<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:45:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:45:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1028450/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;ذیل میں پاکستان میں آنے والے زلزلوں کی فہرست ہے&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt; پاکستان کے شمالی علاقہ سمیت افغانستان اور ہندوستان میں  آج زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے.&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 تھی جس سے ملک کے کئی شہر لرز اٹھے، جبکہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1 تھی ۔&lt;/p&gt;&lt;h5 id="toc_0"&gt;ذیل میں پاکستان میں آنے والے زلزلوں کی فہرست ہے&lt;/h5&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;چوبیس ستمبر، 2013&lt;/strong&gt; کو بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 328 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے سے جنوب مغربی صوبے میں ہزروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ میں سولہ اپریل 2013&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 7.9 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے پاکستان، ایران، ہندوستان اور چند خلیجی ملکوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔ اس زلزلے کا مرکز پاک ایران سرحد کے قریب واقع ایران میں سروان کا علاقہ تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں چونتیس افراد کی ہلاکت جبکہ اسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ دوسری جانب ایک لاکھ کے قریب مکانات زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;چار اپریل، 2013&lt;/strong&gt; کو پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، ریکٹر اسکیل پر ان جھٹکوں کی شدت 5.4 ریکارڈ کی گئی تھی۔ مذکورہ زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;سترہ فروری، 2013&lt;/strong&gt; کو 5.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کو ہلا دیا تھا، جن میں نوشہرہ، پشاور، ملاکنڈ، شانگلہ، گلگت بلتستان کے مختلف علاقے، لوئر دیر اور خیبر کے قبائلی علاقے شامل ہیں۔ اس زلزلے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;انتیس دسمبر، 2012&lt;/strong&gt; کو افغانستان کے ہندوکش علاقے میں 5.8 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے پاکستان کے بھی کچھ حصوں میں محسوس کیے گئے، تاہم اس کے نتیجے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھارہ جولائی، 2012&lt;/strong&gt; کو 5.7 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز محکمہ موسمیات کے مطابق کوہ ہندوکش تھا تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;بارہ جولائی، 2012&lt;/strong&gt; کو 6.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، روالپندہ اور پنجاب میں محسوس کیے گئے اور اس کا مرکز بھی کوہ ہندوکش میں تقریباً 194 کلومیٹر زیرزمین تھا اور اس کے نتیجے میں نقصانات کا اطلاع نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;پچیس مئی، 2012&lt;/strong&gt; کو ایک درمیانی شدت کا زلزلہ کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیا گیا تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;بارہ مئی، 2012&lt;/strong&gt; کو کوئٹہ کے علاقے سہراب میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;انیس جنوری، 2012&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور متاثرہ علاقوں کوئٹہ، زیارت، خانوزئی، پشین، ہرنائی، قلعہ عبدللہ اور ٹوبہ اچکزئی شامل تھے۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے نوے کلومیٹر جنوب میں ضلع زیارت کا علاقہ ٹوبہ اچکزئی تھا، تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;پندرہ مئی، 2011&lt;/strong&gt; کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جس کی شدت 4.7 تھی اور اس کا مرکز مانسہرہ سے چونسٹھ کلومیٹر شمال مغرب میں اکتالیس کلومیٹر زیرِزمین تھا۔ اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;تین اپریل، 2011&lt;/strong&gt; کو سات گھنٹوں کے وقفے کے دوران کراچی میں 2.8 اور 4.7 شدت کے دو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ان سے بھی کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;بائیس جنوری، 2011&lt;/strong&gt; کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے ایک سو اٹھاسی کلومیٹر شمال میں ضلع فیض آباد تھا، لیکن اس کے نتیجے میں بھی کسی فوری جانی نقصان کی اطلاعات نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;بیس جنوری، 2011&lt;/strong&gt; کو 7.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز بلوچستان کا ضلع خاران میں تھا۔ اس کے نتیجے میں دو سو سے زائد مکانات تباہ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھارہ جنوری، 2011&lt;/strong&gt; کے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کئی افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.2 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچاس کلومیٹر مغرب میں تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھائیس اکتوبر، 2010&lt;/strong&gt; کو خیبر پختونخواہ، پنجاب، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھارہ جنوری، 2010&lt;/strong&gt; کو 7.4 کی شدت سے والا زلزلہ کراچی میں محسوس کیا گیا، جس کا دورانیہ تقریباً ایک منٹ تھا۔ اس زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچپن کلومیٹر مغرب میں تھا تاہم اس سے کسی بڑے نقصان کی اطلاعات نہیں ملی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھائیس اکتوبر، 2008&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 6.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک جبکہ تین سو ستر افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کئی عمارتیں بھی تباہ ہوئی تھیں۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے ساٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;آٹھ اکتوبر، 2005&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔ زلزلے کے نتیجے میں اسی ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت، دو لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے 978 آفٹرشاکس کا سلسلہ ستائیس اکتوبر تک جاری رہا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;چودہ فروری، 2004&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 5.7 اور 5.5 کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;تین اکتوبر، 2002 کو&lt;/strong&gt; ریکٹر اسکیل پر 5.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں تیس افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;چھبیس جنوری، 2001&lt;/strong&gt; کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں صوبہ سندھ میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ ایک سو آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.5 نوٹ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;بیس مارچ، 1997&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں باجوڑ کے قبائلی علاقے کے گاؤں سلارزئی میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھائیس فروری، 1997&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 7.2 کی شدت کا زلزلہ پورے پاکستان میں محسوس کیا گیا جبکہ اس کا دورانیہ تیس سے نوے سیکنڈز تک تھا۔ پاکستان کے تقریباً تمام علاقوں میں محسوس کیے جانے والے اس زلزلے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اکتیس مئی، 1995&lt;/strong&gt; کو نصیر آباد ڈویژن کے بگٹی پہاڑوں کے دامنی علاقوں میں آنے والے 5.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک درجن مکانات تباہ اور تین بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;سولہ جنوری 1978&lt;/strong&gt; کو پشاور میں ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کا مرکز پشاور سے تین سو کلومیٹر شمال میں کوہ ہندوکش میں تھا۔ اس زلزلے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;بیس اکتوبر 1975&lt;/strong&gt; میں کوئٹہ میں ایک انتہائی شدید زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;ستائیس جنوری، 1975&lt;/strong&gt; کو مری بگٹی میں بھی ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کا مرکز کوئٹہ سے ایک سو چالیس کلومیٹر جنوب میں کوہ سلیمان میں تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھائیس دسمبر، 1974&lt;/strong&gt; کو ریکٹر اسکیل پر 7.4 کی شدت کے زلزلے سے ہزارہ، ہنزہ، سوات اور خیبر پختونخواہ میں پانچ ہزار تین ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ سترہ ہزار افراد زخمی اور چار ہزار چار سو مکانات بھی تباہ ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;تیس جون 1974&lt;/strong&gt; کو پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک انتہائی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور اس کے نتیجے میں چار ہلاک اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھارہ مئی 1974&lt;/strong&gt; کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے ایبٹ آباد میں محسوس کئے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اسی طرح تیرہ مئی 1973&lt;/strong&gt; کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;چھ مئی 1972&lt;/strong&gt; کو راولپنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے کئی سیکنڈز تک محسوس کیے گئے جس کے بعد لوگ عمارتوں سے باہر آ گئے تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یکم جنوری 1972&lt;/strong&gt; کو اسلام آباد، راولپنڈی، ایبٹ آباد، لاہور اور ملحقہ علاقوں میں اٹھارہ سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کے بعد، سیالکوٹ میں بھی پچاس سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اٹھائیس دسمبر 1971&lt;/strong&gt; کو پشاور اور راولپنڈی میں شدید نوعیت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;دو اکتوبر 1971&lt;/strong&gt; کو ایبٹ آباد اور ہزارہ کے چند حصوں میں زلزلے کے پانچ جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یکم اکتوبر 1971&lt;/strong&gt; کو راولپنڈی میں درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;دس ستمبر 1971&lt;/strong&gt; کو گلگت کے کچھ علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد مکانات تباہ ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;چار ستمبر 1971&lt;/strong&gt; کو ایبٹ آباد میں چھ مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;تین ستمبر 1971&lt;/strong&gt; کو راولپنڈی میں دو منٹ کے وقفے کے دوران سات زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس کے نتیجے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">ذیل میں پاکستان میں آنے والے زلزلوں کی فہرست ہے</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''> پاکستان کے شمالی علاقہ سمیت افغانستان اور ہندوستان میں  آج زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے.</p><p class=''>امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 تھی جس سے ملک کے کئی شہر لرز اٹھے، جبکہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1 تھی ۔</p><h5 id="toc_0">ذیل میں پاکستان میں آنے والے زلزلوں کی فہرست ہے</h5>
