<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:18:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:18:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بش سینیئر زخمی ہوگئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1023977/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے سابق صدر جارج ایچ ڈبلیو بش، پولینڈ میں واقع اپنے گھر میں چہل قدمی کے دوران اچانک گر پڑے، جس سے ان کی گردن میں فریکچر ہوگیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بش سینیئر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے اور انھیں ہسپتال سے جلد گھر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;91 سالہ سابق امریکی صدر کے ترجمان جم میک گراتھ نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ گرنے کے باعث بش سینئر کی گردن میں فریکچر آگیا ہے۔&lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full  media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
			&lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%"&gt;
				&lt;a href="https://twitter.com/jgm41/status/621502300113145857"&gt;&lt;/a&gt;
			&lt;/blockquote&gt;
&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
			&lt;/table&gt;
&lt;p&gt; میک گراتھ نے مزید کہا کہ اب ان کی حالت بہتر ہے تاہم ان کو گردن کے گرد کور کا استعمال کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;امریکا کے سابق صدر کو پولینڈ میں قائم مائن میڈیکل سینٹر میں علاج کے لیے لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہسپتال کے ترجمان ماٹ پاؤل کا کہنا ہے کہ سابق صدر بش کو بدھ کے روز ہسپتال لایا گیا تھا، وہ رات بھر ہسپتال میں رہے ہیں اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کو ہسپتال سے کب ڈسچارج کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;امریکا کے 41 ویں صدر بش، اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں ایک ہفتے تک سانس کی بیماری کے باعث ہوسٹن کے ہسپتال میں زیرِعلاج رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بش سینئر رونالڈ ریگن کے دور حکومت میں 8 سال تک نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کے علاوہ وہ اقوام متحدہ کے سفیر، امریکی سفیر برائے چین اور سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر بھی مقرر رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بش سینیئر جنگ عظیم دوم میں پائلٹ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے سابق صدر جارج ایچ ڈبلیو بش، پولینڈ میں واقع اپنے گھر میں چہل قدمی کے دوران اچانک گر پڑے، جس سے ان کی گردن میں فریکچر ہوگیا۔</p><p>غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بش سینیئر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے اور انھیں ہسپتال سے جلد گھر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔</p><p>91 سالہ سابق امریکی صدر کے ترجمان جم میک گراتھ نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ گرنے کے باعث بش سینئر کی گردن میں فریکچر آگیا ہے۔</p>			<table class='media  issue1144 w-full  media--uneven'>
				<tr><td class='media__item    media__item--twitter  '>
			<blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%">
				<a href="https://twitter.com/jgm41/status/621502300113145857"></a>
			</blockquote>
</td></tr>
				
			</table>
<p> میک گراتھ نے مزید کہا کہ اب ان کی حالت بہتر ہے تاہم ان کو گردن کے گرد کور کا استعمال کرنا ہوگا۔</p><p>امریکا کے سابق صدر کو پولینڈ میں قائم مائن میڈیکل سینٹر میں علاج کے لیے لے جایا گیا۔</p><p>ہسپتال کے ترجمان ماٹ پاؤل کا کہنا ہے کہ سابق صدر بش کو بدھ کے روز ہسپتال لایا گیا تھا، وہ رات بھر ہسپتال میں رہے ہیں اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کو ہسپتال سے کب ڈسچارج کیا جائے گا۔</p><p>امریکا کے 41 ویں صدر بش، اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں ایک ہفتے تک سانس کی بیماری کے باعث ہوسٹن کے ہسپتال میں زیرِعلاج رہے تھے۔</p><p>ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بش سینئر رونالڈ ریگن کے دور حکومت میں 8 سال تک نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے۔</p><p>اس کے علاوہ وہ اقوام متحدہ کے سفیر، امریکی سفیر برائے چین اور سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر بھی مقرر رہے۔</p><p>بش سینیئر جنگ عظیم دوم میں پائلٹ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1023977</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2015 13:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/07/55a76873d94a6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/07/55a76873d94a6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
