<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 15:09:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Apr 2026 15:09:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: فہد حسین&amp;ndash;عمر 14</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030202/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: فہد حسین–عمر 14&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;والدین کا نام: اختر حسین، ثمینہ حسین&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بہن بھائی: 17 سالہ احمد حسین، 16 سالہ عزیر حسین، 9 سالہ عاصم حسین&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;جس دن آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا گیا، اُس دن فہد کی سالگرہ تھی۔ حملے سے ایک دن قبل انھوں نے برتھ ڈے پارٹی کے لیے اپنے دوستوں اور کزنز کو گھر پر مدعو کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فہد کے دوست رحمٰن نے حملے کے دن ان کی بہادری کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب دہشت گرد کلاس روم میں داخل ہوئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کی تو فہد نے کلاس روم کا دروازہ کھولا اور اپنے دوستوں کو وہاں سے نکل جانے کا کہا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ دروازے پر اُس وقت تک کھڑے رہے جب تک ان کے ہم جماعت وہاں سے نکل نہ گئے، وہی وقت تھا جب فہد کو سر اور ٹانگ پر گولیاں لگیں۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ ان کے بھائی احمد (جو آرمی پبلک اسکول کے ہی طالب علم ہیں) کو بلائیں تاکہ وہ انھیں یہاں سےلے جائیں لیکن اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فہد کی والدہ کے مطابق وہ ایک بہت سادہ اور دوسروں کی مدد کرنے والے بچے تھے، جو گھر کے کاموں میں اپنی والدہ کا ہاتھ  بھی بٹایا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انھیں کوکنگ کرنا بھی پسند تھا اور قیمہ ان کی پسندیدہ ڈش تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فہد بڑے ہوکر انجینیئربننا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فہد کی والدہ اب بھی ان کے ذکر پر آبدیدہ ہوجاتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتیں کہ فہد کے بغیر اب زندگی کیسے گزارنی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e18347505e.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-5/8 w-full  media--left    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e17ce4643b.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e188fbadcc.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e191cea618.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: فہد حسین–عمر 14</h1>
<h5>والدین کا نام: اختر حسین، ثمینہ حسین</h5>
<h5>بہن بھائی: 17 سالہ احمد حسین، 16 سالہ عزیر حسین، 9 سالہ عاصم حسین</h5>
<p>جس دن آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا گیا، اُس دن فہد کی سالگرہ تھی۔ حملے سے ایک دن قبل انھوں نے برتھ ڈے پارٹی کے لیے اپنے دوستوں اور کزنز کو گھر پر مدعو کیا تھا۔</p><p>فہد کے دوست رحمٰن نے حملے کے دن ان کی بہادری کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب دہشت گرد کلاس روم میں داخل ہوئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کی تو فہد نے کلاس روم کا دروازہ کھولا اور اپنے دوستوں کو وہاں سے نکل جانے کا کہا۔</p><p>وہ دروازے پر اُس وقت تک کھڑے رہے جب تک ان کے ہم جماعت وہاں سے نکل نہ گئے، وہی وقت تھا جب فہد کو سر اور ٹانگ پر گولیاں لگیں۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ ان کے بھائی احمد (جو آرمی پبلک اسکول کے ہی طالب علم ہیں) کو بلائیں تاکہ وہ انھیں یہاں سےلے جائیں لیکن اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔</p><p>فہد کی والدہ کے مطابق وہ ایک بہت سادہ اور دوسروں کی مدد کرنے والے بچے تھے، جو گھر کے کاموں میں اپنی والدہ کا ہاتھ  بھی بٹایا کرتے تھے۔</p><p>انھیں کوکنگ کرنا بھی پسند تھا اور قیمہ ان کی پسندیدہ ڈش تھی۔</p><p>فہد بڑے ہوکر انجینیئربننا چاہتے تھے۔</p><p>فہد کی والدہ اب بھی ان کے ذکر پر آبدیدہ ہوجاتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتیں کہ فہد کے بغیر اب زندگی کیسے گزارنی ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e18347505e.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 sm:w-5/8 w-full  media--left    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e17ce4643b.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e188fbadcc.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e191cea618.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030202</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 17:33:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/56715a21b0f14.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="850">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/56715a21b0f14.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
