<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:52:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:52:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک ہزار سال قدیم مسجد کی سیر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1027202/28sept2015-aik-hazar-saal-qadeem-masjid-ki-sair-amjad-ali-sahaab-bm</link>
      <description>&lt;p&gt;ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے مغرب کی جانب 6.6 کلومیٹر کی مسافت پر اوڈیگرام کے علاقے میں واقع سلطان محمود غزنوی کی ایک ہزار سال پرانی مسجد اس وقت کے فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کی چھت زمین سے 30 فٹ اونچی ہوا کرتی تھی۔ ماہانہ دو ہزار سے زائد سیاح آج بھی ملک کے کونے کونے سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاریخ کے اوراق سے گرد ہٹائیں تو پتہ چلتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے دو نومبر بروز منگل سنہ 971ء کو سبکتگین کے ہاں غزنی میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنتِ غزنویہ کے حکمران تھے۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کیا تھا اور ان کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;مسلمان حکمرانوں میں سے وہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے &amp;#39;سلطان&amp;#39; کا لقب اختیار کیا۔ انہوں نے ہندوستان پر 17 بار حملہ کیا۔ انہی حملوں میں سے ایک اس نے راجا گیرا (جو موجودہ شمالی پاکستان کے علاقوں سوات وغیرہ کا طاقتور اور خوشحال بادشاہ شمار کیا جاتا تھا) کی سلطنت پر کیا۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e1484a73f.jpg?r=85949898'  alt='اوڈیگرام میں لب سڑک سلطان محمود غزنوی مسجد کی طرف نشاندہی کرتا ہوا بورڈ۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					اوڈیگرام میں لب سڑک سلطان محمود غزنوی مسجد کی طرف نشاندہی کرتا ہوا بورڈ۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e14866bae.jpg?r=206600312'  alt='پہاڑی کے دامن میں مسجد کی طرف جاتا ہوا راستہ' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					پہاڑی کے دامن میں مسجد کی طرف جاتا ہوا راستہ&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e14922fae.jpg?r=460237827'  alt='مسجد کی طرف جانے والا کچا راستہ' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کی طرف جانے والا کچا راستہ&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e149442f2.jpg?r=658563273'  alt='مسجد کی طرف جانے والے کچے راستے کی ایک اور تصویر' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کی طرف جانے والے کچے راستے کی ایک اور تصویر&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e14892052.jpg?r=274265502'  alt='مسجد کے باہر معلوماتی بورڈ.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کے باہر معلوماتی بورڈ.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e489442c0.jpg?r=294020644'  alt='مسجد کی قلعہ نما بیرونی دیوار.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کی قلعہ نما بیرونی دیوار.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e489613c4.jpg?r=1802129054'  alt='بیرونی دیوار کا ایک اور منظر.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					بیرونی دیوار کا ایک اور منظر.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;مشہور ہے کہ یہاں سلطان محمود غزنوی نے پیر خوشحال کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنا کر ایک بڑی لڑائی لڑی۔ اسی معرکے میں پیر خوشحال بڑی بے جگری سے لڑا اور بالآخر زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ پیر خوشحال اب یہاں سوات میں ہی دفن ہے۔ اس معرکے میں سلطان کے دو بیٹے بھی سدھار گئے تھے اور وہ بھی سوات ہی میں مدفون ہیں۔ ایک خونریز لڑائی کے بعد راجا گیرا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;راجا کی شکست کے بعد سلطان واپس غزنی چلا گیا اور 30 اپریل 1030ء کو انتقال کر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ضلع سوات سے واپسی کے وقت یہاں ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مسجد کے باہر لگے ایک بورڈ پر مسجد کی مختصر تاریخ لکھی گئی ہے جس کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے مسجد کی بنیاد 49-1048 میں ڈالی تھی۔ یہ شمالی پاکستان کی سب سے پرانی مسجد مانی جاتی ہے۔ اس کے احاطے سے 1984 میں ایک کتبہ دریافت ہوا تھا جس پر درج تھا کہ محمود غزنوی نے اپنے بھتیجے حاکم منصور کو اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ حاکم منصور نے اپنے سپہ سالار نوشگین کی نگرانی میں اسے تعمیر کیا تھا۔ مذکورہ کتبہ ہاتھ آنے کے بعد ہی اٹلی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے 1984 میں &amp;#39;سلطان محمود غزنوی مسجد&amp;#39; کو دریافت کیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a712391.jpg?r=530501243'  alt='مسجد کا دروازہ جسے سیاحوں یا آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ہی کھولا جاتا ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کا دروازہ جسے سیاحوں یا آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ہی کھولا جاتا ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a82fafb.jpg?r=1596755534'  alt='مسجد کے احاطے میں بنا ہوا راستہ.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کے احاطے میں بنا ہوا راستہ.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a851dd0.jpg?r=338704275'  alt='مسجد کے صحن میں اترنے والی سیڑھیاں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کے صحن میں اترنے والی سیڑھیاں.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a72f45d.jpg?r=1792600326'  alt='رہائشی کمروں کی طرف جانے والا راستہ۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					رہائشی کمروں کی طرف جانے والا راستہ۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a81b2d8.jpg?r=1034405758'  alt='طالب علموں کے رہائشی کمروں تک جانے والا راستہ۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					طالب علموں کے رہائشی کمروں تک جانے والا راستہ۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e4893e555.jpg?r=973282045'  alt='مسجد میں تازہ پانی لانے کی غرض سے اس دور میں بنائی گئی ایک لائن کا منظر۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد میں تازہ پانی لانے کی غرض سے اس دور میں بنائی گئی ایک لائن کا منظر۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e489553c9.jpg?r=838725860'  alt='مسجد کا کچن.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کا کچن.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;آج سے ایک ہزار سال پہلے بنائی گئی اس مسجد کا طرزِ تعمیر اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں پر گارڈز مسجد میں داخل ہونے سے پہلے سیاحوں کو ایک بات کی تلقین خاص طور پر کرتے ہیں کہ آپ کو مسجد کے احاطے میں کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ کیوں کہ اس سے ’’نیچر ڈسٹرب‘‘ ہونے کا احتمال ہے۔ بالفاظ دیگر ایک ہزار سال پہلے جو چیز جہاں رکھی گئی تھی، اگر اسے وہاں سے اٹھایا گیا، تو اس کی فطری کشش میں کمی واقع ہوجائے گی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;مسجد تعمیر کرتے وقت اس کے صحن کے عین درمیان پانی کا ایک تالاب بنایا گیا تھا جسے آج بھی اسی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اُس دور میں لوگ نماز پڑھنے کی خاطر وضو اسی حوض کے پانی سے کیا کرتے تھے۔ اسی طرح مسجد میں داخل ہوتے وقت اس جگہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو پانی کی سپلائی لائن کہلاتی ہے۔ مسجد سے بارش یا پھر وضو کے استعمال شدہ پانی کو نکالنے کا طریقہ بھی اس دور کی انجینیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;تقریباً ایک اسکوائر فٹ نالی باقاعدہ ایک سیڑھی کی شکل میں بنائی گئی ہے، جس کی مدد سے پانی مسجد کے احاطے سے باہر نکال دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مسجد کے ہال میں ایک محراب بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ مسجد کی دیواریں عام پتھروں سے بنائی گئی ہیں۔ قبلہ رو کھڑے ہو کر بائیں جانب کی دیوار تیس فٹ اونچی ہے، یعنی آج کی تعمیرات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی بھی تین منزلہ عمارت جتنی اونچی دیوار ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e378986de.jpg?r=1188757813'  alt='مسجد کی محراب.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کی محراب.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e37978ed4.jpg?r=951274515'  alt='صحن میں بنے پانی کے حوض کا منظر جہاں نمازی وضو کیا کرتے تھے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					صحن میں بنے پانی کے حوض کا منظر جہاں نمازی وضو کیا کرتے تھے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e37878d89.jpg?r=1006907711'  alt='مسجد کے احاطہ سے وضو یا بارش کا پانی نکالنے کے لیے بنائی گئی سیڑھی نما نالی۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کے احاطہ سے وضو یا بارش کا پانی نکالنے کے لیے بنائی گئی سیڑھی نما نالی۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e3798630c.jpg?r=1917854646'  alt='رہائشی کمروں کا ایک منظر۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					رہائشی کمروں