<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:32:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:32:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رام کوٹ: آزاد کشمیر کا ایک گمنام قلعہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1023760/12july2015-ramkot-fort-the-crumbling-giant-of-azad-kashmir-aown-ali-bm</link>
      <description>&lt;p&gt;سولہویں اور سترہویں صدی میں کشمیر کے مسلمان حکمرانوں نے کئی قلعے تعمیر کروائے، جن میں سے ایک رامکوٹ قلعہ بھی ہے، جو اب منگلا جھیل سے گھرا ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;قلعہ جہلم اور پونچھ دریاؤں کے سنگم پر ایک اونچی پہاڑی پر قائم ہے، جہاں سے چمکدار نیلے پانیوں کا نظارہ بہت دیدہ زیب لگتا ہے۔ اپنے غیر معمولی طور پر منفرد طرزِ تعمیر کی بناء پر رام کوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔ منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا یہ قلعہ شاید اسی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;قلعے تک پہنچنے کے لیے آپ کو منگلا ڈیم پر واٹر اسپورٹس کلب سے ایک کشتی میں بیٹھنا ہوگا، اور تقریباً 10 منٹ کے سفر کے بعد آپ جھیل کے شمالی حصے میں پہنچ جائیں گے۔ یہاں آپ کو ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک عظیم الشان قلعہ دکھائی دے گا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;تھوڑی، لیکن کھڑی چڑھائی کے بعد آپ قلعے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ماضی میں اس کا یہ پیچیدہ محلِ وقوع اس کے لیے کافی فائدہ مند رہا ہوگا، لیکن آج کل یہی محلِ وقوع اس کی علیحدگی اور تنہائی کی وجہ بن گیا ہے۔ شاید اس کی دوری اور مشکل خطے کی وجہ سے منگلا جھیل کے دوسرے حصوں کی بہ نسبت کم ہی لوگ یہاں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591eceec5c34.jpg?r=1414375488'  alt='تھوڑی، لیکن کھڑی چڑھائی کے بعد آپ قلعے تک پہنچ جاتے ہیں۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					تھوڑی، لیکن کھڑی چڑھائی کے بعد آپ قلعے تک پہنچ جاتے ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecee6312f.jpg?r=390758354'  alt='اپنے غیر معمولی طور پر منفرد طرزِ تعمیر کی بناء پر رامکوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					اپنے غیر معمولی طور پر منفرد طرزِ تعمیر کی بناء پر رامکوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;نہ ہی آزاد جموں و کشمیر حکومت، اور نہ ہی وفاقی حکومت (جو منگلا ڈیم کا انتظام سنبھالتی ہے) اس ورثے کی بحالی اور دیکھ بھال میں کوئی دلچسپی رکھتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ویسے تو قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;مثال کے طور پر مرکزی راستہ، جسے بہترین حکمتِ عملی کے تحت ہر زاویے پر فائرنگ کے لیے چوکیوں کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ یہ قلعہ بند حصے میں جانے اور باہر آنے کا واحد راستہ ہے۔ فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں بنائی گئی ہیں، جو یقیناً توپوں کو پوزیشن میں لانے کے لیے استعمال ہوا کرتی ہوں گی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پانی کے تالابوں کے بارے میں مؤرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecefab538.jpg?r=371159578'  alt='قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہیں۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef7b997b4.jpg?r=2083575078'  alt='فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں، توپوں کے لیے کنگرے، اور بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں، توپوں کے لیے کنگرے، اور بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecfbc8b15.jpg?r=711853643'  alt='فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں بنائی گئی ہیں، جو یقیناً توپوں کو پوزیشن میں لانے کے لیے استعمال ہوا کرتی ہوں گی۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں بنائی گئی ہیں، جو یقیناً توپوں کو پوزیشن میں لانے کے لیے استعمال ہوا کرتی ہوں گی۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef7f2e29d.jpg?r=834243978'  alt='کشمیر کے 1841 کے ایرو اسمتھ نقشے میں اس قلعے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					کشمیر کے 1841 کے ایرو اسمتھ نقشے میں اس قلعے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;قلعہ 90 کی دہائی کے اواخر تک بھی نظرانداز کردہ تھا، جب اسلام آباد کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہمالین وائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر انیس الرحمان پہلی بار مچھلی پکڑنے کے لیے منگلا آئے، اور رام کوٹ تک آ پہنچے۔ ڈاکٹر انیس الرحمان نے مجھے بتایا کہ جس دن وہ پہلی بار یہاں آئے، اس دن یہ مکمل طور پر تباہ حال اور پہنچ سے باہر تھا، جبکہ مٹی کے ڈھیر اور جھاڑیوں نے قلعے کے انچ انچ کو چھپا رکھا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecf16adec.jpg?r=1134310221'  alt='منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا یہ قلعہ شاید سولہویں صدی کے دوسرے نصف میں تعمیر کیا گیا تھا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا یہ قلعہ شاید سولہویں صدی کے دوسرے نصف میں تعمیر کیا گیا تھا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f1ade7c3e.jpg?r=1634183661'  alt='بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecefd35d0.jpg?r=1113926503'  alt='مؤرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مؤرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecf6d938c.jpg?r=347772199'  alt='قلعہ 90 کی دہائی کے اواخر تک بھی نظرانداز کردہ تھا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					قلعہ 90 کی دہائی کے اواخر تک بھی نظرانداز کردہ تھا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;ڈاکٹر رحمان نے وفاقی وزارتِ آثارِ قدیمہ سے رابطہ کیا تو حیران کن طور پر پایا کہ وزارت کے پاس قلعے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر قلعے کی بحالی میں مدد کی پیشکش کی، اور سرکاری اجازت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس مشن میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے پروفیسر عبدالرحمان اور ماہرِینِ تعمیرات سہیل اکبر خان اور راجہ خالد نے بھی حصہ لیا، اور ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد وہ کھنڈرات سے ایک زبردست قلعہ سامنے لانے میں کامیاب رہے۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecfa8924b.jpg?r=1194182560'  alt='اکٹر انیس الرحمان جس دن پہلی بار یہاں آئے، اس دن یہ مکمل طور پر تباہ حال اور پہنچ سے باہر تھا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					اکٹر انیس الرحمان جس دن پہلی بار یہاں آئے، اس دن یہ مکمل طور پر تباہ حال اور پہنچ سے باہر تھا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;مرکزی داخلی دروازے پر چھت اور دروازہ لگائے گئے، پانی کے تالابوں سے مٹی صاف کی گئی، جھاڑیاں، جن میں بڑی تعداد میں سانپ جمع تھے، صاف کی گئیں، اور پرانی توپوں کو کنگروں پر نصب کیا گیا۔ ڈاکٹر انیس الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے پاک فوج سے رابطہ کیا، جس نے کوئٹہ سے منگوائی گئی پرانی طرز کی دو توپیں فراہم کیں، تاکہ انہیں قلعے پر (نمائشی طور پر) نصب کیا جا سکے۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef7e42447.jpg?r=1817881857'  alt='پاک فوج کی فراہم کردہ توپیں اب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئی ہیں۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					پاک فوج کی فراہم کردہ توپیں اب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئی ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;دیگر کئی تاریخی ورثوں کی طرح رامکوٹ کی تعمیر کے حوالے سے بھی کئی کہانیاں موجود ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک قدیم ہندو شیو مندر پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اس کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اس بات میں شک کرنا مشکل ہے کہ یہ سولہویں صدی کی تعمیر ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سیف الرحمان ڈار کے مطابق یہ قلعہ کیونکہ مظفر آباد قلعے جیسا ہی ہے، اس لیے اس بات کا کافی امکان موجود ہے کہ یہ سولہویں صدی کے پہلے نصف میں تعمیر کیا گیا ہوگا، جبکہ فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں، توپوں کے لیے کنگرے، اور بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آزاد کشمیر کے دیگر قلعوں (جیسے منگلا، مظفر آباد، بڑجن، اور تھروچھی) کی طرح رام کوٹ قلعہ تاریخی ریکارڈز میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتا۔ کشمیر کے 1841 کے ایرو اسمتھ نقشے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن مشہور سفری مصنف سلمان رشید کے مطابق مہاراجہ کشمیر کے مقرر کردہ ماہرِ ارضیات فریڈریک ڈریو 1875 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The Jummoo and Kashmir Territories: A Geographical Account میں رامکوٹ قلعہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ڈریو کے مطابق توگلو نامی ایک گکھر نے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا، جبکہ گکھروں کے بعد یہ ڈوگروں کے زیرِ تسلط چلا گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f1841106e.jpg?r=1113363868'  alt='ماہرِ ارضیات فریڈرک ڈریو نے اپنی کتاب میں رامکوٹ قلعے پر روشنی ڈالی ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					ماہرِ ارضیات فریڈرک ڈریو نے اپنی کتاب میں رامکوٹ قلعے پر روشنی