<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 12:17:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 12:17:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: محمد ذیشان آفریدی &amp;ndash;عمر18 </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030278/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: محمد ذیشان آفریدی –عمر18&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;والدین : حولدار اول شاہ اور رضیہ صنم&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بہن بھائی : 28 سالہ نوید، 25 سالہ داﺅد، 22 سالہ زینب بی بی، 15 سالہ نعمان، 10 سالہ فیصل&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;ذیشان کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کا تحفہ تھا۔ وہ گرم جوش دل کا مالک اور لطائف کا شوقین تھا۔ وہ اپنی والدہ کے قریب تھا اور ان کے ساتھ اپنے مسئلے پر تبادلہ خیال کرتا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;چونکہ اس کا گھر اسکول سے بہت دور تھا، اسی لیے ذیشان ہوسٹل میں مقیم تھا۔ اسے دیگر طالبعلموں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا پسند تھا۔ وہ ایک اچھا فاسٹ باﺅلر تھا اور اسی وجہ سے وہ اسکول کی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ فوجی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ جب اس کی میڈیسین ڈگری مکمل ہوجائے گی تو وہ فاٹا میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کی خدمت کرے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کے والد کے مطابق ذیشان ایک اچھا مقرر، مصنف اور مطالعہ کرنے والا تھا۔ اس نے متعدد شعبوں میں کئی میڈلز اور سرٹیفکیٹس اپنے نام کیے۔ اسے اپنی کلاس کا ایک بہترین اور ذہین طالبعلم تصور کیا جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ امتحانات میں نوے فیصد سے زائد نمبر لیتا۔ انگلش اور ریاضی اس کے پسندیدہ مضامین تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کے خاندان کا کہنا ہے ان سے کھانا نہیں جاتا، وہ اسی طرح ہنستے ہیں جیسے اس وقت ذیشان ان کی زندگیوں میں تھا۔ وہ اسے بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-2/3 w-full  media--center    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565656f8a78d1.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/4 w-full  media--center    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565656f983695.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: محمد ذیشان آفریدی –عمر18</h1>
<h5>والدین : حولدار اول شاہ اور رضیہ صنم</h5>
<h5>بہن بھائی : 28 سالہ نوید، 25 سالہ داﺅد، 22 سالہ زینب بی بی، 15 سالہ نعمان، 10 سالہ فیصل</h5>
<p>ذیشان کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کا تحفہ تھا۔ وہ گرم جوش دل کا مالک اور لطائف کا شوقین تھا۔ وہ اپنی والدہ کے قریب تھا اور ان کے ساتھ اپنے مسئلے پر تبادلہ خیال کرتا تھا۔</p><p>چونکہ اس کا گھر اسکول سے بہت دور تھا، اسی لیے ذیشان ہوسٹل میں مقیم تھا۔ اسے دیگر طالبعلموں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا پسند تھا۔ وہ ایک اچھا فاسٹ باﺅلر تھا اور اسی وجہ سے وہ اسکول کی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا۔</p><p>وہ فوجی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ جب اس کی میڈیسین ڈگری مکمل ہوجائے گی تو وہ فاٹا میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کی خدمت کرے گا۔</p><p>اس کے والد کے مطابق ذیشان ایک اچھا مقرر، مصنف اور مطالعہ کرنے والا تھا۔ اس نے متعدد شعبوں میں کئی میڈلز اور سرٹیفکیٹس اپنے نام کیے۔ اسے اپنی کلاس کا ایک بہترین اور ذہین طالبعلم تصور کیا جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ امتحانات میں نوے فیصد سے زائد نمبر لیتا۔ انگلش اور ریاضی اس کے پسندیدہ مضامین تھے۔</p><p>اس کے خاندان کا کہنا ہے ان سے کھانا نہیں جاتا، وہ اسی طرح ہنستے ہیں جیسے اس وقت ذیشان ان کی زندگیوں میں تھا۔ وہ اسے بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-2/3 w-full  media--center    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565656f8a78d1.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
</p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/4 w-full  media--center    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565656f983695.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030278</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 19:40:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/567177c7bdcc6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="514" width="514">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/567177c7bdcc6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
