<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:07:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:07:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہندوستان: 5 سال میں 20 جنگی طیارے تباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1024720/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہندوستان میں لڑاکا طیاروں کے پائلیٹ کی ناقص تربیت کے باعث گذشتہ 5 سال کے دوران انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) کے 20 لڑاکا طیارے تباہ ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.indiatimes.com/news/india/20-fighter-plane-crashes-in-5-years-did-indian-air-force-train-pilots-poorly-243756.html"&gt;انڈیا ٹائمز کے مطابق&lt;/a&gt; آئی اے ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگی طیاروں کے حادثات میں اضافے کی وجہ ’پائلٹ ٹرینگ پر سمجھوتہ ہے۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہندوستانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی ایئرفورس کو پائلیٹس کی ابتدائی تربیت کے لیے ماہر ٹرینرز کی بھی کمی کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہندوستان کی وزارت دفاع کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان کے مجموعی طور پر 20 لڑاکا طیارے جن میں 3 سوکھائی، 12 مگ اور 5 زگوار طیارے شامل ہیں گذشتہ 5 سال حادثے کا شکار ہوچکے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;حکام کی جانب سے مگ طیاروں کے حادثے میں اضافے کی وجہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کی روس سے خریداری بتائی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کے مطابق لڑکا طیاروں کے حادثے میں اضافے کی وجہ انسانی غلطی ہے جو کہ 97-1991 میں 41 فیصد تھی جبکہ 13-2010 میں یہ 51 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دہلی میں ہندوستانی ایئر فورس کے ترجمان ونگ کمانڈر ایس ایس بردی کا کہنا تھا کہ لڑکا طیاروں کو حادثات سے بچانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دہایوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حادثات میں کمی آئی ہے انھوں نے بتایا کہ 80-1971 میں 29 حادثات ہوئے، 90-1981 کے دوران 31 حادثات ہوئے 2000-1991 کے دوران 27 جبکہ 10-2001 کے دوران 17 حادثات ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہندوستان میں لڑاکا طیاروں کے پائلیٹ کی ناقص تربیت کے باعث گذشتہ 5 سال کے دوران انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) کے 20 لڑاکا طیارے تباہ ہوچکے ہیں۔</p><p><a href="http://www.indiatimes.com/news/india/20-fighter-plane-crashes-in-5-years-did-indian-air-force-train-pilots-poorly-243756.html">انڈیا ٹائمز کے مطابق</a> آئی اے ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگی طیاروں کے حادثات میں اضافے کی وجہ ’پائلٹ ٹرینگ پر سمجھوتہ ہے۔‘</p><p>ہندوستانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی ایئرفورس کو پائلیٹس کی ابتدائی تربیت کے لیے ماہر ٹرینرز کی بھی کمی کا سامنا ہے۔</p><p>ہندوستان کی وزارت دفاع کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان کے مجموعی طور پر 20 لڑاکا طیارے جن میں 3 سوکھائی، 12 مگ اور 5 زگوار طیارے شامل ہیں گذشتہ 5 سال حادثے کا شکار ہوچکے ہیں۔ </p><p>حکام کی جانب سے مگ طیاروں کے حادثے میں اضافے کی وجہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کی روس سے خریداری بتائی ہے۔</p><p>کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کے مطابق لڑکا طیاروں کے حادثے میں اضافے کی وجہ انسانی غلطی ہے جو کہ 97-1991 میں 41 فیصد تھی جبکہ 13-2010 میں یہ 51 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔</p><p>دہلی میں ہندوستانی ایئر فورس کے ترجمان ونگ کمانڈر ایس ایس بردی کا کہنا تھا کہ لڑکا طیاروں کو حادثات سے بچانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔</p><p>ترجمان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دہایوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حادثات میں کمی آئی ہے انھوں نے بتایا کہ 80-1971 میں 29 حادثات ہوئے، 90-1981 کے دوران 31 حادثات ہوئے 2000-1991 کے دوران 27 جبکہ 10-2001 کے دوران 17 حادثات ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1024720</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2015 14:09:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/08/55c080679024b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/08/55c080679024b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/08/55c08067d092f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/08/55c08067d092f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
