<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 23:18:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 23:18:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طبلہ اور اس کی جھپ تال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1025562/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا آپ نے کبھی طبلہ سنا ہے ؟ یقینآ کسی ماہر فن کے ہاتھوں اس کی تال موسیقی کے دلدادہ افراد کو جھومنے پر مجبورکرسکتی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ طبلہ سننے میں جتنا مدھر ہے اس کو بنانے کا عمل بھی اتنا ہی دلچسپ ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طبلے کی بنیادی طور پر تین سے چار اقسام ہوتی ہیں۔ چھوٹے طبلے کو دایاں اور بڑے کو بایاں کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ابتدائی طور پر طبلہ رقص و سرور کی محفلوں کے لئے مخصوص تھا لیکن اب کلاسیکل رقص کا جزو لازم ہے۔ طبلہ کو ہندوستانی موسیقی میں مختلف انداز اور طرز پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دور جدید  کے آلات موسیقی میں طبلہ کو نمایاں مقام حاصل ہوچکا ہے جس کے بعد یہ اب بہت بڑے پیمانے پر بجایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طبلہ کو بنایا کیسے جاتا ہے یہ شاید بہت کم لوگ ہی جانتے ہوں گے۔&lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item    media__item--daily-motion  '&gt;&lt;iframe src='http://www.dailymotion.com/embed/video/x32hieh' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
			&lt;/table&gt;
&lt;p&gt;طبلے مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیا جاتا ہے، آم، ششیم، ٹالی کی لکڑی سے تیار کیے جانے والے ڈھول کے سانچے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے طبلہ کا سانچہ تیار کیا جاتا ہے جسے چٹو کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد بکرے کی کھال کو چونا لگا کر پانی میں بھگویا جاتا ہے پھر ہاتھوں سے کھال کے بال کھینچے جاتے ہیں اور پھر رنبی سے کھال کو صاف کرکے سوکھنے کیلئے لکڑی کے تختے پر لگایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کھال سوکھنے کے بعد اس کو طبلے میں گائے کے چمڑے کی مدد سے پرویا جاتا ہے۔  اس عمل کو ملی کہتے ہیں۔ پرونے کا کام سوئے سے کیا جاتا ہے۔ لکڑی کی گٹیاں رکھ کر تسمے سے کس کر طبلے کی آواز بنائی جاتی ہے۔ وٹی کی مدد سے سر کا بھار برابر کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طبلہ بنانے کے آخری مرحلے میں سیاسی لگائی جاتی ہے جس کیلئے زنگ آلود کھوکھلا لوہا پیسا جاتا ہے، اسے چور لوہا بھی کہا جاتا ہے، پیسنے کے بعد اس کو لوہے کی چاردر پر وٹی سے ملا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;میدے اور نیلے تھوتھے سے لیوی بنائی جاتی ہے جس میں سیاہی ملاکر طبلے پر لیپ کیا جاتا ہے، اور پانچ بار لیپ اور رگڑائی کے ساتھ تیاری کے بعد طبلہ دوکانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طبلہ بنانے کا یہ عمل دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مشکل بھی ہے لیکن طبلہ بجانا بھی کوئی آسان کام نہیں.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طبلہ بجانے کے لیے انگلیوں کے پوروں اور ہتھیلیوں کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، طبلہ میں تین سے چار بڑے سُر ہوتے ہیں۔ فن موسیقی میں دل کی حیثیت رکھنے والے طبلے کو بجانے کا ہنر سیکھنے میں برسوں لگ جاتے ہیں.&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا آپ نے کبھی طبلہ سنا ہے ؟ یقینآ کسی ماہر فن کے ہاتھوں اس کی تال موسیقی کے دلدادہ افراد کو جھومنے پر مجبورکرسکتی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ طبلہ سننے میں جتنا مدھر ہے اس کو بنانے کا عمل بھی اتنا ہی دلچسپ ہوتا ہے؟</p><p>طبلے کی بنیادی طور پر تین سے چار اقسام ہوتی ہیں۔ چھوٹے طبلے کو دایاں اور بڑے کو بایاں کہا جاتا ہے۔</p><p>ابتدائی طور پر طبلہ رقص و سرور کی محفلوں کے لئے مخصوص تھا لیکن اب کلاسیکل رقص کا جزو لازم ہے۔ طبلہ کو ہندوستانی موسیقی میں مختلف انداز اور طرز پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دور جدید  کے آلات موسیقی میں طبلہ کو نمایاں مقام حاصل ہوچکا ہے جس کے بعد یہ اب بہت بڑے پیمانے پر بجایا جاتا ہے۔</p><p>طبلہ کو بنایا کیسے جاتا ہے یہ شاید بہت کم لوگ ہی جانتے ہوں گے۔</p>			<table class='media  issue1144 w-full  '>
				<tr><td class='media__item    media__item--daily-motion  '><iframe src='http://www.dailymotion.com/embed/video/x32hieh' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></td></tr>
				
			</table>
<p>طبلے مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیا جاتا ہے، آم، ششیم، ٹالی کی لکڑی سے تیار کیے جانے والے ڈھول کے سانچے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے طبلہ کا سانچہ تیار کیا جاتا ہے جسے چٹو کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد بکرے کی کھال کو چونا لگا کر پانی میں بھگویا جاتا ہے پھر ہاتھوں سے کھال کے بال کھینچے جاتے ہیں اور پھر رنبی سے کھال کو صاف کرکے سوکھنے کیلئے لکڑی کے تختے پر لگایا جاتا ہے۔</p><p>کھال سوکھنے کے بعد اس کو طبلے میں گائے کے چمڑے کی مدد سے پرویا جاتا ہے۔  اس عمل کو ملی کہتے ہیں۔ پرونے کا کام سوئے سے کیا جاتا ہے۔ لکڑی کی گٹیاں رکھ کر تسمے سے کس کر طبلے کی آواز بنائی جاتی ہے۔ وٹی کی مدد سے سر کا بھار برابر کیا جاتا ہے۔</p><p>طبلہ بنانے کے آخری مرحلے میں سیاسی لگائی جاتی ہے جس کیلئے زنگ آلود کھوکھلا لوہا پیسا جاتا ہے، اسے چور لوہا بھی کہا جاتا ہے، پیسنے کے بعد اس کو لوہے کی چاردر پر وٹی سے ملا جاتا ہے۔</p><p>میدے اور نیلے تھوتھے سے لیوی بنائی جاتی ہے جس میں سیاہی ملاکر طبلے پر لیپ کیا جاتا ہے، اور پانچ بار لیپ اور رگڑائی کے ساتھ تیاری کے بعد طبلہ دوکانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔</p><p>طبلہ بنانے کا یہ عمل دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مشکل بھی ہے لیکن طبلہ بجانا بھی کوئی آسان کام نہیں.</p><p>طبلہ بجانے کے لیے انگلیوں کے پوروں اور ہتھیلیوں کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، طبلہ میں تین سے چار بڑے سُر ہوتے ہیں۔ فن موسیقی میں دل کی حیثیت رکھنے والے طبلے کو بجانے کا ہنر سیکھنے میں برسوں لگ جاتے ہیں.</p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1025562</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Aug 2015 19:54:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/08/55d72cad1dd11.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/08/55d72cad1dd11.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
