<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 09:42:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 09:42:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں فیکٹری زمین بوس، 18 مزدور ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1028874/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: لاہور میں زیر تعمیر فیکٹری زمین بوس ہونے سے کم از کم 18 مزدور ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریسکیو حکام کے مطابق بدھ کو سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ میں کم از کم 40 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لاہور کے ڈی سی او کیپٹن (ر) محمد عثمان نے ڈان کو بتایا کہ ملبے سے 70 سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریسکیو عملے نے اب تک 18 لاشیں نکال لی ہیں جبکہ کم از کم 40 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولی تھین بیگ بنانے والے اس تین منزلہ فیکٹری کی چوتھی منزل زیر تعمیر تھی، جہاں کئی کم عمر مزدور بھی کام کرتے تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک مزدور رفیق نے ڈان کو بتایا کہ وہ چوتھی منزل پر کام کر رہے تھے کہ اچانک عمارت زمین بوس ہو گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;رفیق کے مطابق، حادثہ کے وقت 150 سے زائد مزدور کام کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;عینی شاہدین نے بتایا کہ انہیں ملبے کے نیچے سے چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی.&lt;/p&gt;&lt;p&gt; ڈی سی او عثمان نے مزید بتایا کہ ہلاکتوں کی درست تعداد ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے دعوی کیا کہ ریسکیو میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کی امدادی ٹیمیں بھی جائے وقوع پر پہنچیں اور شہری انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف بھی موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اگر واقعہ میں سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کی انتظامیہ ذمہ داری نکلی تو سخت کارروائی ہو گی.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک مزدور سبطین شاہ نے بتایا کہ وہ فیکٹری میں کام کر رہے تھے کہ اچانک انہیں عمارت کے ستون لرزتے ہوئے محسوس ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;’ہم فیکٹری مالک کو اطلاع دینے بھاگ کر نیچے گئے تو انہوں نے ہماری عمارت خالی کرنے کی درخواست سنی اور حالات کا جائزہ لینے اندر چلے گئے، اس دوران ہم جلدی سے باہر آ گئے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;شاہ کے مطابق، کچھ لمحوں بعد عمارت زمین بوس ہو گئی اور کئی ساتھی مزدور ملبے تلے دب گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بتایا جارہا ہے کہ فیکٹری مالک رانا اشرف بھی واقعے میں ہلاک ہو گئے، جن کی  لاش ہسپتال منتقل کر دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کئی مزدوروں نے نیوز چینلز کو بتایا کہ گزشتہ دنوں زلزلے کے جھٹکوں کے نتیجے میں عمارت میں دراڑیں پڑ گئی تھیں، تاہم فیکٹری مالک نے چوتھی منزل کی تعمیر جاری رکھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک مزدور نے بتایا &amp;#39;ہم نے فیکٹری مالک سے چوتھی منزل بنانے سے قبل اضافی ستون کھڑے کرنے کو کہا تھا، لیکن ا نہوں نے ہمارا مشورہ نظر انداز کر دیا&amp;#39;۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: لاہور میں زیر تعمیر فیکٹری زمین بوس ہونے سے کم از کم 18 مزدور ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔</p><p>ریسکیو حکام کے مطابق بدھ کو سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ میں کم از کم 40 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔</p><p>لاہور کے ڈی سی او کیپٹن (ر) محمد عثمان نے ڈان کو بتایا کہ ملبے سے 70 سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے۔</p><p>ریسکیو عملے نے اب تک 18 لاشیں نکال لی ہیں جبکہ کم از کم 40 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا.</p><p>پولی تھین بیگ بنانے والے اس تین منزلہ فیکٹری کی چوتھی منزل زیر تعمیر تھی، جہاں کئی کم عمر مزدور بھی کام کرتے تھے۔ </p><p>ایک مزدور رفیق نے ڈان کو بتایا کہ وہ چوتھی منزل پر کام کر رہے تھے کہ اچانک عمارت زمین بوس ہو گئی۔</p><p>رفیق کے مطابق، حادثہ کے وقت 150 سے زائد مزدور کام کر رہے تھے۔</p><p>عینی شاہدین نے بتایا کہ انہیں ملبے کے نیچے سے چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی.</p><p> ڈی سی او عثمان نے مزید بتایا کہ ہلاکتوں کی درست تعداد ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔</p><p>انہوں نے دعوی کیا کہ ریسکیو میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p><p>آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کی امدادی ٹیمیں بھی جائے وقوع پر پہنچیں اور شہری انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا.</p><p>پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف بھی موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اگر واقعہ میں سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کی انتظامیہ ذمہ داری نکلی تو سخت کارروائی ہو گی.</p><p>ایک مزدور سبطین شاہ نے بتایا کہ وہ فیکٹری میں کام کر رہے تھے کہ اچانک انہیں عمارت کے ستون لرزتے ہوئے محسوس ہوئے۔</p><p>’ہم فیکٹری مالک کو اطلاع دینے بھاگ کر نیچے گئے تو انہوں نے ہماری عمارت خالی کرنے کی درخواست سنی اور حالات کا جائزہ لینے اندر چلے گئے، اس دوران ہم جلدی سے باہر آ گئے‘۔</p><p>شاہ کے مطابق، کچھ لمحوں بعد عمارت زمین بوس ہو گئی اور کئی ساتھی مزدور ملبے تلے دب گئے۔</p><p>بتایا جارہا ہے کہ فیکٹری مالک رانا اشرف بھی واقعے میں ہلاک ہو گئے، جن کی  لاش ہسپتال منتقل کر دی گئی۔</p><p>کئی مزدوروں نے نیوز چینلز کو بتایا کہ گزشتہ دنوں زلزلے کے جھٹکوں کے نتیجے میں عمارت میں دراڑیں پڑ گئی تھیں، تاہم فیکٹری مالک نے چوتھی منزل کی تعمیر جاری رکھی۔</p><p>ایک مزدور نے بتایا &#39;ہم نے فیکٹری مالک سے چوتھی منزل بنانے سے قبل اضافی ستون کھڑے کرنے کو کہا تھا، لیکن ا نہوں نے ہمارا مشورہ نظر انداز کر دیا&#39;۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1028874</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Nov 2015 11:31:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/11/563aea001b9f5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/11/563aea001b9f5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/11/563a470d72415.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/11/563a470d72415.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