ڈالی ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f18306b62.jpg?r=1457849427'  alt='ڈریو کے مطابق توگلو نامی ایک گکھر نے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا، جبکہ گکھروں کے بعد یہ ڈوگروں کے زیرِ تسلط چلا گیا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					ڈریو کے مطابق توگلو نامی ایک گکھر نے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا، جبکہ گکھروں کے بعد یہ ڈوگروں کے زیرِ تسلط چلا گیا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f219076a3.jpg?r=1482983343'  alt='اونچے برجوں نے قلعے کی تسخیر تقریباً ناممکن بنا دی تھی۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					اونچے برجوں نے قلعے کی تسخیر تقریباً ناممکن بنا دی تھی۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;گذشتہ دہائی سے رامکوٹ قلعہ تباہی کے راستے پر تیزی سے گامزن ہے۔ ڈاکٹر انیس الرحمان نے جو بحالی کا کام کیا تھا، وہ روز مرہ کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اپنا زیادہ تر اثر کھو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 2005 کے زلزلے میں بھی اس قلعے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ آزاد جموں و کشمیر حکام کی غفلت بھی اس کی ذمہ دار ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر اسے مکمل طور پر بحال کر کے یہاں ضروری سہولیات دستیاب کردی جائیں، تو رام کوٹ قلعہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہ بن سکتا ہے جس سے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو خاصی آمدنی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کشمیر کی زمین اور عوام کی تاریخ، ورثے، اور ثقافت میں بھی چار چاند لگا دے گا۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef80b3470.jpg?r=1827116712'  alt='2005 کے زلزلے میں بھی اس قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					2005 کے زلزلے میں بھی اس قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f21803ddd.jpg?r=1335060810'  alt='کہتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک قدیم ہندو شیو مندر پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن موجودہ تعمیر سولہویں صدی کی ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					کہتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک قدیم ہندو شیو مندر پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن موجودہ تعمیر سولہویں صدی کی ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecfc60210.jpg?r=227166156'  alt='منگلا جھیل کے اوپر قائم یہ قلعہ اگر بحال کیا جائے، تو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					منگلا جھیل کے اوپر قائم یہ قلعہ اگر بحال کیا جائے، تو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef87eeb51.jpg?r=1365853985'  alt='اگر قلعے کو بحال کیا جائے، تو آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو کافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					اگر قلعے کو بحال کیا جائے، تو آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو کافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f287afdb9.jpg?r=396914198'  alt='بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;لیکن اگر بڑجن قلعے کی مثال دیکھی جائے تو تحفظ کی امیدیں رکھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم چوہدری عبدالمجید رام کوٹ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع بڑجن قلعے کی حفاظت نہیں کر سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم کے رشتے داروں اور ووٹروں نے اس قلعے کو گرا کر اس کی اینٹیں تک بیچ ڈالیں۔ حکومت کسی قسم کا ایکشن تو کیا لیتی، الٹا صدیوں پرانی پتھر کی اینٹیں سینیئر وزیر اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم کے گھروں کی تعمیر میں کام آئیں۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f2d33ae17.jpg?r=718755452'  alt='قلعے سے منگلا جھیل کا نظارہ۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					قلعے سے منگلا جھیل کا نظارہ۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;hr&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2015/07/55967cbde0110.jpg?r=208254655'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
