<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 00:31:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 00:31:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترک ساحل کے قریب 11 تارکین وطن ڈوب کر ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1030979/</link>
      <description>&lt;p&gt;انقرہ: یورپی یونین کے رکن ملک یونان جانے کے خواہشمند گیارہ تارکین وطن منگل کے روز ترک ساحل کے قریب ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناتولیہ کے مطابق ان افراد کی کشتی بحیرہ ایجیئن میں ڈوبی جبکہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/12/567954d2f187f.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1026309"&gt;دنیا کو دہلا دینے والا شامی بچہ سپردخاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترک کوسٹ گارڈز نے سات افراد کو ڈوبنے سے بچالیا تاہم انہیں گیارہ افراد کی لاشیں ملیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاحال یہ واضح نہیں کہ کشتی میں کتنے افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;گزشتہ چار سال سے جاری شامی تنازع کے باعث جنگ زدہ ملک سے لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ پہنچ رہے ہیں جبکہ یونان ان کا پہلا ٹھکانہ ہوتا ہے جس کے بعد وہ دیگر امیر یورپی ممالک کی جانب سفر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1026147"&gt;شامی بچے کی دل لرزا دینے والی تصویر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/55e99fe945ed7.jpg?r=1032569326'  alt='۔ &amp;mdash;اے پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					۔ &amp;mdash;اے پی&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;شدید سردی اور خطرناک سمندری لہروں کے باوجود منتقلی کا یہ عمل ابھی بھی جاری ہے جبکہ رواں سال سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان ہلاکتوں میں ایک چار سالہ بچے ایلان کردی بھی شامل ہیں جن کی تصاویر نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تین سالہ ایلان، چار سالہ غالب اور والدہ ریحانہ چار ماہ قبل ترکی کے ساحلی علاقے میں ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انقرہ: یورپی یونین کے رکن ملک یونان جانے کے خواہشمند گیارہ تارکین وطن منگل کے روز ترک ساحل کے قریب ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔</p><p>ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناتولیہ کے مطابق ان افراد کی کشتی بحیرہ ایجیئن میں ڈوبی جبکہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/12/567954d2f187f.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1026309">دنیا کو دہلا دینے والا شامی بچہ سپردخاک</a></strong></p><p>ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترک کوسٹ گارڈز نے سات افراد کو ڈوبنے سے بچالیا تاہم انہیں گیارہ افراد کی لاشیں ملیں۔</p><p>تاحال یہ واضح نہیں کہ کشتی میں کتنے افراد سوار تھے۔</p><p>گزشتہ چار سال سے جاری شامی تنازع کے باعث جنگ زدہ ملک سے لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ پہنچ رہے ہیں جبکہ یونان ان کا پہلا ٹھکانہ ہوتا ہے جس کے بعد وہ دیگر امیر یورپی ممالک کی جانب سفر کرتے ہیں۔</p><p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1026147">شامی بچے کی دل لرزا دینے والی تصویر</a></strong></p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/55e99fe945ed7.jpg?r=1032569326'  alt='۔ &mdash;اے پی' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					۔ &mdash;اے پی</figcaption>
				</figure><p>شدید سردی اور خطرناک سمندری لہروں کے باوجود منتقلی کا یہ عمل ابھی بھی جاری ہے جبکہ رواں سال سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p><p>ان ہلاکتوں میں ایک چار سالہ بچے ایلان کردی بھی شامل ہیں جن کی تصاویر نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔</p><p>تین سالہ ایلان، چار سالہ غالب اور والدہ ریحانہ چار ماہ قبل ترکی کے ساحلی علاقے میں ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1030979</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Dec 2015 18:50:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/5679547a7e966.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/5679547a7e966.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
