<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:13:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:13:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: شہناز نعیم &amp;ndash;عمر42</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030319/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: شہناز نعیم –عمر42&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;شوہر : ڈاکٹر نعیم ممتاز&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بچے : مشعل نعیم، اومامہ نعیم، انس نعیم&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;1994 سے آرمی پبلک اسکول سے وابستہ شہناز نعیم ایک لائق اور اپنے پیشے سے مخلص ٹیچر تھی جو اپنے متعدد ساتھیوں اور طالبعلموں کو غم زدہ چھوڑ کر چلی گئیں۔ ایک متاثر کن ٹیچر قرار دی جانے والی شہناز ایک محبت کرنے والی بیوی اور اپنے بچوں پر فدا ماں بھی تھیں جنھوں نے اپنے خاندان کی زندگی کو بھی بہترین طریقے سے سنبھال رکھا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;شہناز تعلیم کی ضرورت پر بہت زور دیتی تھیں اور اپنے بچوں کو خود پڑھاتی تھیں کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے والد کی طرح ڈاکٹر بنے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کے شوہر نعیم انہیں ایک سادہ اور محبت سے بھرپور خاتون کے طور پر یاد رکھتے ہیں جسے اپنے خاندان کو ایک جگہ جمع کرنا پسند تھا اور ان مواقعوں پر مزیدار پکوان بھی تیار کرتی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;شہناز کے ساتھیوں کے مطابق وہ ہمیں اور اپنے طالبعلموں کو اپنے خاندان کا رکن تصور کرتی تھی اور ہر ایک کا خیال رکھتی تھیں۔ طالبعلم انہیں ایسی ٹیچر کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں جو اپنے مضمون میں مکمل مہارت رکھتی تھیں اور اس وقت تک کمرہ جماعت سے باہر نہیں جاتی جب تک طالبعلموں کے تصورات واضح نہیں ہوجاتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;شہناز اپنی صحت اور فٹنس کا خیال رکھتی، جبکہ انہیں پھل اور سبزیاں کھانا پسند تھا۔ وہ سفر کی بھی شوقین تھی، کشمیر ان کا پسندیدہ مقام تھا اور وہ تعطیلات کے دوران اکثر خاندان کی پکنکس کا انتظام کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کے شوہر انہیں ایک بہادر خاتون قرار دیتے ہیں جس نے اپنی زندگی اپنے متعدد طالبعلموں کی زندگیاں بچانے کے لیے قربان کردی۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565611251b1df.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-11/12 w-full  media--center    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5656112ca7dcf.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56561124e0669.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: شہناز نعیم –عمر42</h1>
<h5>شوہر : ڈاکٹر نعیم ممتاز</h5>
<h5>بچے : مشعل نعیم، اومامہ نعیم، انس نعیم</h5>
<p>1994 سے آرمی پبلک اسکول سے وابستہ شہناز نعیم ایک لائق اور اپنے پیشے سے مخلص ٹیچر تھی جو اپنے متعدد ساتھیوں اور طالبعلموں کو غم زدہ چھوڑ کر چلی گئیں۔ ایک متاثر کن ٹیچر قرار دی جانے والی شہناز ایک محبت کرنے والی بیوی اور اپنے بچوں پر فدا ماں بھی تھیں جنھوں نے اپنے خاندان کی زندگی کو بھی بہترین طریقے سے سنبھال رکھا تھا۔</p><p>شہناز تعلیم کی ضرورت پر بہت زور دیتی تھیں اور اپنے بچوں کو خود پڑھاتی تھیں کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے والد کی طرح ڈاکٹر بنے۔</p><p>ان کے شوہر نعیم انہیں ایک سادہ اور محبت سے بھرپور خاتون کے طور پر یاد رکھتے ہیں جسے اپنے خاندان کو ایک جگہ جمع کرنا پسند تھا اور ان مواقعوں پر مزیدار پکوان بھی تیار کرتی۔</p><p>شہناز کے ساتھیوں کے مطابق وہ ہمیں اور اپنے طالبعلموں کو اپنے خاندان کا رکن تصور کرتی تھی اور ہر ایک کا خیال رکھتی تھیں۔ طالبعلم انہیں ایسی ٹیچر کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں جو اپنے مضمون میں مکمل مہارت رکھتی تھیں اور اس وقت تک کمرہ جماعت سے باہر نہیں جاتی جب تک طالبعلموں کے تصورات واضح نہیں ہوجاتے۔</p><p>شہناز اپنی صحت اور فٹنس کا خیال رکھتی، جبکہ انہیں پھل اور سبزیاں کھانا پسند تھا۔ وہ سفر کی بھی شوقین تھی، کشمیر ان کا پسندیدہ مقام تھا اور وہ تعطیلات کے دوران اکثر خاندان کی پکنکس کا انتظام کرتی تھیں۔</p><p>ان کے شوہر انہیں ایک بہادر خاتون قرار دیتے ہیں جس نے اپنی زندگی اپنے متعدد طالبعلموں کی زندگیاں بچانے کے لیے قربان کردی۔</p><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/565611251b1df.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 sm:w-11/12 w-full  media--center    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5656112ca7dcf.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
</p><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/56561124e0669.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030319</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 23:20:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/5671aa65a11ad.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/5671aa65a11ad.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
