<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 27 May 2026 22:56:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 27 May 2026 22:56:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>&amp;lsquo;بھرپور صلاحیت کے باوجود پاکستان نے انڈیا پر حملہ نہیں کیا&amp;rsquo;</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1028023/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی ایشیا کے امریکی ماہر اور سی آئی اے کے سابق افسر بروس ریڈل نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ 1962 میں ہندوستان - چین جنگ کے دوران انڈیا کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود پاکستان نے دہلی کی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریڈل نے اپنی  نئی کتاب JFK’s Forgotten Crisis: Tibet, the CIA and the Sino-Indian War میں انکشاف کیا کہ انڈیا کے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی مدد طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;چین کے ہاتھوں بھاری جانی نقصان اور علاقوں پر تیزی سے قبضہ ہوتا دیکھ کر نہرو نے نومبر، 1962 میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو خصوصی خط لکھتے ہوئے جنگی طیارے اور فضائی مدد طلب کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں نہرو چین کی پیپلز لبریشن آرمی کو شکست دینے کیلئے امریکا سے فضائی پارٹنرشپ مانگ رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریڈل نے منگل کو واشنگٹن میں ٹاپ تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک تقریب کے شرکاکو  بتایا کہ کینیڈی نے انڈیا پر پاکستانی حملہ روکنے کیلئے ’فیصلہ کن کردار‘ ادا کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;امریکی دانشور کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کو بھی نہرو کی جانب سے مدد کیلئے خط بھیجا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاہم ، اس سے پہلے کہ امریکا کوئی قدم اٹھاتا چین نے یک طرفہ جنگ بندی  کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہندوستانی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے پورے جنوب مشرقی حصے کو علیحدہ کرنے کی پوزیشن میں آنے کے باوجود جنگ بندی کے چینی اعلان نے دنیا کو حیران کر دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریڈل کے مطابق، چین کو خطرہ تھا کہ برطانیہ اور امریکا جنگ میں انڈیا کی مدد کی تیاریاں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کتاب کے مطابق، 28 اکتوبر، 1962 کو نہرو کی جانب سے امریکی مدد طلب کرنے سے ایک دن قبل پاکستان میں امریکی سفیر  والٹر مک کونوگی نے اُس وقت کے حکمران ایوب خان سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;’ملاقات میں امریکی سفیر نے ایوب پر زور دیا کہ وہ نہرو کو یقین دہائی کروائیں کہ پاکستان انڈیا کی چین سے جنگ کا کوئی فائدہ نہیں اٹھائے گا‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ میں انڈیا میں امریکا کے سفیر جان گلبریتھ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’صدر ایوب امریکی مشورے کے بالکل خلاف تھے مگر جب ان سے کہا گیا کہ صدر کینیڈی ایک خط لکھ کر ان سے یہ گذارش کریں گے تو وہ سننے کو تو تیار ہوئے مگر ساتھ ہی انھوں نے یہ شرط رکھی کہ ’اس کے بدلے میں امریکا کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے خلاف سخت رویہ اپنانے کا وعدہ کرے’۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بی بی سی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ریڈل نے کتاب میں لکھا: ’دیکھا جائے تو ایوب خان یہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ اور پاکستان ایک ساتھ مل کر بھارت کو مجبور کریں کہ وہ کشمیر ان کے حوالے کر دے اسی طرح جیسے چین بھارت کی زمین پر قبضہ کر رہا تھا۔ یہ ایک طرح سے پاکستانی بلیک میلنگ تھی۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ڈان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعد میں گلبیرتھ نے واشنگٹن اور کراچی میں ’ہنگامی ٹیلی گرام‘ بھیجتے ہوئے درخواست کی کہ پاکستان کو دیے جانے والے کسی بھی امریکی پیغام میں کشمیر کا ذکر نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریڈل کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے فوراً گلبریتھ کا  مشورہ مانتے ہوئے نہرو کو  صدر ایوب کو خط لکھنے کا مشورہ دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کتاب میں بتایا گیا کہ کینیڈی اور برطانوی وزیر اعظم ہیرولڈ مک ملن کے ایوب خان کو پیغامات میں واضح کر دیا گیا تھا کہ  امریکا اور برطانیہ انڈیا کے خلاف پاکستان کی کسی قسم کی کارروائی کو  سیٹو