<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:14:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:14:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی پبلک اسکول حملہ: پرویز اختر &amp;ndash;عمر50</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030321/</link>
      <description>&lt;h1&gt;آرمی پبلک اسکول حملہ: پرویز اختر –عمر50&lt;/h1&gt;
&lt;h5&gt;بیوی: ساجدہ پروین&lt;/h5&gt;
&lt;h5&gt;بچے: وسیم پرویز (21)، امہ کلثوم (20)، سلیم (19) اور رحیم (14)&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;پرویز اختر پچھلے 20 سالوں سے سکول  کی لیب میں بطور نائب خدمات سر انجام دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طالب علموں کے مطابق، پرویزایک ایماندار اور مخلص ملازم تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پرویز کے بچے انہیں ایک دھیمے مزاج  اور نرم دل والد کے طور پر یاد کرتے ہیں، جو محدود آمدنی کے باوجود ان کی خواہشات پوری کرتے۔
پرویز  اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلا نے اور ملک کا نام روشن کرنے کے خواہش مند تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پرویز کے بیٹے نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے محلے کی ایک بیوہ کے بچوں کے سکول یونیفارم اور کتابوں  کیلئے مدد کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پشتو، اردو اور پنجابی زبان پر دسترس رکھنے والے پرویز علاقے میں لوگوں کے باہمی جھگڑے ختم کرانے کی شہرت بھی رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جب بھی آس پاس لوگ ان کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے تو وہ ان کی مدد ضرور کرتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پرویز کے بیٹے نے بتایا وہ  اپنے بچوں کے ساتھ مختلف مسائل اور موضوعات پر طویل بحث و مباحثہ کرتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پرویز کی فیملی آج بھی انہیں یاد کر کے روتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5655ff6c38aaf.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>آرمی پبلک اسکول حملہ: پرویز اختر –عمر50</h1>
<h5>بیوی: ساجدہ پروین</h5>
<h5>بچے: وسیم پرویز (21)، امہ کلثوم (20)، سلیم (19) اور رحیم (14)</h5>
<p>پرویز اختر پچھلے 20 سالوں سے سکول  کی لیب میں بطور نائب خدمات سر انجام دے رہے تھے۔</p><p>طالب علموں کے مطابق، پرویزایک ایماندار اور مخلص ملازم تھے۔ </p><p>پرویز کے بچے انہیں ایک دھیمے مزاج  اور نرم دل والد کے طور پر یاد کرتے ہیں، جو محدود آمدنی کے باوجود ان کی خواہشات پوری کرتے۔
پرویز  اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلا نے اور ملک کا نام روشن کرنے کے خواہش مند تھے۔</p><p>پرویز کے بیٹے نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے محلے کی ایک بیوہ کے بچوں کے سکول یونیفارم اور کتابوں  کیلئے مدد کی۔</p><p>پشتو، اردو اور پنجابی زبان پر دسترس رکھنے والے پرویز علاقے میں لوگوں کے باہمی جھگڑے ختم کرانے کی شہرت بھی رکھتے تھے۔</p><p>جب بھی آس پاس لوگ ان کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے تو وہ ان کی مدد ضرور کرتے۔</p><p>پرویز کے بیٹے نے بتایا وہ  اپنے بچوں کے ساتھ مختلف مسائل اور موضوعات پر طویل بحث و مباحثہ کرتے۔</p><p>پرویز کی فیملی آج بھی انہیں یاد کر کے روتی ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/11/5655ff6c38aaf.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030321</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Dec 2015 23:24:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/5671ac3ecc31c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1720">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/5671ac3ecc31c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
