<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 14:14:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 14:14:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: اسفند خان &amp;ndash;عمر 15</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030190/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: اسفند خان –عمر 15&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;والدین: اجون خان اور شاہانہ بی بی&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بہن بھائی: 5 سالہ محمد وادان خان اور 12 سالہ ماہ روشا خان&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;اسفند ایک خاموش طبع لیکن پراعتماد نوجوان تھا، جس کی خواہش تھی کہ وہ وکیل بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ڈرائیونگ اور جم میں ٹریننگ کا بھی شوقین تھا۔ تاہم اپنے دیگر ہم عمر لڑکوں کے برعکس وہ خود میں مگن رہتا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسفند تنہائی پسند تھا اور زیادہ وقت اپنے کمرے میں گزارنا پسند کرتا تھا۔ اسفند کی ان ہی عادات کی بدولت بڑے اور بچے سب انھیں پسند کرتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسفند اپنے والد کے بہت قریب تھے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارتے تھے، جس کے دوران وہ پتنگ اڑاتے اور پکنکس پر جایا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسفند ایک ذمہ دار نوجوان تھا، جو اپنے والد کی غیر موجودگی میں گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسفند کی موت نے ان کے والد کو شدید صدمے سے دوچار کردیا، ان کا کہنا ہے کہ اسفند کے جانے سے نہ صرف انھوں نے ایک بیٹا کھودیا ہے بلکہ وہ ایک دوست اور دستِ راست سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسفند کے والد کا کہنا ہے، &amp;quot; اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد مجھے اپنی زندگی نئے سِرے سے شروع کرنی پڑے گی&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56477949147d7.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: اسفند خان –عمر 15</h1>
<h5>والدین: اجون خان اور شاہانہ بی بی</h5>
<h5>بہن بھائی: 5 سالہ محمد وادان خان اور 12 سالہ ماہ روشا خان</h5>
<p>اسفند ایک خاموش طبع لیکن پراعتماد نوجوان تھا، جس کی خواہش تھی کہ وہ وکیل بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ڈرائیونگ اور جم میں ٹریننگ کا بھی شوقین تھا۔ تاہم اپنے دیگر ہم عمر لڑکوں کے برعکس وہ خود میں مگن رہتا تھا۔</p><p>اسفند تنہائی پسند تھا اور زیادہ وقت اپنے کمرے میں گزارنا پسند کرتا تھا۔ اسفند کی ان ہی عادات کی بدولت بڑے اور بچے سب انھیں پسند کرتے تھے۔</p><p>اسفند اپنے والد کے بہت قریب تھے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارتے تھے، جس کے دوران وہ پتنگ اڑاتے اور پکنکس پر جایا کرتے تھے۔</p><p>اسفند ایک ذمہ دار نوجوان تھا، جو اپنے والد کی غیر موجودگی میں گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتا تھا۔</p><p>اسفند کی موت نے ان کے والد کو شدید صدمے سے دوچار کردیا، ان کا کہنا ہے کہ اسفند کے جانے سے نہ صرف انھوں نے ایک بیٹا کھودیا ہے بلکہ وہ ایک دوست اور دستِ راست سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔</p><p>اسفند کے والد کا کہنا ہے، &quot; اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد مجھے اپنی زندگی نئے سِرے سے شروع کرنی پڑے گی&quot;۔</p><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56477949147d7.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030190</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 18:36:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/567168f0c3eb5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/567168f0c3eb5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
