لگتے۔ کبھی کبھی  ’’ایش پاتا‘‘ بولتے۔ مجھے مقامی لڑکے نے بتایا کہ یہ آپ کی خیریت پوچھتے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559265301243c.jpg?r=1108078885 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/5592652f86e05.jpg?r=910764702 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>دن ڈھلنے لگا۔ وادی میں بہتے پانیوں کا شور مزید واضح سنائی دینے لگا۔ لوگوں کی نقل و حمل گھٹنے لگی۔ کالاش کی اس وادی میں پہنچنے تک میری جِلد سورج کی تمازت سے جھُلس چُکی تھی۔ دریا کے کنارے بیٹھے اس کے کناروں پر کھڑے پانیوں میں اپنا عکس واضح نظر آ رہا تھا۔ ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا جو مجھے پھر سے ناسٹالجیا کا شکار کر گیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926610ad5ed.jpg?r=2110613966 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بمبوریت— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266111064a.jpg?r=1282467833 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بمبوریت— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926615c3bd1.jpg?r=1736326246 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بمبوریت— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926616565d1.jpg?r=1206677297 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بمبوریت&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بمبوریت— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اب جب میں زندگی کی بتیس خزائیں دیکھ چکا ہوں، کبھی آئینے میں اپنی صورت دیکھوں تو سر کے بالوں میں چاندی اُترنے لگی ہے۔ ان سفید ہوتے بالوں اور سیاہ پڑتی آنکھوں، جذبات کی مدھم ہوتی لَو، اور گم گشتہ رشتوں کے بیچ ایسے کھڑا ہوں جیسے مسافر آدھے سفر کے بعد کسی سرائے میں کچھ دیر کو ٹھہرے اور پھر باقی آدھے سفر کی تیاری کرنے لگے۔ </p>

<p>اگر انسان کی اوسط عمر ساٹھ سال ہے تو آدھی گزر چکی (بالیقیں حیات و موت کا مالک جب چاہے قصہ تمام کر دے)۔ مسافر مڑ کے دیکھنا بھی چاہے تو پیچھے راستوں پر گردباد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ دُھول مٹی کا طوفان ہے جیسے کچے راستے سے گزر کر سواری اپنے پیچھے گرد مٹی کا طوفان چھوڑ جاتی ہے۔ اسی گردباد میں کئی دوست، رشتے، ماں باپ، اور عزیز مٹی اوڑھ کر سو چکے ہیں۔</p>

<p>زندگی کے اب تک کے سفر میں کیسے کیسے نقش مٹ چکے ہیں۔ دوست ہنگامہ روز و شب میں فکرِ معاش لیے دور جا بسے ہیں۔ اچھے سے اچھے کی تلاش میں، لائف اسٹائل کو پر تعیش بنانے کی چاہ میں دوست بچھڑتے جاتے ہیں اور میں اپنی دُھن میں اپنے شوق کے پیچھے کئی سالوں سے سرگرداں ہوں۔ نوکر پیشہ اتنا ہی سفر کرتا ہے جتنا اس کی زنجیرِ پا کرنے دیتی ہے، پر پھر بھی کوشش کی کہ ہر زنجیر توڑ کے بھاگوں چاہے کچھ دنوں کے لیے ہی سہی۔ </p>

<p>تصویر کشی یا مصوری ایک ثانوی فن ہے، اصل تو سفر ہے جو انسان کو شعور بخشتا ہے۔ دوسروں کے بارے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ کئی کہانیاں سنائی دیتی ہیں، کئی رسم و رواج دکھائی دیتے ہیں۔ کئی ہمسفر ہمیشہ یاد رہتے ہیں، تو کئیوں سے انسان اسی وقت فرار ہو جاتا ہے۔ مزاج داں ملے نہ ملے سفر کا سارا مزہ دوسروں کو جاننے میں ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/559266642b653.jpg?r=2043230064 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راستے میں ایک پہاڑی چشمہ&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راستے میں ایک پہاڑی چشمہ— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907 500w, https://i.dawn.com/large/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/06/55926663b62a0.jpg?r=1659875907 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="چلو اب گھر چلیں، دن جا رہا ہے۔&mdash; سید مہدی بخاری" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چلو اب گھر چلیں، دن جا رہا ہے۔— سید مہدی بخاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بمبوریت میں ایک اور شام ڈھلنے لگی تو وہیں کہیں شاخِ سبز کی چھاؤں میں بیٹھ رہا۔ پاس چلتے پانیوں سے ٹکرا کر آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے گرمی سے جھُلسے چہرے پر پڑتے اور بالوں کو اڑاتے تو بہت سکون محسوس ہوتا۔ سفر کی شدت کے بعد اسلم انصاری کی نظم "گوتم کا آخری وعظ" دھیان میں گونجنے لگی۔</p>

<p>میرے عزیزو میں جل چکا ہوں </p>

<p>میرے عزیزو میں بُجھ رہا ہوں</p>

<p>ميں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آگيا ہوں</p>

<p>وجود دکھ ہے، وجود کی يہ نمود دکھ ہے</p>

<p>حيات دکھ ہے، ممات دکھ ہے</p>

<p>يہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دکھ ہے</p>

<p>شعور کيا ہے؟ اک التزامِ وجود ہے، اور وجود کا التزام دکھ ہے</p>

<p>يہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، يہ اہتمام دکھ ہے</p>

<p>سکوت دکھ ہے، کہ اس کے کربِ عظيم کو کون سہہ سکا ہے</p>

<p>کلام دکھ ہے، کہ کون دنيا ميں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے</p>

<p>يہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے،</p>

<p>میرے عزيزو تمام دکھ ہے!</p>

<hr />

<p>یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے سفرنامے کی سیریز میں نواں مضمون ہے۔ گذشتہ حصے پڑھنے کے لیے <a href="http://www.dawnnews.tv/authors/1791/syed-mehdi-bukhari">یہاں</a> کلک کریں۔</p>

<hr />

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396 150w, https://i.dawn.com/large/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396 150w, https://i.dawn.com/primary/2015/04/55377deb7974f.jpg?r=1936274396 150w' sizes='(min-width: 992px)  150px, (min-width: 768px)  150px,  150px' alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			لکھاری پیشے کے اعتبار سے نیٹ ورک انجینیئر ہیں۔ فوٹوگرافی شوق ہے، سفر کرنا جنون ہے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کا فیس بک پیج <a href="https://www.facebook.com/photographybysmbukhari">یہاں</a> وزٹ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1023199</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jun 2022 09:40:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید مہدی بخاری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/06/5592680479b74.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/06/5592680479b74.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
