<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:25:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:25:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپاٹ فکسنگ کی کہانی، کب، کیا اور کیسے ہوا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1026015/</link>
      <description>&lt;p&gt;2010 کے بدزمانہ لارڈز ٹیسٹ اور اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کو پانچ برس گزر چکے ہیں لیکن ایک عرصہ گزرنے کے باوجود اسپاٹ فکسنگ کا زخم نہ بھر سکا اور دہشت گردی کی لعنت سے متاثرہ اور ملک میں کرکٹ کھیلنے سے محروم پاکستانی ٹیم اب بھی اس بدنما داغ سے پیچھا چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک ایسے موقع پر جب یہ تینوں کھلاڑی دوبارہ قومی ٹیم میں واپسی کیلئے پر تول رہے ہیں ہم ایک نظر ڈالتے کس طرح یہ واقعات رونما ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;26 اگست 2010&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ٹیم چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا چوتھا ٹیسٹ کھیلنے لارڈز کے تاریخی میدان میں اتری تو انگلینڈ کو سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;28 اگست 2010&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;میچ کے تیسرے برطانوی ٹیبلائیڈ نیوز آف دی ورلڈ نے انکشاف کیا کہ تین پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ ساتھ ان کے ایجنٹ مظہر مجید اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں اور انہوں نے پیسوں کے عوض جان بوجھ کر نوبال کرنے کی حامی بھری۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس انکشاف نے پاکستان سمیت پوری دنیائے کرکٹ پر لرزہ طاری کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;29 اگست 2010&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;اس بدنما اسکینڈل سے دلبرداشتہ پاکستانی ٹیم کو میچ کے چوتھے ہی دن ایک اننگ اور 224 رنز کے بھاری مارجن سے شکست ہوئی اور سیریز 3-1 سے انگلینڈ کے نام رہی لیکن اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے پاکستان کرکٹ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;2 ستمبر 2010&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے تینوں کھلاڑیوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکن ٹھہراتے ہوئے ان کی عارضی طور پر معطلی کے احکامات جاری کیے۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;31 اکتوبر 2010&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;کھلاڑیوں کی جانب سے معطلی کے خلاف درخواست آئی سی سی نے یکسر مسترد کردی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;5 فروری 2011&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;مائیکل بیلوف کی زیر سربراہی آئی سی سی کے ٹریبونل نے جرم ثابت ہونے پر سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کی جس میں سے پانچ سال سزا مشروط طور پر معطل کی گئی، آصف کو سات سال جس میں سے دو سال کی مشروط معطلی شامل تھی جبکہ محمد عامر کو پانچ سال سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;یکم نومبر 2010&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ نے سلمان بٹ اور محمد آصف کو دھوکا دہی اور غیرقانونی طریقے سے رقم وصول کرنے کی سازش کرنے کا مرتکب قرار دیا اور سابق کپتان کو 30 ماہ جبکہ فاسٹ باؤلر کو ایک سال جیل کی سزا سنائی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;عامر نے اسوقت تک عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا لیکن کم عمر ہونے کے سبب انہیں چھ سال کی سزا سناتے ہوئے بچہ جیل بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کے ایجنٹ مظہر مجید کو دو سال آٹھ ماہ جیل کی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;14 اپریل 2013&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;آصف نے اسپاٹ فکسنگ کرنے کا اعتراف کیا جس سے ماضی میں کئی مرتبہ انکار کر چکے تھے، انہوں نے پوری قوم سے ان کے اس جرم پر معاف کرنے کی بھی درخواست کی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;17 اپریل 2013&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;سلمان بٹ اور آصف کھیل کی عالمی ثالثی عدالت میں پابندی کیخلاف کی گئی اپیل میں مقدمہ ہار گئے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;29 جنوری 2015&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے اپنے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کرتے ہوئے عامر کو ڈومیسٹک سطح پر کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;18 جون 2015&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;سلمان بٹ نے تقریباً پانچ سال بعد اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;19 اگست 2015&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے سلمان، آصف اور عامر پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2 ستمبر 2015  سے ہر طرز کی کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;2 ستمبر 2015&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;بٹ اور سلمان بٹ کلب سطح کی کرکٹ کھیلنا شروع کریں گے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>2010 کے بدزمانہ لارڈز ٹیسٹ اور اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کو پانچ برس گزر چکے ہیں لیکن ایک عرصہ گزرنے کے باوجود اسپاٹ فکسنگ کا زخم نہ بھر سکا اور دہشت گردی کی لعنت سے متاثرہ اور ملک میں کرکٹ کھیلنے سے محروم پاکستانی ٹیم اب بھی اس بدنما داغ سے پیچھا چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔</p><p>ایک ایسے موقع پر جب یہ تینوں کھلاڑی دوبارہ قومی ٹیم میں واپسی کیلئے پر تول رہے ہیں ہم ایک نظر ڈالتے کس طرح یہ واقعات رونما ہوئے۔</p><h4>26 اگست 2010</h4>
<p>پاکستانی ٹیم چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا چوتھا ٹیسٹ کھیلنے لارڈز کے تاریخی میدان میں اتری تو انگلینڈ کو سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل تھی۔</p><h4>28 اگست 2010</h4>
<p>میچ کے تیسرے برطانوی ٹیبلائیڈ نیوز آف دی ورلڈ نے انکشاف کیا کہ تین پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ ساتھ ان کے ایجنٹ مظہر مجید اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں اور انہوں نے پیسوں کے عوض جان بوجھ کر نوبال کرنے کی حامی بھری۔</p><p>اس انکشاف نے پاکستان سمیت پوری دنیائے کرکٹ پر لرزہ طاری کردیا۔</p><h4>29 اگست 2010</h4>
<p>اس بدنما اسکینڈل سے دلبرداشتہ پاکستانی ٹیم کو میچ کے چوتھے ہی دن ایک اننگ اور 224 رنز کے بھاری مارجن سے شکست ہوئی اور سیریز 3-1 سے انگلینڈ کے نام رہی لیکن اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے پاکستان کرکٹ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔</p><h4>2 ستمبر 2010</h4>
<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے تینوں کھلاڑیوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکن ٹھہراتے ہوئے ان کی عارضی طور پر معطلی کے احکامات جاری کیے۔</p><h4>31 اکتوبر 2010</h4>
<p>کھلاڑیوں کی جانب سے معطلی کے خلاف درخواست آئی سی سی نے یکسر مسترد کردی۔</p><h4>5 فروری 2011</h4>
<p>مائیکل بیلوف کی زیر سربراہی آئی سی سی کے ٹریبونل نے جرم ثابت ہونے پر سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کی جس میں سے پانچ سال سزا مشروط طور پر معطل کی گئی، آصف کو سات سال جس میں سے دو سال کی مشروط معطلی شامل تھی جبکہ محمد عامر کو پانچ سال سزا سنائی گئی۔</p><h4>یکم نومبر 2010</h4>
<p>لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ نے سلمان بٹ اور محمد آصف کو دھوکا دہی اور غیرقانونی طریقے سے رقم وصول کرنے کی سازش کرنے کا مرتکب قرار دیا اور سابق کپتان کو 30 ماہ جبکہ فاسٹ باؤلر کو ایک سال جیل کی سزا سنائی۔</p><p>عامر نے اسوقت تک عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا لیکن کم عمر ہونے کے سبب انہیں چھ سال کی سزا سناتے ہوئے بچہ جیل بھیج دیا گیا۔</p><p>ان کے ایجنٹ مظہر مجید کو دو سال آٹھ ماہ جیل کی سزا سنائی گئی۔</p><h4>14 اپریل 2013</h4>
<p>آصف نے اسپاٹ فکسنگ کرنے کا اعتراف کیا جس سے ماضی میں کئی مرتبہ انکار کر چکے تھے، انہوں نے پوری قوم سے ان کے اس جرم پر معاف کرنے کی بھی درخواست کی۔</p><h4>17 اپریل 2013</h4>
<p>سلمان بٹ اور آصف کھیل کی عالمی ثالثی عدالت میں پابندی کیخلاف کی گئی اپیل میں مقدمہ ہار گئے۔</p><h6>29 جنوری 2015</h6>
<p>آئی سی سی نے اپنے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کرتے ہوئے عامر کو ڈومیسٹک سطح پر کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی۔</p><h4>18 جون 2015</h4>
<p>سلمان بٹ نے تقریباً پانچ سال بعد اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔</p><h4>19 اگست 2015</h4>
<p>آئی سی سی نے سلمان، آصف اور عامر پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2 ستمبر 2015  سے ہر طرز کی کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔</p><h4>2 ستمبر 2015</h4>
<p>بٹ اور سلمان بٹ کلب سطح کی کرکٹ کھیلنا شروع کریں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1026015</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Aug 2015 17:01:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/08/55e43f2fcc03c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/08/55e43f2fcc03c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
