<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 07:49:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 07:49:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حج کے دوران پیش آنے والے سانحات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1027108/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی : حج 2015 کے دوران دو بڑے سانحات میں بڑے پیمانے پر حجاج جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پہلے 12 ستمبر کو مکہ میں تعمیراتی کام کے لیے منگوائی گئی کرین گر گئی تھی جس سے 107 حجاج جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1027104"&gt;رمی کے دوران بھگدڑ، 700 سے زائد حجاج جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عید الاضحی کے روز 24 ستمبر کو جمرات کی رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 700 سے زائد حجاج جاں بحق اور 900 سے زائد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں : &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1026544"&gt;مسجد الحرام کرین حادثہ، 107 افراد جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;رواں برس پیش آنے والے سانحات سے قبل بھی حج کے دوران مختلف سانحات میں حجاج جاں بحق ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--daily-motion  '&gt;&lt;iframe src='http://www.dailymotion.com/embed/video/x37o1cn' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;رمی جمرات میں حادثات&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;رواں برس 2015 میں رمی جمرات کے دوران بھگدڑ کے باعث 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سال 2006 میں (12 جنوری کو) حج کے آخری روز منیٰ کے مقام پر بھگدڑ سے 346 حاجی جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;2004 میں (یکم فروری کو) منی ہی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 251 حجاج جاں بحق اور 244 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;2003  میں (11 فروری ) بھی جمرات کی رمی کے دوران بھگدڑ میں 14 حاجی جاں بحق ہوئے جبکہ 2001 میں 35 حجاج بھگدڑ مچنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;2001 میں (5 مارچ کو) رمی کے دوران 5 افراد جان سے گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5603d26eb8dca.jpg?r=1760182715'  alt='۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;1998  میں (9اپریل کو) جمرات کے پل پر رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی اور 118 حاجی کچل کر جان سے گئے تھے جبکہ 180 زخمی ہوئے تھے.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1994  میں (23 مئی کو) شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران منیٰ میں بھگدڑ سے 270 حجاج جاں بحق ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1990  میں سے بدترین واقعہ پیش آیا تھا جب جمرات کی رمی کے دوران پل پر  1426 حجاج بحق ہوئے تھے، جاں بحق ہونے والے اکثر حجاج کا تعلق انڈونیشیا ، ملائیشیاء اور پاکستان سے تھا.&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;آتشزدگی کے واقعات&lt;/h3&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5603d26dd5b3c.jpg?r=569017845'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;2011 میں (یکم نومبر کو) حاجیوں کی ایک بس میں آگ لگ گئی تھی جس میں سے اکثر حجاج کو باحفاظت اتار لیا گیا تھا البتہ بس کی آخری نشستوں پر موجود شوہر اور بیوی ابھی بس سے اتر ہی رہے تھے کہ بس کے فیول ٹینک میں دھماکا ہونے سے وہ جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1997  میں منٰی کے میدان میں حاجیوں کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے 347 حجاج جاں بحق اور 1500 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1975  میں حاجیوں کے خیمے میں ایک گیس سیلنڈر پھٹ گیا تھا جس سے آتش زدگی کے باعث 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے.