<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 15:11:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Apr 2026 15:11:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: صاحبزادہ عمر خان&amp;ndash;عمر 14</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030242/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: صاحبزادہ عمر خان–عمر 14&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;والدین: فضل محمد خان اور زیب النسا&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بہن بھائی: 11 سالہ صاحبزادہ افراسیاب خان، 6 سالہ: صاحبزادی مشال خان، 4 سالہ صاحبزادی علینہ اور 9 ماہ کا صاحبزادہ جیسم&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;عمر بھائی بہنوں میں سب سے بڑا ہونے کی وجہ سے ایک ذمہ دار لڑکا اور بھائی تھا۔ اس کے والدین کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی سمجھدار اور فرمانبردار تھا، جو اپنے گھر والوں کی کسی بھی ضرورت کو، ان کے کچھ بھی کہنے سے پہلے ہی جان لیتا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر اس کی والدہ گھریلوں کاموں میں مصروف ہوتیں، تو عمر اپے والد اور بہن بھائیوں کے لیے کھانا بھی پکالیتا اور اسے اس کے ذمہ دارانہ رویے پر گھر والے اسے ’گھر کا لیڈر‘ بھی کہتے تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;چھٹی والے عمر صبح سویرے اٹھ کر اپنے والد کے کچھ کہے بغیر ان کی گاڑی دھو دیتا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کی والدہ آج بھی راتوں کو اٹھ کر اپنے بیٹے کو اپنے بیٹے کو تلاش کرتی ہیں۔ عمر کے تمام اہلخانہ اس کے لیے دعا گو ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565216ccf3705.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56521795498fe.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: صاحبزادہ عمر خان–عمر 14</h1>
<h5>والدین: فضل محمد خان اور زیب النسا</h5>
<h5>بہن بھائی: 11 سالہ صاحبزادہ افراسیاب خان، 6 سالہ: صاحبزادی مشال خان، 4 سالہ صاحبزادی علینہ اور 9 ماہ کا صاحبزادہ جیسم</h5>
<p>عمر بھائی بہنوں میں سب سے بڑا ہونے کی وجہ سے ایک ذمہ دار لڑکا اور بھائی تھا۔ اس کے والدین کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی سمجھدار اور فرمانبردار تھا، جو اپنے گھر والوں کی کسی بھی ضرورت کو، ان کے کچھ بھی کہنے سے پہلے ہی جان لیتا تھا۔</p><p>اگر اس کی والدہ گھریلوں کاموں میں مصروف ہوتیں، تو عمر اپے والد اور بہن بھائیوں کے لیے کھانا بھی پکالیتا اور اسے اس کے ذمہ دارانہ رویے پر گھر والے اسے ’گھر کا لیڈر‘ بھی کہتے تھے۔ </p><p>چھٹی والے عمر صبح سویرے اٹھ کر اپنے والد کے کچھ کہے بغیر ان کی گاڑی دھو دیتا تھا۔</p><p>اس کی والدہ آج بھی راتوں کو اٹھ کر اپنے بیٹے کو اپنے بیٹے کو تلاش کرتی ہیں۔ عمر کے تمام اہلخانہ اس کے لیے دعا گو ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565216ccf3705.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56521795498fe.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030242</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 18:04:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/5671614f548dd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="500" width="850">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/5671614f548dd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
