<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 06:53:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 06:53:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بہاولپور: قتل کے 3 مجرموں کو پھانسی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1026139/</link>
      <description>&lt;p&gt;بہاولپور: نیشنل ایکشن پلان کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جس کے تحت بہاولپور میں 3 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق قتل کے تین مجرموں کی سزاء پر عملدرآمد سینٹرل جیل بہاولپور میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سزائے موت کے قیدی محمد خان کو ذاتی دشمنی پر ایک شخص کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مجرم نے 1995 میں ایک شخص کو قتل کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسی جیل میں قاتل محمد بوٹا اور فقیر محمد کی سزائے موت پر بھی عمل کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محمد بوٹا نے 2003 میں خاتون کو قتل کیا تھا جبکہ فقیر محمد نے 2004 میں ایک لڑکے کو ہلاک کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تمام مجرموں کی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں سے رد کی جا چکی تھیں جبکہ ان کی رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت (13-2008) نے سزائے موت پر غیراعلانیہ پابندی عائد کررکھی تھی تاہم سانحہ پشاور کے بعد اس پر ایک مرتبہ پھر عمل درآمد شروع ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پہلی پھانسی 19 دسمبر 2014 کو فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں 2 مجرموں &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1014000"&gt;عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان اور ارشد مہربان&lt;/a&gt; کو دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; دونوں مجرموں پر سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1018607"&gt;اقوام متحدہ&lt;/a&gt;، &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1022401"&gt;یورپی یونین&lt;/a&gt; اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1014125"&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل&lt;/a&gt; نے پاکستان کی جانب سے سزائے موت کی بحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد سےملک کی مختلف جیلوں میں اب تک 200 کے قریب مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دسمبر 2014 میں حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں اعداد و شمار جمع کروائے گئے تھے جس کے مطابق &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1013907"&gt;پاکستان میں سزائے موت کے7 ہزار 135 قیدی&lt;/a&gt; موجود ہیں، جن میں سے پنجاب کے 6 ہزار 424، سندھ کے 355، خیبر پختونخوا کے 183، بلوچستان کے 79 اور گلگت بلتستان کے 15 سزائے موت کے قیدی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 8 ہزار سے زائد سزائے موت کے قیدی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ دسمبر سے اگست کے دوران ماہ رمضان میں سزائے موت پر عملدر آمد نہیں کیا گیا تھا، البتہ &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1024362"&gt;ماہ رمضان کے بعد سے دوبارہ سزائے موت پر  پابندی ختم&lt;/a&gt; کر دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1020418"&gt;دسمبر سے اپریل کے درمیان 100 افراد کو پھانسی&lt;/a&gt; دی گئی جبکہ اب یہ تعداد 200 کے قریب ہے.&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بہاولپور: نیشنل ایکشن پلان کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جس کے تحت بہاولپور میں 3 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔</p><p>ڈان نیوز کے مطابق قتل کے تین مجرموں کی سزاء پر عملدرآمد سینٹرل جیل بہاولپور میں کیا گیا۔</p><p>سزائے موت کے قیدی محمد خان کو ذاتی دشمنی پر ایک شخص کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔</p><p>مجرم نے 1995 میں ایک شخص کو قتل کیا تھا۔</p><p>اسی جیل میں قاتل محمد بوٹا اور فقیر محمد کی سزائے موت پر بھی عمل کیا گیا۔</p><p>محمد بوٹا نے 2003 میں خاتون کو قتل کیا تھا جبکہ فقیر محمد نے 2004 میں ایک لڑکے کو ہلاک کیا تھا۔</p><p>تمام مجرموں کی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں سے رد کی جا چکی تھیں جبکہ ان کی رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی تھی۔</p><p>واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت (13-2008) نے سزائے موت پر غیراعلانیہ پابندی عائد کررکھی تھی تاہم سانحہ پشاور کے بعد اس پر ایک مرتبہ پھر عمل درآمد شروع ہوا۔</p><p>پہلی پھانسی 19 دسمبر 2014 کو فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں 2 مجرموں <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1014000">عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان اور ارشد مہربان</a> کو دی گئی۔</p><p> دونوں مجرموں پر سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام تھا۔</p><p>خیال رہے کہ <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1018607">اقوام متحدہ</a>، <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1022401">یورپی یونین</a> اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1014125">ایمنسٹی انٹرنیشنل</a> نے پاکستان کی جانب سے سزائے موت کی بحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔</p><p>یاد رہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد سےملک کی مختلف جیلوں میں اب تک 200 کے قریب مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔</p><p>دسمبر 2014 میں حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں اعداد و شمار جمع کروائے گئے تھے جس کے مطابق <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1013907">پاکستان میں سزائے موت کے7 ہزار 135 قیدی</a> موجود ہیں، جن میں سے پنجاب کے 6 ہزار 424، سندھ کے 355، خیبر پختونخوا کے 183، بلوچستان کے 79 اور گلگت بلتستان کے 15 سزائے موت کے قیدی شامل ہیں۔</p><p>دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 8 ہزار سے زائد سزائے موت کے قیدی موجود ہیں۔</p><p>خیال رہے کہ دسمبر سے اگست کے دوران ماہ رمضان میں سزائے موت پر عملدر آمد نہیں کیا گیا تھا، البتہ <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1024362">ماہ رمضان کے بعد سے دوبارہ سزائے موت پر  پابندی ختم</a> کر دی گئی تھی۔</p><p>سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1020418">دسمبر سے اپریل کے درمیان 100 افراد کو پھانسی</a> دی گئی جبکہ اب یہ تعداد 200 کے قریب ہے.</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1026139</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Sep 2015 11:16:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان نیوزویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/09/55e7dbcc584cd.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/09/55e7dbcc584cd.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