عون علی لاہور کے رہائشی فوٹو جرنلسٹ ہیں، اور خاص طور پر تاریخی اہمیت کی حامل تعمیرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آپ ان کا کام &lt;a href="http://www.orientalarchitecture.com/"&gt;یہاں&lt;/a&gt; اور &lt;a href="https://www.facebook.com/pages/Built-Heritage-Pakistan/258954637480467"&gt;فیس بک&lt;/a&gt; پر دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سولہویں اور سترہویں صدی میں کشمیر کے مسلمان حکمرانوں نے کئی قلعے تعمیر کروائے، جن میں سے ایک رامکوٹ قلعہ بھی ہے، جو اب منگلا جھیل سے گھرا ہوا ہے۔ </p><p>قلعہ جہلم اور پونچھ دریاؤں کے سنگم پر ایک اونچی پہاڑی پر قائم ہے، جہاں سے چمکدار نیلے پانیوں کا نظارہ بہت دیدہ زیب لگتا ہے۔ اپنے غیر معمولی طور پر منفرد طرزِ تعمیر کی بناء پر رام کوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔ منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا یہ قلعہ شاید اسی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ </p><p>قلعے تک پہنچنے کے لیے آپ کو منگلا ڈیم پر واٹر اسپورٹس کلب سے ایک کشتی میں بیٹھنا ہوگا، اور تقریباً 10 منٹ کے سفر کے بعد آپ جھیل کے شمالی حصے میں پہنچ جائیں گے۔ یہاں آپ کو ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک عظیم الشان قلعہ دکھائی دے گا۔ </p><p>تھوڑی، لیکن کھڑی چڑھائی کے بعد آپ قلعے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ماضی میں اس کا یہ پیچیدہ محلِ وقوع اس کے لیے کافی فائدہ مند رہا ہوگا، لیکن آج کل یہی محلِ وقوع اس کی علیحدگی اور تنہائی کی وجہ بن گیا ہے۔ شاید اس کی دوری اور مشکل خطے کی وجہ سے منگلا جھیل کے دوسرے حصوں کی بہ نسبت کم ہی لوگ یہاں آتے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591eceec5c34.jpg?r=1414375488'  alt='تھوڑی، لیکن کھڑی چڑھائی کے بعد آپ قلعے تک پہنچ جاتے ہیں۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					تھوڑی، لیکن کھڑی چڑھائی کے بعد آپ قلعے تک پہنچ جاتے ہیں۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecee6312f.jpg?r=390758354'  alt='اپنے غیر معمولی طور پر منفرد طرزِ تعمیر کی بناء پر رامکوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					اپنے غیر معمولی طور پر منفرد طرزِ تعمیر کی بناء پر رامکوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔</figcaption>
				</figure><p>نہ ہی آزاد جموں و کشمیر حکومت، اور نہ ہی وفاقی حکومت (جو منگلا ڈیم کا انتظام سنبھالتی ہے) اس ورثے کی بحالی اور دیکھ بھال میں کوئی دلچسپی رکھتی ہے۔ </p><p>ویسے تو قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہیں۔ </p><p>مثال کے طور پر مرکزی راستہ، جسے بہترین حکمتِ عملی کے تحت ہر زاویے پر فائرنگ کے لیے چوکیوں کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ یہ قلعہ بند حصے میں جانے اور باہر آنے کا واحد راستہ ہے۔ فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں بنائی گئی ہیں، جو یقیناً توپوں کو پوزیشن میں لانے کے لیے استعمال ہوا کرتی ہوں گی۔ </p><p>پانی کے تالابوں کے بارے میں مؤرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecefab538.jpg?r=371159578'  alt='قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہیں۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہیں۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef7b997b4.jpg?r=2083575078'  alt='فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں، توپوں کے لیے کنگرے، اور بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں، توپوں کے لیے کنگرے، اور بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecfbc8b15.jpg?r=711853643'  alt='فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں بنائی گئی ہیں، جو یقیناً توپوں کو پوزیشن میں لانے کے لیے استعمال ہوا کرتی ہوں گی۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں بنائی گئی ہیں، جو یقیناً توپوں کو پوزیشن میں لانے کے لیے استعمال ہوا کرتی ہوں گی۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef7f2e29d.jpg?r=834243978'  alt='کشمیر کے 1841 کے ایرو اسمتھ نقشے میں اس قلعے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					کشمیر کے 1841 کے ایرو اسمتھ نقشے میں اس قلعے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔</figcaption>
				</figure><p>قلعہ 90 کی دہائی کے اواخر تک بھی نظرانداز کردہ تھا، جب اسلام آباد کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہمالین وائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر انیس الرحمان پہلی بار مچھلی پکڑنے کے لیے منگلا آئے، اور رام کوٹ تک آ پہنچے۔ ڈاکٹر انیس الرحمان نے مجھے بتایا کہ جس دن وہ پہلی بار یہاں آئے، اس دن یہ مکمل طور پر تباہ حال اور پہنچ سے باہر تھا، جبکہ مٹی کے ڈھیر اور جھاڑیوں نے قلعے کے انچ انچ کو چھپا رکھا تھا۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecf16adec.jpg?r=1134310221'  alt='منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا یہ قلعہ شاید سولہویں صدی کے دوسرے نصف میں تعمیر کیا گیا تھا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا یہ قلعہ شاید سولہویں صدی کے دوسرے نصف میں تعمیر کیا گیا تھا۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f1ade7c3e.jpg?r=1634183661'  alt='بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecefd35d0.jpg?r=1113926503'  alt='مؤرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مؤرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecf6d938c.jpg?r=347772199'  alt='قلعہ 90 کی دہائی کے اواخر تک بھی نظرانداز کردہ تھا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					قلعہ 90 کی دہائی کے اواخر تک بھی نظرانداز کردہ تھا۔</figcaption>