کا ایک منظر۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e37978ed0.jpg?r=22013515'  alt='رہائشی کمروں کا ایک منظر۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					رہائشی کمروں کا ایک منظر۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e48831a3e.jpg?r=910223560'  alt='ستون جس پر مسجد کی چھت کھڑی رہتی تھی۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					ستون جس پر مسجد کی چھت کھڑی رہتی تھی۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e48ac3392.jpg?r=737639339'  alt='مسجد کی دوسری جانب سے لی گئی تصویر جس میں 30 فٹ اونچی دیوار دیکھی جاسکتی ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کی دوسری جانب سے لی گئی تصویر جس میں 30 فٹ اونچی دیوار دیکھی جاسکتی ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;قبلے سے بائیں جانب محراب سے آگے ایک چھوٹا سا راستہ رہائشی کمروں کی طرف جاتا ہے۔ دراصل اس دور میں یہ مسجد مدرسے کے طور پر بھی استعمال ہوا کرتی تھی جس میں کئی طلبہ بیک وقت دینی علوم حاصل کیا کرتے تھے۔ قبلے سے دائیں جانب ایسے دو راستے اور بھی رہائشی کمروں کی طرف نکلتے ہیں، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت مسجد میں زیرِ تعلیم طلبہ اور اساتذہ انہی کمروں میں رہائش پذیر تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مسجد میں جگہ جگہ چھوٹے کتبے لگائے گئے ہیں جن سے نوواردوں کو اچھی خاصی رہنمائی مل جاتی ہے۔ اسی طرح مسجد کے احاطے میں بھی ایک کتبہ لگایا گیا ہے کہ یہاں پر کبھی اسٹوپا ہوا کرتا تھا اور بدھ مت کے پیروکار اپنی مذہبی رسوم یہاں ادا کیا کرتے تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اطالوی مشن کے پاکستان میں سربرای ڈاکٹر لوکا ماریا اولیویری کے مطابق ہر ماہ آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے دو ہزار کے قریب لوگ اس تاریخی اثاثے کو دیکھنے آتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر سوات میں آثارِ قدیمہ پر خصوصی توجہ دی گئی، تو کوئی امر مانع نہیں کہ یہ نہ صرف خیبر پختونخواہ بلکہ پورے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب نہ کریں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;— تصاویر بشکریہ لکھاری۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--right    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
امجد علی سحاب فری لانس صحافی ہیں اور تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے مغرب کی جانب 6.6 کلومیٹر کی مسافت پر اوڈیگرام کے علاقے میں واقع سلطان محمود غزنوی کی ایک ہزار سال پرانی مسجد اس وقت کے فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کی چھت زمین سے 30 فٹ اونچی ہوا کرتی تھی۔ ماہانہ دو ہزار سے زائد سیاح آج بھی ملک کے کونے کونے سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ </p><p>تاریخ کے اوراق سے گرد ہٹائیں تو پتہ چلتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے دو نومبر بروز منگل سنہ 971ء کو سبکتگین کے ہاں غزنی میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنتِ غزنویہ کے حکمران تھے۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کیا تھا اور ان کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ </p><p>مسلمان حکمرانوں میں سے وہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے &#39;سلطان&#39; کا لقب اختیار کیا۔ انہوں نے ہندوستان پر 17 بار حملہ کیا۔ انہی حملوں میں سے ایک اس نے راجا گیرا (جو موجودہ شمالی پاکستان کے علاقوں سوات وغیرہ کا طاقتور اور خوشحال بادشاہ شمار کیا جاتا تھا) کی سلطنت پر کیا۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e1484a73f.jpg?r=85949898'  alt='اوڈیگرام میں لب سڑک سلطان محمود غزنوی مسجد کی طرف نشاندہی کرتا ہوا بورڈ۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					اوڈیگرام میں لب سڑک سلطان محمود غزنوی مسجد کی طرف نشاندہی کرتا ہوا بورڈ۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e14866bae.jpg?r=206600312'  alt='پہاڑی کے دامن میں مسجد کی طرف جاتا ہوا راستہ' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					پہاڑی کے دامن میں مسجد کی طرف جاتا ہوا راستہ</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e14922fae.jpg?r=460237827'  alt='مسجد کی طرف جانے والا کچا راستہ' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کی طرف جانے والا کچا راستہ</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e149442f2.jpg?r=658563273'  alt='مسجد کی طرف جانے والے کچے راستے کی ایک اور تصویر' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کی طرف جانے والے کچے راستے کی ایک اور تصویر</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e14892052.jpg?r=274265502'  alt='مسجد کے باہر معلوماتی بورڈ.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کے باہر معلوماتی بورڈ.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e489442c0.jpg?r=294020644'  alt='مسجد کی قلعہ نما بیرونی دیوار.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کی قلعہ نما بیرونی دیوار.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e489613c4.jpg?r=1802129054'  alt='بیرونی دیوار کا ایک اور منظر.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					بیرونی دیوار کا ایک اور منظر.</figcaption>
