<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 00:47:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 00:47:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا: ماں کا اپنے ہی 3 بیٹوں کو قتل کرنے کا اعتراف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1025517/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک امریکی خاتون نے گزشتہ 13 ماہ کے دوران مختلف اوقات میں اپنے تین بیٹوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اوہایو سے تعلق رکھنے والی بریٹینی پلکنگٹن نامی اس خاتون نے محض اس لیے اپنے بچوں کو قتل کردیا کیونکہ اس کا شوہر بیٹی کی بجائے لڑکوں پر زیادہ توجہ دیتا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;منگل کو اس خاتون نے 911 کو فون کرکے رپورٹ کی کہ اس کا تین ماہ کا بیٹا نوح سانس نہیں لے رہا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس نے اس کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر تفتیش شروع کردی کیونکہ یہ اس خاتون کے گھر میں ایسا ہی تیسرا واقعہ تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس سے پہلے گزشتہ سال جولائی میں تین ماہ کا بچہ نیال کو اس کے باپ جوزف پلکنگٹن نے گھر پر مردہ پایا تھا اور موت کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسی طرح رواں برس چھ اپریل کو بھی جوزف نے گھر آنے پر اپنے چار سالہ بیٹے کو مردہ دریافت کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بریٹینی کے اعتراف کے بعد اس پر قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ اس خاتون نے دانستہ طور پر اپنے تین بیٹوں کو قتل کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق بریٹینی نے تینوں بیٹوں کو کمبل میں لپیٹ کر ہلاک کیا جس کی وجہ چار سالہ بیٹی کی بجائے بیٹوں پر شوہر کی توجہ زیادہ ہونا تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ اپنی بیٹی کو تحفظ دے رہی تھی جو اس کے خیال میں اپنے باپ کی محبت سے لڑکوں کے باعث محروم ہورہی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ان اموات نے ہمیں بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور ہم مقتولین کے ورثاءاور دوستوں سے تعزیت کرتے ہیں جو اس مشکل وقت میں خاندان کی معاونت کررہے ہیں—اے ایف پی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک امریکی خاتون نے گزشتہ 13 ماہ کے دوران مختلف اوقات میں اپنے تین بیٹوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔</p><p>اوہایو سے تعلق رکھنے والی بریٹینی پلکنگٹن نامی اس خاتون نے محض اس لیے اپنے بچوں کو قتل کردیا کیونکہ اس کا شوہر بیٹی کی بجائے لڑکوں پر زیادہ توجہ دیتا تھا۔</p><p>منگل کو اس خاتون نے 911 کو فون کرکے رپورٹ کی کہ اس کا تین ماہ کا بیٹا نوح سانس نہیں لے رہا۔</p><p>پولیس نے اس کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر تفتیش شروع کردی کیونکہ یہ اس خاتون کے گھر میں ایسا ہی تیسرا واقعہ تھا۔</p><p>اس سے پہلے گزشتہ سال جولائی میں تین ماہ کا بچہ نیال کو اس کے باپ جوزف پلکنگٹن نے گھر پر مردہ پایا تھا اور موت کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا تھا۔</p><p>اسی طرح رواں برس چھ اپریل کو بھی جوزف نے گھر آنے پر اپنے چار سالہ بیٹے کو مردہ دریافت کیا۔</p><p>بریٹینی کے اعتراف کے بعد اس پر قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔</p><p>پولیس کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ اس خاتون نے دانستہ طور پر اپنے تین بیٹوں کو قتل کیا۔</p><p>رپورٹس کے مطابق بریٹینی نے تینوں بیٹوں کو کمبل میں لپیٹ کر ہلاک کیا جس کی وجہ چار سالہ بیٹی کی بجائے بیٹوں پر شوہر کی توجہ زیادہ ہونا تھی۔</p><p>حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ اپنی بیٹی کو تحفظ دے رہی تھی جو اس کے خیال میں اپنے باپ کی محبت سے لڑکوں کے باعث محروم ہورہی تھی۔</p><p>پولیس کا کہنا ہے کہ ان اموات نے ہمیں بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور ہم مقتولین کے ورثاءاور دوستوں سے تعزیت کرتے ہیں جو اس مشکل وقت میں خاندان کی معاونت کررہے ہیں—اے ایف پی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1025517</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Aug 2015 23:08:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/08/55d610bf1278a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/08/55d610bf1278a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