				</figure><p>ڈاکٹر رحمان نے وفاقی وزارتِ آثارِ قدیمہ سے رابطہ کیا تو حیران کن طور پر پایا کہ وزارت کے پاس قلعے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر قلعے کی بحالی میں مدد کی پیشکش کی، اور سرکاری اجازت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ </p><p>اس مشن میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے پروفیسر عبدالرحمان اور ماہرِینِ تعمیرات سہیل اکبر خان اور راجہ خالد نے بھی حصہ لیا، اور ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد وہ کھنڈرات سے ایک زبردست قلعہ سامنے لانے میں کامیاب رہے۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecfa8924b.jpg?r=1194182560'  alt='اکٹر انیس الرحمان جس دن پہلی بار یہاں آئے، اس دن یہ مکمل طور پر تباہ حال اور پہنچ سے باہر تھا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					اکٹر انیس الرحمان جس دن پہلی بار یہاں آئے، اس دن یہ مکمل طور پر تباہ حال اور پہنچ سے باہر تھا۔</figcaption>
				</figure><p>مرکزی داخلی دروازے پر چھت اور دروازہ لگائے گئے، پانی کے تالابوں سے مٹی صاف کی گئی، جھاڑیاں، جن میں بڑی تعداد میں سانپ جمع تھے، صاف کی گئیں، اور پرانی توپوں کو کنگروں پر نصب کیا گیا۔ ڈاکٹر انیس الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے پاک فوج سے رابطہ کیا، جس نے کوئٹہ سے منگوائی گئی پرانی طرز کی دو توپیں فراہم کیں، تاکہ انہیں قلعے پر (نمائشی طور پر) نصب کیا جا سکے۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef7e42447.jpg?r=1817881857'  alt='پاک فوج کی فراہم کردہ توپیں اب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئی ہیں۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					پاک فوج کی فراہم کردہ توپیں اب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئی ہیں۔</figcaption>
				</figure><p>دیگر کئی تاریخی ورثوں کی طرح رامکوٹ کی تعمیر کے حوالے سے بھی کئی کہانیاں موجود ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک قدیم ہندو شیو مندر پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اس کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اس بات میں شک کرنا مشکل ہے کہ یہ سولہویں صدی کی تعمیر ہے۔ </p><p>ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سیف الرحمان ڈار کے مطابق یہ قلعہ کیونکہ مظفر آباد قلعے جیسا ہی ہے، اس لیے اس بات کا کافی امکان موجود ہے کہ یہ سولہویں صدی کے پہلے نصف میں تعمیر کیا گیا ہوگا، جبکہ فصیلوں کے ساتھ ڈھلوانیں، توپوں کے لیے کنگرے، اور بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔ </p><p>آزاد کشمیر کے دیگر قلعوں (جیسے منگلا، مظفر آباد، بڑجن، اور تھروچھی) کی طرح رام کوٹ قلعہ تاریخی ریکارڈز میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتا۔ کشمیر کے 1841 کے ایرو اسمتھ نقشے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن مشہور سفری مصنف سلمان رشید کے مطابق مہاراجہ کشمیر کے مقرر کردہ ماہرِ ارضیات فریڈریک ڈریو 1875 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The Jummoo and Kashmir Territories: A Geographical Account میں رامکوٹ قلعہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ڈریو کے مطابق توگلو نامی ایک گکھر نے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا، جبکہ گکھروں کے بعد یہ ڈوگروں کے زیرِ تسلط چلا گیا۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f1841106e.jpg?r=1113363868'  alt='ماہرِ ارضیات فریڈرک ڈریو نے اپنی کتاب میں رامکوٹ قلعے پر روشنی ڈالی ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					ماہرِ ارضیات فریڈرک ڈریو نے اپنی کتاب میں رامکوٹ قلعے پر روشنی ڈالی ہے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f18306b62.jpg?r=1457849427'  alt='ڈریو کے مطابق توگلو نامی ایک گکھر نے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا، جبکہ گکھروں کے بعد یہ ڈوگروں کے زیرِ تسلط چلا گیا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					ڈریو کے مطابق توگلو نامی ایک گکھر نے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا، جبکہ گکھروں کے بعد یہ ڈوگروں کے زیرِ تسلط چلا گیا۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f219076a3.jpg?r=1482983343'  alt='اونچے برجوں نے قلعے کی تسخیر تقریباً ناممکن بنا دی تھی۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					اونچے برجوں نے قلعے کی تسخیر تقریباً ناممکن بنا دی تھی۔</figcaption>
