<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:30:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:30:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>&amp;rsquo;منی بجٹ&amp;lsquo; میں 40 ارب روپے کے نئے ٹیکس </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1029953/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیر کے روز ’منی بجٹ‘ کا اعلان کرتے ہوئے 61 درآمدی اشیاء پر 5 سے 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی، 289 درآمدی اشیاء کی ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافے جبکہ دیگر ہزاروں درآمدی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ایک فیصد اضافہ کرکے عوام پر اضافی 40 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس فیصلے کا اعلان وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’نئے محصولات لگانے کا مقصد سال کے پہلے 4 ماہ میں حاصل ہونے والی آمدنی کے 39.8 ارب روپے کے خسارے کو پورا کرنا ہے۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کمیٹی کے اجلاس میں مکئی کی درآمدات پر 30 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے جبکہ گندم کی فی 40 کلو گرام کی امدادی رقم 1300 روپے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی ہوا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے بتایا کہ اجلاس کے دوران پہلے سے منظور شدہ قطر سے حاصل کی جانے والی 16 ارب ڈالر کی مائع قدرتی گیس کے معاملے کو نہیں اٹھایا گیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایسی 61 اشیاء، جن پر پہلے سے ڈیوٹی موجود نہیں تھی، پر 5 سے 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے سے 4.5 ارب روپے حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایسی 1400 غیر ضروری پُرتعیش درآمدی اشیاء کی نشاندہی کی ہے جو تیل کی کم قیمت کے باعث حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر بچت کو کھارہی ہیں لیکن ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کا رکن ہونے کی وجہ سے پاکستان کا ان اشیاء پر پابندی لگانا ممکن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ 289 اشیاء کی درآمدات پر 5 فیصد کی ڈیوٹی لگانے سے 4.5 ارب روپے حاصل ہوں گے جبکہ کسٹم ایکٹ کے دائرے میں آنے والی ففتھ شیڈول میں شامل وہ اشیا جن پر پہلے سے 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی لاگو کی جاتی ہے، پر مزید ایک فیصد ڈیوٹی لگانے سے حکومت کو اضافی 21 ارب روپے حاصل ہوں گے.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس ایک فیصد اضافے کا اطلاق 9 قسم کی درآمدات پر نہیں ہوگا جن میں پولٹری، سبزیاں، زرعی مشینری، ضروری خام مال، ٹیکسٹائل، زراعت، فارماسیوٹیکل اور ہوا بازی کے شعبوں کے علاوہ سماجی طور پر حساس اشیاء شامل ہیں.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کے علاوہ اس اضافی ایک فیصد ڈیوٹی کا اطلاق کھاد، بیج اور سامان کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور دیگر 25 سیکٹرز جیسا کہ مصنوعی چمڑے کی صنعت، ادویات، شوگر ملز، فلیٹ رولنگ سٹیل کی صنعت اور الیکٹرک موٹرز پر نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انھوں نے مزید بتایا کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی سگریٹس پر اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے سے 6.5 ارب روپے اور ایک ہزار سی سی سے زائد کی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی کے ذریعے 2.5 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے.&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر یکم دسمبر 2015 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیر کے روز ’منی بجٹ‘ کا اعلان کرتے ہوئے 61 درآمدی اشیاء پر 5 سے 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی، 289 درآمدی اشیاء کی ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافے جبکہ دیگر ہزاروں درآمدی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ایک فیصد اضافہ کرکے عوام پر اضافی 40 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p><p>اس فیصلے کا اعلان وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کیا.</p><p>وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’نئے محصولات لگانے کا مقصد سال کے پہلے 4 ماہ میں حاصل ہونے والی آمدنی کے 39.8 ارب روپے کے خسارے کو پورا کرنا ہے۔‘</p><p>کمیٹی کے اجلاس میں مکئی کی درآمدات پر 30 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے جبکہ گندم کی فی 40 کلو گرام کی امدادی رقم 1300 روپے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی ہوا.</p><p>اسحاق ڈار نے بتایا کہ اجلاس کے دوران پہلے سے منظور شدہ قطر سے حاصل کی جانے والی 16 ارب ڈالر کی مائع قدرتی گیس کے معاملے کو نہیں اٹھایا گیا.</p><p>وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایسی 61 اشیاء، جن پر پہلے سے ڈیوٹی موجود نہیں تھی، پر 5 سے 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے سے 4.5 ارب روپے حاصل ہوں گے۔</p><p>ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایسی 1400 غیر ضروری پُرتعیش درآمدی اشیاء کی نشاندہی کی ہے جو تیل کی کم قیمت کے باعث حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر بچت کو کھارہی ہیں لیکن ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کا رکن ہونے کی وجہ سے پاکستان کا ان اشیاء پر پابندی لگانا ممکن نہیں ہے۔</p><p>اسحاق ڈار نے کہا کہ 289 اشیاء کی درآمدات پر 5 فیصد کی ڈیوٹی لگانے سے 4.5 ارب روپے حاصل ہوں گے جبکہ کسٹم ایکٹ کے دائرے میں آنے والی ففتھ شیڈول میں شامل وہ اشیا جن پر پہلے سے 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی لاگو کی جاتی ہے، پر مزید ایک فیصد ڈیوٹی لگانے سے حکومت کو اضافی 21 ارب روپے حاصل ہوں گے.</p><p>اس ایک فیصد اضافے کا اطلاق 9 قسم کی درآمدات پر نہیں ہوگا جن میں پولٹری، سبزیاں، زرعی مشینری، ضروری خام مال، ٹیکسٹائل، زراعت، فارماسیوٹیکل اور ہوا بازی کے شعبوں کے علاوہ سماجی طور پر حساس اشیاء شامل ہیں.</p><p>اس کے علاوہ اس اضافی ایک فیصد ڈیوٹی کا اطلاق کھاد، بیج اور سامان کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور دیگر 25 سیکٹرز جیسا کہ مصنوعی چمڑے کی صنعت، ادویات، شوگر ملز، فلیٹ رولنگ سٹیل کی صنعت اور الیکٹرک موٹرز پر نہیں ہوگا۔</p><p>انھوں نے مزید بتایا کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی سگریٹس پر اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے سے 6.5 ارب روپے اور ایک ہزار سی سی سے زائد کی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی کے ذریعے 2.5 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے.</p><hr>
<p><strong>یہ خبر یکم دسمبر 2015 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1029953</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Dec 2015 09:03:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/565d1b9df2faa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/565d1b9df2faa.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