<p class=''><strong>چوبیس ستمبر، 2013</strong> کو بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 328 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے سے جنوب مغربی صوبے میں ہزروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔</p><hr>
<p class=''><strong>کوئٹہ میں سولہ اپریل 2013</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 7.9 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے پاکستان، ایران، ہندوستان اور چند خلیجی ملکوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔ اس زلزلے کا مرکز پاک ایران سرحد کے قریب واقع ایران میں سروان کا علاقہ تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں چونتیس افراد کی ہلاکت جبکہ اسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ دوسری جانب ایک لاکھ کے قریب مکانات زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہوئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>چار اپریل، 2013</strong> کو پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، ریکٹر اسکیل پر ان جھٹکوں کی شدت 5.4 ریکارڈ کی گئی تھی۔ مذکورہ زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔</p><hr>
<p class=''><strong>سترہ فروری، 2013</strong> کو 5.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کو ہلا دیا تھا، جن میں نوشہرہ، پشاور، ملاکنڈ، شانگلہ، گلگت بلتستان کے مختلف علاقے، لوئر دیر اور خیبر کے قبائلی علاقے شامل ہیں۔ اس زلزلے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔</p><hr>
<p class=''><strong>انتیس دسمبر، 2012</strong> کو افغانستان کے ہندوکش علاقے میں 5.8 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے پاکستان کے بھی کچھ حصوں میں محسوس کیے گئے، تاہم اس کے نتیجے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھارہ جولائی، 2012</strong> کو 5.7 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز محکمہ موسمیات کے مطابق کوہ ہندوکش تھا تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔</p><hr>
<p class=''><strong>بارہ جولائی، 2012</strong> کو 6.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، روالپندہ اور پنجاب میں محسوس کیے گئے اور اس کا مرکز بھی کوہ ہندوکش میں تقریباً 194 کلومیٹر زیرزمین تھا اور اس کے نتیجے میں نقصانات کا اطلاع نہیں۔</p><hr>
<p class=''><strong>پچیس مئی، 2012</strong> کو ایک درمیانی شدت کا زلزلہ کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیا گیا تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔</p><hr>
<p class=''><strong>بارہ مئی، 2012</strong> کو کوئٹہ کے علاقے سہراب میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p><hr>
<p class=''><strong>انیس جنوری، 2012</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور متاثرہ علاقوں کوئٹہ، زیارت، خانوزئی، پشین، ہرنائی، قلعہ عبدللہ اور ٹوبہ اچکزئی شامل تھے۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے نوے کلومیٹر جنوب میں ضلع زیارت کا علاقہ ٹوبہ اچکزئی تھا، تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>پندرہ مئی، 2011</strong> کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جس کی شدت 4.7 تھی اور اس کا مرکز مانسہرہ سے چونسٹھ کلومیٹر شمال مغرب میں اکتالیس کلومیٹر زیرِزمین تھا۔ اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>تین اپریل، 2011</strong> کو سات گھنٹوں کے وقفے کے دوران کراچی میں 2.8 اور 4.7 شدت کے دو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ان سے بھی کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔</p><hr>
<p class=''><strong>بائیس جنوری، 2011</strong> کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے ایک سو اٹھاسی کلومیٹر شمال میں ضلع فیض آباد تھا، لیکن اس کے نتیجے میں بھی کسی فوری جانی نقصان کی اطلاعات نہیں تھیں۔</p><hr>
<p class=''><strong>بیس جنوری، 2011</strong> کو 7.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز بلوچستان کا ضلع خاران میں تھا۔ اس کے نتیجے میں دو سو سے زائد مکانات تباہ ہوئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھارہ جنوری، 2011</strong> کے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کئی افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.2 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچاس کلومیٹر مغرب میں تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھائیس اکتوبر، 2010</strong> کو خیبر پختونخواہ، پنجاب، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھارہ جنوری، 2010</strong> کو 7.4 کی شدت سے والا زلزلہ کراچی میں محسوس کیا گیا، جس کا دورانیہ تقریباً ایک منٹ تھا۔ اس زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچپن کلومیٹر مغرب میں تھا تاہم اس سے کسی بڑے نقصان کی اطلاعات نہیں ملی تھی۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھائیس اکتوبر، 2008</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 6.