				</figure><p>گذشتہ دہائی سے رامکوٹ قلعہ تباہی کے راستے پر تیزی سے گامزن ہے۔ ڈاکٹر انیس الرحمان نے جو بحالی کا کام کیا تھا، وہ روز مرہ کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اپنا زیادہ تر اثر کھو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 2005 کے زلزلے میں بھی اس قلعے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ آزاد جموں و کشمیر حکام کی غفلت بھی اس کی ذمہ دار ہے۔</p><p>اگر اسے مکمل طور پر بحال کر کے یہاں ضروری سہولیات دستیاب کردی جائیں، تو رام کوٹ قلعہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہ بن سکتا ہے جس سے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو خاصی آمدنی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کشمیر کی زمین اور عوام کی تاریخ، ورثے، اور ثقافت میں بھی چار چاند لگا دے گا۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef80b3470.jpg?r=1827116712'  alt='2005 کے زلزلے میں بھی اس قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					2005 کے زلزلے میں بھی اس قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f21803ddd.jpg?r=1335060810'  alt='کہتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک قدیم ہندو شیو مندر پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن موجودہ تعمیر سولہویں صدی کی ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					کہتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک قدیم ہندو شیو مندر پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن موجودہ تعمیر سولہویں صدی کی ہے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ecfc60210.jpg?r=227166156'  alt='منگلا جھیل کے اوپر قائم یہ قلعہ اگر بحال کیا جائے، تو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					منگلا جھیل کے اوپر قائم یہ قلعہ اگر بحال کیا جائے، تو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591ef87eeb51.jpg?r=1365853985'  alt='اگر قلعے کو بحال کیا جائے، تو آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو کافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					اگر قلعے کو بحال کیا جائے، تو آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو کافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f287afdb9.jpg?r=396914198'  alt='بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					بندوقچیوں کے لیے تنگ سوراخ تب بنائے گئے جب یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔</figcaption>
				</figure><p>لیکن اگر بڑجن قلعے کی مثال دیکھی جائے تو تحفظ کی امیدیں رکھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ </p><p>آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم چوہدری عبدالمجید رام کوٹ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع بڑجن قلعے کی حفاظت نہیں کر سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم کے رشتے داروں اور ووٹروں نے اس قلعے کو گرا کر اس کی اینٹیں تک بیچ ڈالیں۔ حکومت کسی قسم کا ایکشن تو کیا لیتی، الٹا صدیوں پرانی پتھر کی اینٹیں سینیئر وزیر اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم کے گھروں کی تعمیر میں کام آئیں۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/06/5591f2d33ae17.jpg?r=718755452'  alt='قلعے سے منگلا جھیل کا نظارہ۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					قلعے سے منگلا جھیل کا نظارہ۔</figcaption>
				</figure><hr>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/medium/2015/07/55967cbde0110.jpg?r=208254655'  alt='' /></div>
				</figure>
عون علی لاہور کے رہائشی فوٹو جرنلسٹ ہیں، اور خاص طور پر تاریخی اہمیت کی حامل تعمیرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔</p><p>آپ ان کا کام <a href="http://www.orientalarchitecture.com/">یہاں</a> اور <a href="https://www.facebook.com/pages/Built-Heritage-Pakistan/258954637480467">فیس بک</a> پر دیکھ سکتے ہیں۔</p><hr>
<p>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1023760</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Dec 2015 00:35:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عون علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/07/55a165b24dcc0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/07/55a165b24dcc0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