&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5603d8525722c.jpg?r=1198425581'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;احتجاج، بد امنی سے ہلاکتیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1984 میں (9 جولائی کو) کہ میں 2 دھماکے ہوئے تھے جن میں ایک حاجی جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے تھے بعد ازاں سعودی حکام نے ان دھماکوں کے الزام میں 16 کویتی باشندوں کے سر قلم کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1987 میں (31 جولائی) ایران کے عازمین نے سعودی عرب میں احتجاجی مارچ نکالا تھا جس میں فورسز سے تصادم میں 402 افراد مارے گئے جن میں 275 ایرانی مظاہرین اور 85 سعودی پولیس اہلکار شامل جبکہ 42 دیگر ممالک کے عازمین جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;فضائی (جہازوں کے) حادثات&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1991 میں (11 جولائی کو) سعودی عرب سے نائیجیریا جانے والی حج پرواز جدہ کے کنگ عبد العزیز ائر پورٹ سے اڑنے کے کچھ دیر بعد ہی کریش ہو گئی تھی جس سے عملے کے 14 افراد سمیت 247 افراد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1979 میں (26نومبر کو) پاکستان انٹر نیشنل ائر لائن (پی آئی اے) کی پرواز جدہ ائر پورٹ سے اڑنے کے چند لمحوں بعد گر گئی جس سے 156 حجاج جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1978 میں آئی لینڈ ائر لائن کی پرواز حٓدثے کا شکار ہوئی، یہ پرواز سعودی عرب سے واپسی پر سری لنکا کے قریب حادثے سے دوچار ہوئی جس سے 170 افراد مارے گئے جن میں اکثر انڈونیشیا کے حجاج تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1974 میں (4 دسمبر کو) نیدر لینڈ کی مارٹائنائر کا جہاز سری لنکا میں کولمبو کے قریب کریش ہوا، جس سے 182 حجاج جاں بحق ہوئے جبکہ جہاز کے عملے کے 9 افراد بھی مارے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;1973 میں (22 جنوری کو) اردن کا طیارہ نائجیریا میں کانو کے قریب گرا، جس سے حج سے واپس آنے والے 176 افراد جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;تعمیراتی کے دوران حادثات&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;2015 میں 11 ستمبر کو مکہ کی توسیع کے کام کرنے والی سب سے بڑئ کرین تیز ہوا کے باعث مسجد الحرام کی چھت اور احاطے میں گر گئی جس سے 107 حجاج جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;2006 میں 5 جنوری کو مکہ میں مسجد الحرام کا الغزہ ہوٹل زمین بوس ہوا، جس سے ہوٹل میں ٹہرے ہوئے 76 حجاج جاں بحق ہوئے جبکہ 64 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی : حج 2015 کے دوران دو بڑے سانحات میں بڑے پیمانے پر حجاج جاں بحق ہوئے۔</p><p>پہلے 12 ستمبر کو مکہ میں تعمیراتی کام کے لیے منگوائی گئی کرین گر گئی تھی جس سے 107 حجاج جاں بحق ہوئے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں : <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1027104">رمی کے دوران بھگدڑ، 700 سے زائد حجاج جاں بحق</a></h6>
<p>بعد ازاں عید الاضحی کے روز 24 ستمبر کو جمرات کی رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 700 سے زائد حجاج جاں بحق اور 900 سے زائد زخمی ہوئے۔</p><h6>مزید پڑھیں : <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1026544">مسجد الحرام کرین حادثہ، 107 افراد جاں بحق</a></h6>
<p>رواں برس پیش آنے والے سانحات سے قبل بھی حج کے دوران مختلف سانحات میں حجاج جاں بحق ہوتے رہے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item    media__item--daily-motion  '><iframe src='http://www.dailymotion.com/embed/video/x37o1cn' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				</figure>
<h3>رمی جمرات میں حادثات</h3>
<p>رواں برس 2015 میں رمی جمرات کے دوران بھگدڑ کے باعث 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے</p><p>سال 2006 میں (12 جنوری کو) حج کے آخری روز منیٰ کے مقام پر بھگدڑ سے 346 حاجی جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔</p><p>2004 میں (یکم فروری کو) منی ہی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 251 حجاج جاں بحق اور 244 زخمی ہوئے۔</p><p>2003  میں (11 فروری ) بھی جمرات کی رمی کے دوران بھگدڑ میں 14 حاجی جاں بحق ہوئے جبکہ 2001 میں 35 حجاج بھگدڑ مچنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔</p><p>2001 میں (5 مارچ کو) رمی کے دوران 5 افراد جان سے گئے تھے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5603d26eb8dca.jpg?r=1760182715'  alt='۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					۔</figcaption>
