<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 18:50:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 18:50:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title> اسمبلی اراکین کی &amp;rsquo;حاضری&amp;lsquo; تک رسائی کی اجازت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1023732/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستانی عوام کو ان کے منتخب کردہ نمائندوں کی قومی اسمبلی میں ’حاضری‘ تک رسائی کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے گذشتہ کئی عرصے سے تعطل کی شکار ایک درخواست کو نامنظور کردیا گیا ہے، جس میں درخواست کی گئی تھی کہ عوام کو قومی اسمبلی کے منتخب اراکین کی حاضری تک رسائی فراہم نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیشن ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلداٹ) ’تھنک ٹینک‘ کی جانب سے قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں کی حاضری کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا جسے قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ نے دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے ارکان قومی اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی قرار دیا اور وفاقی محتسب کو اکتوبر 2013 میں اس کے خلاف ایک درخواست دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مذکورہ درخواست میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کے منتخب اراکین کے لیے آئین کے آرٹکل 66 اور 67 اراکین کو استحقاق اور حقوق فراہم کرتے ہیں کہ وہ قوانین بنانے کے لیے ہاؤس میں اپنا کام جاری رکھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;گذشتہ پیر صدارتی سیکریٹریٹ کے لیگل ڈائریکٹر نے درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ بات نوٹ کی کہ قومی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کی حاضری کا ریکارڈ ’نجی یا ذاتی نہیں‘ اور ’عوامی دائرہ اختیار‘ میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;گذشتہ ہفتے 6 جولائی کو صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’عوام کو ان معلومات کی رسائی سے روکنا جمہوری اقدار کا حصہ نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 66 بنیادی طور پر ایوان کے فلور پر تقاریر کے لیے ایک رکن پارلیمنٹ کو استثنیٰ اور مراعات دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 67 ایوان میں کارروائی کے حوالے سے انضباط کارروائی کے ڈھانچوں سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ پلداٹ نے اُس وقت وفاقی محتسب کو یہ شکایت کی تھی کہ پارلیمنٹیرینز کی حاضری کی معلومات تک رسائی اطلاعات کی آزادی کے آرڈیننس  برائے 2002 کی شق 15، 18 کے دائرکار سے باہر نہیں ہے اور اس کے تحت پاکستانی شہریوں کی تنظیم پلداٹ کو عوامی نمائندوں کی قومی اسمبلی میں حاضری کی معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ صدارتی سیکریٹریٹ کے حکم نامے میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو 15 روز میں معلومات مذکورہ ’تھنک ٹینک‘ کو فراہم کرنے کی ہدایات بھی کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پنجاب کی صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ اپنی ویب سائیٹ پر اسمبلی کے منتخب نمائندوں کی حاضری کا ریکارڈ باقاعدگی سے شائع کرتی ہے۔   &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستانی عوام کو ان کے منتخب کردہ نمائندوں کی قومی اسمبلی میں ’حاضری‘ تک رسائی کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔</p><p>صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے گذشتہ کئی عرصے سے تعطل کی شکار ایک درخواست کو نامنظور کردیا گیا ہے، جس میں درخواست کی گئی تھی کہ عوام کو قومی اسمبلی کے منتخب اراکین کی حاضری تک رسائی فراہم نہ کی جائے۔</p><p>پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیشن ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلداٹ) ’تھنک ٹینک‘ کی جانب سے قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں کی حاضری کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا جسے قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ نے دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے ارکان قومی اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی قرار دیا اور وفاقی محتسب کو اکتوبر 2013 میں اس کے خلاف ایک درخواست دی تھی۔</p><p>مذکورہ درخواست میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کے منتخب اراکین کے لیے آئین کے آرٹکل 66 اور 67 اراکین کو استحقاق اور حقوق فراہم کرتے ہیں کہ وہ قوانین بنانے کے لیے ہاؤس میں اپنا کام جاری رکھیں۔</p><p>گذشتہ پیر صدارتی سیکریٹریٹ کے لیگل ڈائریکٹر نے درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ بات نوٹ کی کہ قومی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کی حاضری کا ریکارڈ ’نجی یا ذاتی نہیں‘ اور ’عوامی دائرہ اختیار‘ میں آتا ہے۔</p><p>گذشتہ ہفتے 6 جولائی کو صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’عوام کو ان معلومات کی رسائی سے روکنا جمہوری اقدار کا حصہ نہیں ہے‘۔</p><p>صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 66 بنیادی طور پر ایوان کے فلور پر تقاریر کے لیے ایک رکن پارلیمنٹ کو استثنیٰ اور مراعات دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 67 ایوان میں کارروائی کے حوالے سے انضباط کارروائی کے ڈھانچوں سے متعلق ہے۔</p><p>یاد رہے کہ پلداٹ نے اُس وقت وفاقی محتسب کو یہ شکایت کی تھی کہ پارلیمنٹیرینز کی حاضری کی معلومات تک رسائی اطلاعات کی آزادی کے آرڈیننس  برائے 2002 کی شق 15، 18 کے دائرکار سے باہر نہیں ہے اور اس کے تحت پاکستانی شہریوں کی تنظیم پلداٹ کو عوامی نمائندوں کی قومی اسمبلی میں حاضری کی معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔</p><p>واضح رہے کہ صدارتی سیکریٹریٹ کے حکم نامے میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو 15 روز میں معلومات مذکورہ ’تھنک ٹینک‘ کو فراہم کرنے کی ہدایات بھی کی گئی ہیں۔</p><p>پنجاب کی صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ اپنی ویب سائیٹ پر اسمبلی کے منتخب نمائندوں کی حاضری کا ریکارڈ باقاعدگی سے شائع کرتی ہے۔   </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1023732</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2015 11:55:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/07/55a0ba978ae79.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/07/55a0ba978ae79.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
