<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:13:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:13:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: احسان اللہ &amp;ndash;عمر22</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030291/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: احسان اللہ –عمر22&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;والدین: زین اللہ اور سلیمہ بی بی&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بچے: 3 سالہ یاسر اللہ، 5 ماہ کا محمد یوسف&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;احسان اللہ نے سانحہ سے صرف دس دن قبل ہی سکول میں ملازمت اختیار کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس بدقسمت دن احسان اللہ نے 40 زخمی بچوں کو ایمبولنس منتقل کرنے میں مدد کی ،لیکن   دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آ گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ  اپنے بچوں کو اِسی سکول میں تعلیم دلانے  اور ڈاکٹر بنانے کے خواہش مند تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;احسان اللہ کے اہل خانہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار اور مخلص شخص تھے، جو  اپنے پیاروں کا خیال رکھتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;قابل اعتماد اور محنتی ہونے کی وجہ سے اہل خانہ ان پر بہت زیادہ انحصار کرتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;احسان اللہ کبھی بھی ڈرائیور نہیں بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے دو مرتبہ اپنا ایک چھوٹا کاروبار شروع کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ کام ختم ہونے کے بعد  شام کو ٹی وی پر ڈرامے اور فلمیں دیکھ کر ریلکس ہوتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;احسان کی بیوی کو ابھی تک ان کے چلے جانے کا یقین نہیں آتا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--center    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56564ee6c7bf6.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: احسان اللہ –عمر22</h1>
<h5>والدین: زین اللہ اور سلیمہ بی بی</h5>
<h5>بچے: 3 سالہ یاسر اللہ، 5 ماہ کا محمد یوسف</h5>
<p>احسان اللہ نے سانحہ سے صرف دس دن قبل ہی سکول میں ملازمت اختیار کی تھی۔</p><p>اس بدقسمت دن احسان اللہ نے 40 زخمی بچوں کو ایمبولنس منتقل کرنے میں مدد کی ،لیکن   دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آ گئے۔</p><p>وہ  اپنے بچوں کو اِسی سکول میں تعلیم دلانے  اور ڈاکٹر بنانے کے خواہش مند تھے۔</p><p>احسان اللہ کے اہل خانہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار اور مخلص شخص تھے، جو  اپنے پیاروں کا خیال رکھتے۔</p><p>قابل اعتماد اور محنتی ہونے کی وجہ سے اہل خانہ ان پر بہت زیادہ انحصار کرتے۔</p><p>احسان اللہ کبھی بھی ڈرائیور نہیں بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے دو مرتبہ اپنا ایک چھوٹا کاروبار شروع کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔</p><p>وہ کام ختم ہونے کے بعد  شام کو ٹی وی پر ڈرامے اور فلمیں دیکھ کر ریلکس ہوتے۔</p><p>احسان کی بیوی کو ابھی تک ان کے چلے جانے کا یقین نہیں آتا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--center    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56564ee6c7bf6.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030291</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 22:52:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/5671a4e9cca0d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="317" width="277">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/5671a4e9cca0d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
