<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:13:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:13:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: محمد شفیق  &amp;ndash;عمر41</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030316/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: محمد شفیق  –عمر41&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;والد: محمد صادق&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بچے: ثاقب (8)، یسرا (7)، عافیہ (5) اور فریحہ(2)&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;شفیق 1996 سے سکول میں ہیڈ کلرک تھے۔ ان کا بھائی نے بتایا کہ وہ ایک ایماندار اور محنتی ملازم تھے جو دل سے طالب علموں سے پیار اور دیکھ بھال کرتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کے خواہش مند تھے۔ سکول کے اوقات کے بعد وہ ٹیکسی چلا کر  اپنے اہل خانہ کیلئے  کچھ اضافہ آمدنی کا بندوبست کرتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کے دو بچے آج کل اے پی ایس میں زیر تعلیم ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حملے کے وقت وہ خوف زدہ بچوں کو نکالنے میں مصروف تھے کہ ایک دہشت گرد نے انہیں پکڑ لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ  ریسکیو آپریشن کے دوران سکول سے دو مرتبہ نکلنے کے بعد تیسری مرتبہ بچوں کی مدد کیلئے اندر گئے  تو گولیوں کا نشانہ بن گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;شفیق کی بیوی کو آج بھی یقین نہیں ہوتا کہ ان کا شوہر اس دنیا میں نہیں رہا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565614778e554.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: محمد شفیق  –عمر41</h1>
<h5>والد: محمد صادق</h5>
<h5>بچے: ثاقب (8)، یسرا (7)، عافیہ (5) اور فریحہ(2)</h5>
<p>شفیق 1996 سے سکول میں ہیڈ کلرک تھے۔ ان کا بھائی نے بتایا کہ وہ ایک ایماندار اور محنتی ملازم تھے جو دل سے طالب علموں سے پیار اور دیکھ بھال کرتے تھے۔</p><p>وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کے خواہش مند تھے۔ سکول کے اوقات کے بعد وہ ٹیکسی چلا کر  اپنے اہل خانہ کیلئے  کچھ اضافہ آمدنی کا بندوبست کرتے۔</p><p>ان کے دو بچے آج کل اے پی ایس میں زیر تعلیم ہیں۔</p><p>حملے کے وقت وہ خوف زدہ بچوں کو نکالنے میں مصروف تھے کہ ایک دہشت گرد نے انہیں پکڑ لیا۔</p><p>وہ  ریسکیو آپریشن کے دوران سکول سے دو مرتبہ نکلنے کے بعد تیسری مرتبہ بچوں کی مدد کیلئے اندر گئے  تو گولیوں کا نشانہ بن گئے۔</p><p>شفیق کی بیوی کو آج بھی یقین نہیں ہوتا کہ ان کا شوہر اس دنیا میں نہیں رہا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565614778e554.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030316</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 23:07:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/5671a864b6125.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="961" width="859">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/5671a864b6125.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