اور سینٹو معاہدو ں کی خلاف ورزی سمجھتےہوئے اسے جارحیت سے تعبیر کرے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;’امریکیوں نے پاکستان کو بتا دیا تھا کہ 1950 کے بعد چینی حملہ ماؤ زے ڈونگ کی سب سے سنگین کارروائی ہے اور وہ اس پر فیصلہ کن جوابی کارروائی پر غور کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی ایشیا کے امریکی ماہر اور سی آئی اے کے سابق افسر بروس ریڈل نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ 1962 میں ہندوستان - چین جنگ کے دوران انڈیا کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود پاکستان نے دہلی کی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔</p><p>ریڈل نے اپنی  نئی کتاب JFK’s Forgotten Crisis: Tibet, the CIA and the Sino-Indian War میں انکشاف کیا کہ انڈیا کے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی مدد طلب کی تھی۔</p><p>چین کے ہاتھوں بھاری جانی نقصان اور علاقوں پر تیزی سے قبضہ ہوتا دیکھ کر نہرو نے نومبر، 1962 میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو خصوصی خط لکھتے ہوئے جنگی طیارے اور فضائی مدد طلب کی۔</p><p>دوسرے لفظوں میں نہرو چین کی پیپلز لبریشن آرمی کو شکست دینے کیلئے امریکا سے فضائی پارٹنرشپ مانگ رہے تھے۔</p><p>ریڈل نے منگل کو واشنگٹن میں ٹاپ تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک تقریب کے شرکاکو  بتایا کہ کینیڈی نے انڈیا پر پاکستانی حملہ روکنے کیلئے ’فیصلہ کن کردار‘ ادا کیا۔</p><p>امریکی دانشور کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کو بھی نہرو کی جانب سے مدد کیلئے خط بھیجا گیا تھا۔</p><p>تاہم ، اس سے پہلے کہ امریکا کوئی قدم اٹھاتا چین نے یک طرفہ جنگ بندی  کا اعلان کر دیا۔</p><p>ہندوستانی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے پورے جنوب مشرقی حصے کو علیحدہ کرنے کی پوزیشن میں آنے کے باوجود جنگ بندی کے چینی اعلان نے دنیا کو حیران کر دیا۔</p><p>ریڈل کے مطابق، چین کو خطرہ تھا کہ برطانیہ اور امریکا جنگ میں انڈیا کی مدد کی تیاریاں کر رہے ہیں۔</p><p>کتاب کے مطابق، 28 اکتوبر، 1962 کو نہرو کی جانب سے امریکی مدد طلب کرنے سے ایک دن قبل پاکستان میں امریکی سفیر  والٹر مک کونوگی نے اُس وقت کے حکمران ایوب خان سے ملاقات کی۔</p><p>’ملاقات میں امریکی سفیر نے ایوب پر زور دیا کہ وہ نہرو کو یقین دہائی کروائیں کہ پاکستان انڈیا کی چین سے جنگ کا کوئی فائدہ نہیں اٹھائے گا‘۔</p><p>بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ میں انڈیا میں امریکا کے سفیر جان گلبریتھ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’صدر ایوب امریکی مشورے کے بالکل خلاف تھے مگر جب ان سے کہا گیا کہ صدر کینیڈی ایک خط لکھ کر ان سے یہ گذارش کریں گے تو وہ سننے کو تو تیار ہوئے مگر ساتھ ہی انھوں نے یہ شرط رکھی کہ ’اس کے بدلے میں امریکا کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے خلاف سخت رویہ اپنانے کا وعدہ کرے’۔‘</p><p>بی بی سی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ریڈل نے کتاب میں لکھا: ’دیکھا جائے تو ایوب خان یہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ اور پاکستان ایک ساتھ مل کر بھارت کو مجبور کریں کہ وہ کشمیر ان کے حوالے کر دے اسی طرح جیسے چین بھارت کی زمین پر قبضہ کر رہا تھا۔ یہ ایک طرح سے پاکستانی بلیک میلنگ تھی۔‘</p><p>ڈان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعد میں گلبیرتھ نے واشنگٹن اور کراچی میں ’ہنگامی ٹیلی گرام‘ بھیجتے ہوئے درخواست کی کہ پاکستان کو دیے جانے والے کسی بھی امریکی پیغام میں کشمیر کا ذکر نہ کیا جائے۔</p><p>ریڈل کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے فوراً گلبریتھ کا  مشورہ مانتے ہوئے نہرو کو  صدر ایوب کو خط لکھنے کا مشورہ دیا۔</p><p>کتاب میں بتایا گیا کہ کینیڈی اور برطانوی وزیر اعظم ہیرولڈ مک ملن کے ایوب خان کو پیغامات میں واضح کر دیا گیا تھا کہ  امریکا اور برطانیہ انڈیا کے خلاف پاکستان کی کسی قسم کی کارروائی کو  سیٹو اور سینٹو معاہدو ں کی خلاف ورزی سمجھتےہوئے اسے جارحیت سے تعبیر کرے گا۔</p><p>’امریکیوں نے پاکستان کو بتا دیا تھا کہ 1950 کے بعد چینی حملہ ماؤ زے ڈونگ کی سب سے سنگین کارروائی ہے اور وہ اس پر فیصلہ کن جوابی کارروائی پر غور کر رہے ہیں‘۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1028023</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Oct 2015 23:08:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/10/561fbecd9b2dd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/10/561fbecd9b2dd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