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک جبکہ تین سو ستر افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کئی عمارتیں بھی تباہ ہوئی تھیں۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے ساٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>آٹھ اکتوبر، 2005</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔ زلزلے کے نتیجے میں اسی ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت، دو لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے 978 آفٹرشاکس کا سلسلہ ستائیس اکتوبر تک جاری رہا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>چودہ فروری، 2004</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 5.7 اور 5.5 کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>تین اکتوبر، 2002 کو</strong> ریکٹر اسکیل پر 5.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں تیس افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>چھبیس جنوری، 2001</strong> کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں صوبہ سندھ میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ ایک سو آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.5 نوٹ کی گئی تھی۔</p><hr>
<p class=''><strong>بیس مارچ، 1997</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں باجوڑ کے قبائلی علاقے کے گاؤں سلارزئی میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھائیس فروری، 1997</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 7.2 کی شدت کا زلزلہ پورے پاکستان میں محسوس کیا گیا جبکہ اس کا دورانیہ تیس سے نوے سیکنڈز تک تھا۔ پاکستان کے تقریباً تمام علاقوں میں محسوس کیے جانے والے اس زلزلے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>اکتیس مئی، 1995</strong> کو نصیر آباد ڈویژن کے بگٹی پہاڑوں کے دامنی علاقوں میں آنے والے 5.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک درجن مکانات تباہ اور تین بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>سولہ جنوری 1978</strong> کو پشاور میں ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کا مرکز پشاور سے تین سو کلومیٹر شمال میں کوہ ہندوکش میں تھا۔ اس زلزلے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>بیس اکتوبر 1975</strong> میں کوئٹہ میں ایک انتہائی شدید زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔</p><hr>
<p class=''><strong>ستائیس جنوری، 1975</strong> کو مری بگٹی میں بھی ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کا مرکز کوئٹہ سے ایک سو چالیس کلومیٹر جنوب میں کوہ سلیمان میں تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھائیس دسمبر، 1974</strong> کو ریکٹر اسکیل پر 7.4 کی شدت کے زلزلے سے ہزارہ، ہنزہ، سوات اور خیبر پختونخواہ میں پانچ ہزار تین ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ سترہ ہزار افراد زخمی اور چار ہزار چار سو مکانات بھی تباہ ہو گئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>تیس جون 1974</strong> کو پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک انتہائی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور اس کے نتیجے میں چار ہلاک اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھارہ مئی 1974</strong> کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے ایبٹ آباد میں محسوس کئے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>اسی طرح تیرہ مئی 1973</strong> کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>چھ مئی 1972</strong> کو راولپنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے کئی سیکنڈز تک محسوس کیے گئے جس کے بعد لوگ عمارتوں سے باہر آ گئے تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>یکم جنوری 1972</strong> کو اسلام آباد، راولپنڈی، ایبٹ آباد، لاہور اور ملحقہ علاقوں میں اٹھارہ سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کے بعد، سیالکوٹ میں بھی پچاس سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>اٹھائیس دسمبر 1971</strong> کو پشاور اور راولپنڈی میں شدید نوعیت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔</p><hr>
<p class=''><strong>دو اکتوبر 1971</strong> کو ایبٹ آباد اور ہزارہ کے چند حصوں میں زلزلے کے پانچ جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>یکم اکتوبر 1971</strong> کو راولپنڈی میں درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>دس ستمبر 1971</strong> کو گلگت کے کچھ علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد مکانات تباہ ہو گئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong>چار ستمبر 1971</strong> کو ایبٹ آباد میں چھ مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p><hr>
<p class=''><strong>تین ستمبر 1971</strong> کو راولپنڈی میں دو منٹ کے وقفے کے دوران سات زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس کے نتیجے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1028450</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Nov 2017 12:03:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/10/562df7b927c9b.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/10/562df7b927c9b.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/10/562dfebc4fcf0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/10/562dfebc4fcf0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