				</figure><p>مشہور ہے کہ یہاں سلطان محمود غزنوی نے پیر خوشحال کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنا کر ایک بڑی لڑائی لڑی۔ اسی معرکے میں پیر خوشحال بڑی بے جگری سے لڑا اور بالآخر زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ پیر خوشحال اب یہاں سوات میں ہی دفن ہے۔ اس معرکے میں سلطان کے دو بیٹے بھی سدھار گئے تھے اور وہ بھی سوات ہی میں مدفون ہیں۔ ایک خونریز لڑائی کے بعد راجا گیرا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ </p><p>راجا کی شکست کے بعد سلطان واپس غزنی چلا گیا اور 30 اپریل 1030ء کو انتقال کر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ضلع سوات سے واپسی کے وقت یہاں ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔</p><p>مسجد کے باہر لگے ایک بورڈ پر مسجد کی مختصر تاریخ لکھی گئی ہے جس کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے مسجد کی بنیاد 49-1048 میں ڈالی تھی۔ یہ شمالی پاکستان کی سب سے پرانی مسجد مانی جاتی ہے۔ اس کے احاطے سے 1984 میں ایک کتبہ دریافت ہوا تھا جس پر درج تھا کہ محمود غزنوی نے اپنے بھتیجے حاکم منصور کو اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ حاکم منصور نے اپنے سپہ سالار نوشگین کی نگرانی میں اسے تعمیر کیا تھا۔ مذکورہ کتبہ ہاتھ آنے کے بعد ہی اٹلی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے 1984 میں &#39;سلطان محمود غزنوی مسجد&#39; کو دریافت کیا تھا۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a712391.jpg?r=530501243'  alt='مسجد کا دروازہ جسے سیاحوں یا آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ہی کھولا جاتا ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کا دروازہ جسے سیاحوں یا آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ہی کھولا جاتا ہے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a82fafb.jpg?r=1596755534'  alt='مسجد کے احاطے میں بنا ہوا راستہ.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کے احاطے میں بنا ہوا راستہ.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a851dd0.jpg?r=338704275'  alt='مسجد کے صحن میں اترنے والی سیڑھیاں.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کے صحن میں اترنے والی سیڑھیاں.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a72f45d.jpg?r=1792600326'  alt='رہائشی کمروں کی طرف جانے والا راستہ۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					رہائشی کمروں کی طرف جانے والا راستہ۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e2a81b2d8.jpg?r=1034405758'  alt='طالب علموں کے رہائشی کمروں تک جانے والا راستہ۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					طالب علموں کے رہائشی کمروں تک جانے والا راستہ۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e4893e555.jpg?r=973282045'  alt='مسجد میں تازہ پانی لانے کی غرض سے اس دور میں بنائی گئی ایک لائن کا منظر۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد میں تازہ پانی لانے کی غرض سے اس دور میں بنائی گئی ایک لائن کا منظر۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e489553c9.jpg?r=838725860'  alt='مسجد کا کچن.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کا کچن.</figcaption>
