<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 23 May 2026 22:25:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 23 May 2026 22:25:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایسا فریج جسے بجلی کی ضرورت نہیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1031043/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک جہاں گھنٹوں تک بجلی کا تعطل عام بات ہے وہاں اس ایجاد کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جی ہاں یہ ہے دنیا کا ایسا فریج جسے چلنے کے لیے بجلی کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ انوکھا فریج کینیڈا کی کیلگری یونیورسٹی کے طالبعلموں نے تیار کیا ہے اور اس نے ایک عالمی مقابلے میں پہلا انعام بھی اپنے نام کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس پراجیکٹ یا فریج کا نام ونڈ چل رکھا گیا ہے جسے بائیومیمی کری گلوبل ڈیزائن چیلنج مقابلے کی اسٹوڈنٹ کیٹیگری میں پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کی تیاری کے لیے طالبعلموں کو ان جانوروں نے متاثر کیا جو اپنے جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرلیتے ہیں اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے غذا کو بچانے کے لیے ایک آسان اور سستا فریج تیار کیا گیا تاکہ گرم موسم میں اسے استعمال کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس مشین میں ایک فنل یا قیف ہوا کو پکڑ کر ایک پائپ سے گزارتی ہے جہاں وہ سیال مادے کی شکل اختیار کرلیتی ہے جو بخارات کی شکل اختیار کرکے اندر ہوا کو ٹھنڈا کرکے فریج کے چیمبر میں رکھے کھانوں کو ٹھنڈا کرنے کا کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کو تیار کرنے والے طالبعلموں کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں ایک چوتھائی سے نصف خوراک فریج جیسی سہولت نہ ہونے کے باعث ضائع ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیزائن یا تیاری بہت آسان اور اس کے لیے ہدایات یا مرمت کی ضرورت نہیں اور اسے 40 ڈگری فارن ہائیٹ تک کے درجہ حرارت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اب یہ طالبعلم اس کا عملی ماڈل بنارہے ہیں اور توقع ہے کہ اسے ان علاقوں تک پہنچایا جاسکے گا جہاں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ&lt;/a&gt; ڈاؤن لوڈ کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان جیسے ممالک جہاں گھنٹوں تک بجلی کا تعطل عام بات ہے وہاں اس ایجاد کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔</p><p>جی ہاں یہ ہے دنیا کا ایسا فریج جسے چلنے کے لیے بجلی کی ضرورت نہیں۔</p><p>یہ انوکھا فریج کینیڈا کی کیلگری یونیورسٹی کے طالبعلموں نے تیار کیا ہے اور اس نے ایک عالمی مقابلے میں پہلا انعام بھی اپنے نام کیا۔</p><p>اس پراجیکٹ یا فریج کا نام ونڈ چل رکھا گیا ہے جسے بائیومیمی کری گلوبل ڈیزائن چیلنج مقابلے کی اسٹوڈنٹ کیٹیگری میں پیش کیا گیا۔</p><p>اس کی تیاری کے لیے طالبعلموں کو ان جانوروں نے متاثر کیا جو اپنے جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرلیتے ہیں اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے غذا کو بچانے کے لیے ایک آسان اور سستا فریج تیار کیا گیا تاکہ گرم موسم میں اسے استعمال کیا جاسکے۔</p><p>اس مشین میں ایک فنل یا قیف ہوا کو پکڑ کر ایک پائپ سے گزارتی ہے جہاں وہ سیال مادے کی شکل اختیار کرلیتی ہے جو بخارات کی شکل اختیار کرکے اندر ہوا کو ٹھنڈا کرکے فریج کے چیمبر میں رکھے کھانوں کو ٹھنڈا کرنے کا کام کرتا ہے۔</p><p>اس کو تیار کرنے والے طالبعلموں کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں ایک چوتھائی سے نصف خوراک فریج جیسی سہولت نہ ہونے کے باعث ضائع ہوجاتی ہے۔</p><p>ان کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیزائن یا تیاری بہت آسان اور اس کے لیے ہدایات یا مرمت کی ضرورت نہیں اور اسے 40 ڈگری فارن ہائیٹ تک کے درجہ حرارت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p><p>اب یہ طالبعلم اس کا عملی ماڈل بنارہے ہیں اور توقع ہے کہ اسے ان علاقوں تک پہنچایا جاسکے گا جہاں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں۔</p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ</a> ڈاؤن لوڈ کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1031043</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Dec 2015 21:30:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/12/567aca039fc38.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/12/567aca039fc38.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