				</figure><p>1998  میں (9اپریل کو) جمرات کے پل پر رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی اور 118 حاجی کچل کر جان سے گئے تھے جبکہ 180 زخمی ہوئے تھے.</p><p>1994  میں (23 مئی کو) شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران منیٰ میں بھگدڑ سے 270 حجاج جاں بحق ہوئے تھے۔</p><p>1990  میں سے بدترین واقعہ پیش آیا تھا جب جمرات کی رمی کے دوران پل پر  1426 حجاج بحق ہوئے تھے، جاں بحق ہونے والے اکثر حجاج کا تعلق انڈونیشیا ، ملائیشیاء اور پاکستان سے تھا.</p><h3>آتشزدگی کے واقعات</h3>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5603d26dd5b3c.jpg?r=569017845'  alt='' /></div>
				</figure>
</p><p>2011 میں (یکم نومبر کو) حاجیوں کی ایک بس میں آگ لگ گئی تھی جس میں سے اکثر حجاج کو باحفاظت اتار لیا گیا تھا البتہ بس کی آخری نشستوں پر موجود شوہر اور بیوی ابھی بس سے اتر ہی رہے تھے کہ بس کے فیول ٹینک میں دھماکا ہونے سے وہ جاں بحق ہو گئے۔</p><p>1997  میں منٰی کے میدان میں حاجیوں کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے 347 حجاج جاں بحق اور 1500 زخمی ہوئے۔</p><p>1975  میں حاجیوں کے خیمے میں ایک گیس سیلنڈر پھٹ گیا تھا جس سے آتش زدگی کے باعث 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے.</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5603d8525722c.jpg?r=1198425581'  alt='' /></div>
				</figure>
<h3>احتجاج، بد امنی سے ہلاکتیں</h3>
<p>1984 میں (9 جولائی کو) کہ میں 2 دھماکے ہوئے تھے جن میں ایک حاجی جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے تھے بعد ازاں سعودی حکام نے ان دھماکوں کے الزام میں 16 کویتی باشندوں کے سر قلم کیے تھے۔</p><p>1987 میں (31 جولائی) ایران کے عازمین نے سعودی عرب میں احتجاجی مارچ نکالا تھا جس میں فورسز سے تصادم میں 402 افراد مارے گئے جن میں 275 ایرانی مظاہرین اور 85 سعودی پولیس اہلکار شامل جبکہ 42 دیگر ممالک کے عازمین جاں بحق ہوئے۔</p><h3>فضائی (جہازوں کے) حادثات</h3>
<p>1991 میں (11 جولائی کو) سعودی عرب سے نائیجیریا جانے والی حج پرواز جدہ کے کنگ عبد العزیز ائر پورٹ سے اڑنے کے کچھ دیر بعد ہی کریش ہو گئی تھی جس سے عملے کے 14 افراد سمیت 247 افراد مارے گئے تھے۔</p><p>1979 میں (26نومبر کو) پاکستان انٹر نیشنل ائر لائن (پی آئی اے) کی پرواز جدہ ائر پورٹ سے اڑنے کے چند لمحوں بعد گر گئی جس سے 156 حجاج جاں بحق ہوئے۔</p><p>1978 میں آئی لینڈ ائر لائن کی پرواز حٓدثے کا شکار ہوئی، یہ پرواز سعودی عرب سے واپسی پر سری لنکا کے قریب حادثے سے دوچار ہوئی جس سے 170 افراد مارے گئے جن میں اکثر انڈونیشیا کے حجاج تھے۔</p><p>1974 میں (4 دسمبر کو) نیدر لینڈ کی مارٹائنائر کا جہاز سری لنکا میں کولمبو کے قریب کریش ہوا، جس سے 182 حجاج جاں بحق ہوئے جبکہ جہاز کے عملے کے 9 افراد بھی مارے گئے۔</p><p>1973 میں (22 جنوری کو) اردن کا طیارہ نائجیریا میں کانو کے قریب گرا، جس سے حج سے واپس آنے والے 176 افراد جاں بحق ہوئے۔</p><h3>تعمیراتی کے دوران حادثات</h3>
<p>2015 میں 11 ستمبر کو مکہ کی توسیع کے کام کرنے والی سب سے بڑئ کرین تیز ہوا کے باعث مسجد الحرام کی چھت اور احاطے میں گر گئی جس سے 107 حجاج جاں بحق ہوئے۔</p><p>2006 میں 5 جنوری کو مکہ میں مسجد الحرام کا الغزہ ہوٹل زمین بوس ہوا، جس سے ہوٹل میں ٹہرے ہوئے 76 حجاج جاں بحق ہوئے جبکہ 64 زخمی ہوئے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1027108</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Sep 2015 13:03:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وقار محمد خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/09/5603bffe4cc8a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/09/5603bffe4cc8a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
