<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 13:52:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 13:52:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: اسامہ بن طارق &amp;ndash;عمر 15</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030239/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: اسامہ بن طارق –عمر 15&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;والدین : نائیک صوبیدار طارق محمود اور سفینہ طارق&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بہنیں : 15 سالہ امامہ طارق، 12 سالہ ثناءطارق&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;تین بہنوں میں سے سب بڑا اور اکلوتا بیٹا اسامہ اپنے والدین کے لیے بہت خاص تھا۔ اس کے والد بتاتے ہیں کہ وہ ایک ہینڈسم لڑکا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسامہ بڑے ہونے پر ایک فوجی افسر بننا چاہتا تھا۔ اسے ان افراد کی بہت زیادہ فکر تھی جو فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے تھے اور وہ ان کی بحالی نو کے لیے کام کرنا چاہتا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ فٹبال کا بہترین کھلاڑی تھا اور اکثر اپنے والد کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ وہ بہترین دوستوں کی طرح تھے۔ اس کے والد نے بیٹے کے لیے حملے سے کچھ روز پہلے ایک نئی موٹرسائیکل بھی خریدی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بیٹے کی موت پر اسامہ کی والدہ بکھر کر رہ گئیں۔ وہ اکثر بیٹے کی تصاویر کو دیکھتی اور ان سے باتیں کرتی رہتی ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اسامہ اب بھی زندہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5655f6898d484.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5655f689ea5fa.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: اسامہ بن طارق –عمر 15</h1>
<h5>والدین : نائیک صوبیدار طارق محمود اور سفینہ طارق</h5>
<h5>بہنیں : 15 سالہ امامہ طارق، 12 سالہ ثناءطارق</h5>
<p>تین بہنوں میں سے سب بڑا اور اکلوتا بیٹا اسامہ اپنے والدین کے لیے بہت خاص تھا۔ اس کے والد بتاتے ہیں کہ وہ ایک ہینڈسم لڑکا تھا۔</p><p>اسامہ بڑے ہونے پر ایک فوجی افسر بننا چاہتا تھا۔ اسے ان افراد کی بہت زیادہ فکر تھی جو فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے تھے اور وہ ان کی بحالی نو کے لیے کام کرنا چاہتا تھا۔</p><p>وہ فٹبال کا بہترین کھلاڑی تھا اور اکثر اپنے والد کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ وہ بہترین دوستوں کی طرح تھے۔ اس کے والد نے بیٹے کے لیے حملے سے کچھ روز پہلے ایک نئی موٹرسائیکل بھی خریدی تھی۔</p><p>بیٹے کی موت پر اسامہ کی والدہ بکھر کر رہ گئیں۔ وہ اکثر بیٹے کی تصاویر کو دیکھتی اور ان سے باتیں کرتی رہتی ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اسامہ اب بھی زندہ ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5655f6898d484.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5655f689ea5fa.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030239</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 19:04:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/56716f7bbb680.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="3264" width="2448">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/56716f7bbb680.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