				</figure><p>آج سے ایک ہزار سال پہلے بنائی گئی اس مسجد کا طرزِ تعمیر اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں پر گارڈز مسجد میں داخل ہونے سے پہلے سیاحوں کو ایک بات کی تلقین خاص طور پر کرتے ہیں کہ آپ کو مسجد کے احاطے میں کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ کیوں کہ اس سے ’’نیچر ڈسٹرب‘‘ ہونے کا احتمال ہے۔ بالفاظ دیگر ایک ہزار سال پہلے جو چیز جہاں رکھی گئی تھی، اگر اسے وہاں سے اٹھایا گیا، تو اس کی فطری کشش میں کمی واقع ہوجائے گی۔ </p><p>مسجد تعمیر کرتے وقت اس کے صحن کے عین درمیان پانی کا ایک تالاب بنایا گیا تھا جسے آج بھی اسی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اُس دور میں لوگ نماز پڑھنے کی خاطر وضو اسی حوض کے پانی سے کیا کرتے تھے۔ اسی طرح مسجد میں داخل ہوتے وقت اس جگہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو پانی کی سپلائی لائن کہلاتی ہے۔ مسجد سے بارش یا پھر وضو کے استعمال شدہ پانی کو نکالنے کا طریقہ بھی اس دور کی انجینیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ </p><p>تقریباً ایک اسکوائر فٹ نالی باقاعدہ ایک سیڑھی کی شکل میں بنائی گئی ہے، جس کی مدد سے پانی مسجد کے احاطے سے باہر نکال دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مسجد کے ہال میں ایک محراب بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ مسجد کی دیواریں عام پتھروں سے بنائی گئی ہیں۔ قبلہ رو کھڑے ہو کر بائیں جانب کی دیوار تیس فٹ اونچی ہے، یعنی آج کی تعمیرات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی بھی تین منزلہ عمارت جتنی اونچی دیوار ہے۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e378986de.jpg?r=1188757813'  alt='مسجد کی محراب.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کی محراب.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e37978ed4.jpg?r=951274515'  alt='صحن میں بنے پانی کے حوض کا منظر جہاں نمازی وضو کیا کرتے تھے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					صحن میں بنے پانی کے حوض کا منظر جہاں نمازی وضو کیا کرتے تھے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e37878d89.jpg?r=1006907711'  alt='مسجد کے احاطہ سے وضو یا بارش کا پانی نکالنے کے لیے بنائی گئی سیڑھی نما نالی۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کے احاطہ سے وضو یا بارش کا پانی نکالنے کے لیے بنائی گئی سیڑھی نما نالی۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e3798630c.jpg?r=1917854646'  alt='رہائشی کمروں کا ایک منظر۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					رہائشی کمروں کا ایک منظر۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e37978ed0.jpg?r=22013515'  alt='رہائشی کمروں کا ایک منظر۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					رہائشی کمروں کا ایک منظر۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e48831a3e.jpg?r=910223560'  alt='ستون جس پر مسجد کی چھت کھڑی رہتی تھی۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					ستون جس پر مسجد کی چھت کھڑی رہتی تھی۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/5608e48ac3392.jpg?r=737639339'  alt='مسجد کی دوسری جانب سے لی گئی تصویر جس میں 30 فٹ اونچی دیوار دیکھی جاسکتی ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کی دوسری جانب سے لی گئی تصویر جس میں 30 فٹ اونچی دیوار دیکھی جاسکتی ہے۔</figcaption>
				</figure><p>قبلے سے بائیں جانب محراب سے آگے ایک چھوٹا سا راستہ رہائشی کمروں کی طرف جاتا ہے۔ دراصل اس دور میں یہ مسجد مدرسے کے طور پر بھی استعمال ہوا کرتی تھی جس میں کئی طلبہ بیک وقت دینی علوم حاصل کیا کرتے تھے۔ قبلے سے دائیں جانب ایسے دو راستے اور بھی رہائشی کمروں کی طرف نکلتے ہیں، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت مسجد میں زیرِ تعلیم طلبہ اور اساتذہ انہی کمروں میں رہائش پذیر تھے۔</p><p>مسجد میں جگہ جگہ چھوٹے کتبے لگائے گئے ہیں جن سے نوواردوں کو اچھی خاصی رہنمائی مل جاتی ہے۔ اسی طرح مسجد کے احاطے میں بھی ایک کتبہ لگایا گیا ہے کہ یہاں پر کبھی اسٹوپا ہوا کرتا تھا اور بدھ مت کے پیروکار اپنی مذہبی رسوم یہاں ادا کیا کرتے تھے۔ </p><p>اطالوی مشن کے پاکستان میں سربرای ڈاکٹر لوکا ماریا اولیویری کے مطابق ہر ماہ آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے دو ہزار کے قریب لوگ اس تاریخی اثاثے کو دیکھنے آتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر سوات میں آثارِ قدیمہ پر خصوصی توجہ دی گئی، تو کوئی امر مانع نہیں کہ یہ نہ صرف خیبر پختونخواہ بلکہ پورے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب نہ کریں۔ </p><p>— تصاویر بشکریہ لکھاری۔</p><hr>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--right    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112'  alt='' /></div>
				</figure>
امجد علی سحاب فری لانس صحافی ہیں اور تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔</p><hr>
<p><strong>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1027202</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2015 12:27:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/09/5608e843d4df9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/09/5608e843d4df9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
