<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 05:29:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 05:29:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موت تک روزے پر پابندی، جین مت پیروکارسراپا احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1025728/</link>
      <description>&lt;p&gt;جےپور: ہندوستان بھر میں جین مت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے ایک قدیم رسم ’موت تک روزے‘ کے قانونی حق کے لیے احتجاج میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روایتی سفید کُرتا اور شلوار میں ملبوس جین مت کے سینکٹروں پیروکاروں نے ہندوستان کی مغربی ریاست راجستان کی علاقے جے پور میں خاموش مارچ میں حصہ لیا، مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر تحریر تھا کہ ’خود کشی جرم ہے، سانتھارا مذہب ہے۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ راجستان ہائی کورٹ نے رواں ماہ فیصلہ دیا تھا کہ رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی سے موت تک روزہ رکھنا یا سانتھارا کرنا خود کشی کی ایک قسم ہے جو ہندوستانی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جین مت کے رہنما راجندھرا گودھا کا کہنا تھا کہ ’ہمارا پر امن احتجاج ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہے جو انھوں نے روایت کے تصور اور مقاصد کو سمجھے بغیر کیا۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;گوتھا نے مزید کہا کہ پُرامن احتجاج میں ایک لاکھ سے زائد جین مت کے پیروکاروں نے جے پور سے سینکٹروں کلومیٹر تک کا سفر طے کیا اور دن بھر جین مت کے تحت چلنے والے تمام اسکول اور کاروبار بند رکھے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس کے ایڈیشنل نائب کمشنر گینیندرا سنگھ کے مطابق احتجاج کرنے والوں کی تعداد 35 سے 40 ہزار تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسری جانب ایسا ہی ایک احتجاجی مظاہرہ ممبئی میں بھی ہوا، جہاں مذہبی رہنماؤں تقاریر سننے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جےپور: ہندوستان بھر میں جین مت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے ایک قدیم رسم ’موت تک روزے‘ کے قانونی حق کے لیے احتجاج میں حصہ لیا۔</p><p>خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روایتی سفید کُرتا اور شلوار میں ملبوس جین مت کے سینکٹروں پیروکاروں نے ہندوستان کی مغربی ریاست راجستان کی علاقے جے پور میں خاموش مارچ میں حصہ لیا، مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر تحریر تھا کہ ’خود کشی جرم ہے، سانتھارا مذہب ہے۔‘</p><p>واضح رہے کہ راجستان ہائی کورٹ نے رواں ماہ فیصلہ دیا تھا کہ رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی سے موت تک روزہ رکھنا یا سانتھارا کرنا خود کشی کی ایک قسم ہے جو ہندوستانی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔</p><p>جین مت کے رہنما راجندھرا گودھا کا کہنا تھا کہ ’ہمارا پر امن احتجاج ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہے جو انھوں نے روایت کے تصور اور مقاصد کو سمجھے بغیر کیا۔‘</p><p>گوتھا نے مزید کہا کہ پُرامن احتجاج میں ایک لاکھ سے زائد جین مت کے پیروکاروں نے جے پور سے سینکٹروں کلومیٹر تک کا سفر طے کیا اور دن بھر جین مت کے تحت چلنے والے تمام اسکول اور کاروبار بند رکھے گئے۔</p><p>پولیس کے ایڈیشنل نائب کمشنر گینیندرا سنگھ کے مطابق احتجاج کرنے والوں کی تعداد 35 سے 40 ہزار تھی۔</p><p>دوسری جانب ایسا ہی ایک احتجاجی مظاہرہ ممبئی میں بھی ہوا، جہاں مذہبی رہنماؤں تقاریر سننے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1025728</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Aug 2015 11:47:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/08/55dc090a66388.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/08/55dc090a66388.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
