<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 17:02:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 17:02:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سائنس کا اڈہ: نئے آفاق کی تلاش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1025059/11aug2015-science-ka-adda-a-new-world-again-bm</link>
      <description>&lt;p&gt;پلوٹو کو 1930 میں دریافت کیا گیا تھا، لیکن بے پناہ فاصلے، اور اس کی انتہائی چھوٹی جسامت کے باعث سائنسدانوں کے لیے اس کے خدوخال کے بارے میں جاننا ممکن نہ تھا. لہٰذا امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2006 میں ایک خلائی جہاز نیو ہورائزنز لانچ کیا، جس کا مقصد اربوں کلومیٹر دور موجود بونے سیارے پلوٹو کی تصاویر لینا، اور اس سے آگے کے علاقے کی جانچ کرنا تھا. &lt;/p&gt;&lt;p&gt;14 جولائی 2015 کو نیو ہورائزنز پلوٹو کے قریب سے گزرا، اور یوں پہلی بار سائنسدانوں اور عوام کو پلوٹو کی واضح اور قریبی تصاویر دیکھنے کو ملیں. ان تصاویر میں پلوٹو پر پہاڑ اور کھائیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں. جبکہ نائیٹروجن آئیس کے میدان بھی دیکھے گئے ہیں. &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آئیں نیو ہورائزنز مشن اور پلوٹو کے بارے میں ہم مزید باتیں ڈاکٹر سلمان حمید سے جانتے ہیں: &lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item    media__item--vimeo  '&gt;&lt;iframe src='http://player.vimeo.com/video/135756960' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
			&lt;/table&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پلوٹو کو 1930 میں دریافت کیا گیا تھا، لیکن بے پناہ فاصلے، اور اس کی انتہائی چھوٹی جسامت کے باعث سائنسدانوں کے لیے اس کے خدوخال کے بارے میں جاننا ممکن نہ تھا. لہٰذا امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2006 میں ایک خلائی جہاز نیو ہورائزنز لانچ کیا، جس کا مقصد اربوں کلومیٹر دور موجود بونے سیارے پلوٹو کی تصاویر لینا، اور اس سے آگے کے علاقے کی جانچ کرنا تھا. </p><p>14 جولائی 2015 کو نیو ہورائزنز پلوٹو کے قریب سے گزرا، اور یوں پہلی بار سائنسدانوں اور عوام کو پلوٹو کی واضح اور قریبی تصاویر دیکھنے کو ملیں. ان تصاویر میں پلوٹو پر پہاڑ اور کھائیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں. جبکہ نائیٹروجن آئیس کے میدان بھی دیکھے گئے ہیں. </p><p>آئیں نیو ہورائزنز مشن اور پلوٹو کے بارے میں ہم مزید باتیں ڈاکٹر سلمان حمید سے جانتے ہیں: </p>			<table class='media  issue1144 w-full  '>
				<tr><td class='media__item    media__item--vimeo  '><iframe src='http://player.vimeo.com/video/135756960' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></td></tr>
				
			</table>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1025059</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2015 15:40:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سائنس کا اڈہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/08/55c9cf76a2db2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="360" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/08/55c9cf76a2db2.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
