<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 14:53:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 14:53:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک ہی خاندان پر مشتمل سوات کا منفرد گاؤں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1031717/08jan2016-swat-ka-aik-hi-khandaan-par-mushtamil-munfarid-gaun-amjad-ali-sahaab-bm</link>
      <description>&lt;p&gt;مینگورہ کا گاؤں سپل بانڈئی سوات کے دارالخلافہ سیدو شریف سے محض 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سیاحتی مقام مرغزار جاتے ہوئے راستے میں دائیں طرف سرسبز و شاداب پہاڑی کے اوپر یہ گاؤں واقع ہے۔ یہ پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سپل بانڈئی کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سوات کے ان گنے چنے دیہاتوں میں سے ایک ہے جو پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے گاؤں کی بلندی 3600 فٹ یا 1100 میٹر ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سپل بانڈئی سے تعلق رکھنے والے شوکت شرار کی تحقیق کے مطابق گاؤں کے آثار قدیمہ بتاتے ہیں کہ یہاں محمود غزنوی کی افغان فوج کے آنے سے پہلے بدھ اور ہندو لوگوں کی آبادیاں تھیں۔ ’’سپل بانڈئی کا نام اور جغرافیائی خصوصیات بتاتی ہیں کہ یہ موجودہ گاؤں ان لوگوں نے آباد کیا جو محمود غزنوی کی افغان فوج کا حصہ تھے۔ گاؤں میں ابھی تک اس زمانے کا نظامِ آبپاشی موجود ہے۔‘‘ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e3492d06.jpg'  alt='گاؤں سپل بانڈئی، سوات.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					گاؤں سپل بانڈئی، سوات.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e3335844.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e34d1cbb.jpg'  alt='گاؤں کی سادہ زندگی کا ایک منظر.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					گاؤں کی سادہ زندگی کا ایک منظر.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e34ba6ef.jpg'  alt='ایک کوچہ.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					ایک کوچہ.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;شوکت شرار کی تحقیق کے مطابق سوات کے وہ گاؤں جن کے ساتھ ’’پور‘‘ کا لاحقہ لگتا ہے، ہندوؤں کے بسائے گئے علاقے ہیں۔ سوات میں اسلام پور، فتح پور اور شاہ پور اس کی مثالیں ہیں۔ اس طرح ’’گرام‘‘ کا لاحقہ ان علاقوں کے ساتھ لگتا ہے جنہیں بدھ لوگوں نے آباد کیا تھا یا انہیں ترقی دی تھی۔ ایسے علاقوں میں اوڈیگرام، نجیگرام اور گلی گرام وغیرہ نمایاں ہیں۔ لفظ ’’بانڈئی‘‘ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ مذکورہ لفظ ان علاقوں کے ساتھ مستعمل ہے جنہیں پختون زمانے میں ترقی دی گئی ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ سپل بانڈئی کو پختونوں نے ترقی دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;گاؤں کے بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے ساتھ آنے والی فوج نے اس گاؤں کو آباد کیا تھا، لیکن یہاں پر بدھ مت اور اس کے بعد ہندوشاہی دور کے آثار بھی ملتے ہیں ، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس گاؤں کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سوات شرکتی کونسل کی سمیطہ احمد کی ترتیب دی ہوئی کتاب ’’لکڑی اور پتھر میں شاعری‘‘ میں شوکت شرار رقم کرتے ہیں کہ پندرہویں صدی میں سوات پر یوسف زئی پختونوں نے دست تصرف دراز کیا۔ یوسف زئی قبیلے نے زمین کے بٹوارے کا ایک بے مثل طریقہ اپنایا۔ بٹوارے میں ان لوگوں کو بھی حصہ ملا جنہوں نے لشکر یا پیدل فوج میں حصہ لیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f703a9560d.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f703a96a62.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f703ad99c0.jpg'  alt='گاؤں کا اپنا بائیو گیس پلانٹ.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					گاؤں کا اپنا بائیو گیس پلانٹ.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;فوج میں شامل ایک شخص شیخ سعدی، جو ترک نسل سے تھا، اس کو بھی حصہ ملا۔اس کا پوتا اخوند درویزہ ایک بڑا عالم بنا۔ مقامی لوگوں نے اسے ولی کا درجہ دیا۔ بعد میں اخوند درویزہ کے پوتوں نے گاؤں کی زمین کو آپس میں بانٹ لیا۔ ان کے پوتے میاں دولت بابا کی اولاد نے سپل بانڈئی گاؤں کو آباد کیا۔ آج میاں دولت بابا کی اولاد سپل بانڈئی میں آباد ہے۔‘‘ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس تحقیق کی روشنی میں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سپل بانڈئی پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے۔ گاؤں کے ایک بزرگ ’’امیر مشال‘‘ گاؤں کے شجرۂ نسب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’گاؤں سپل بانڈئی میں تین خاندانوں پر مشتمل لوگ رہتے ہیں۔ پورا گاؤں ’’اخوند درویزہ باباؒ‘‘ کی اولاد ہے۔ تینوں خاندان ’’برٹل میاں گان‘‘، ’’کوزہ خونہ میاں گان‘‘ اور ’’بنڑ میاں گان‘‘ کے ناموں سے مشہور ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سوات کے دیگر گاؤں یا علاقوں میں ایک ایک محلے میں دو دو، تین تین مساجد ہوتی ہیں۔ بالفاظ دیگر ہر قبیلے یا خیل کی اپنی ایک الگ مسجد ہوتی ہے۔ اس حوالے سے سپل بانڈئی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پورے پاکستان میں یہ واحد گاؤں ہے جہاں سات ہزار کی آبادی ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتی ہے۔ یہ بات ایک طرح سے اہل سپل بانڈئی کے اتحاد اور مذہبی اعتدال کی بھی غماز ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مسجد کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تین سو سال پرانی ہے۔ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ تین ساڑھے تین سو سال پرانا جبکہ دوسرا عصر حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مسجد ایک طرح سے قدیم و جدید دور کا حسین امتزاج ہے جسے ملک کے طول و عرض سے سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر مخصوص سواتی کاریگری کا جائزہ لیا جاسکتا ہے جو گردشِ ایام کے ساتھ معدومیت کا شکار ہوچکی ہے۔ اب سواتی کاریگر ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b1ee6b7.jpg'  alt='گاؤں کی تین صدی پرانی مسجد کا منظر.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					گاؤں کی تین صدی پرانی مسجد کا منظر.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b337e43.jpg'  alt='مسجد کی محراب کا منظر جو سواتی کاریگری کی آئینہ دار ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد کی محراب کا منظر جو سواتی کاریگری کی آئینہ دار ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b321159.jpg'  alt='مسجد گاؤں کی عین وسط میں واقع ہے.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد گاؤں کی عین وسط میں واقع ہے.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b31cfaf.jpg'  alt='ستونوں پر بھی نفیس نقش و نگار بنائے گئے ہیں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					ستونوں پر بھی نفیس نقش و نگار بنائے گئے ہیں.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;گاؤں کے ایک سفید ریش عزیز خان کے بقول: ’’مسجد کی کئی خوبیاں ہیں۔ یہ عین گاؤں کے وسط میں واقع ہے اور صاف اور میٹھے پانی کا گزر بھی ایک نالے کی شکل میں اسی مسجد سے ہوتا ہے۔ چونکہ پورے گاؤں کی یہ واحد مسجد ہے، اس لیے پچھلے 315 سالوں سے اس گاؤں کے اتفاق و اتحاد اور یگانگت پر آج تک آنچ بھی نہیں آئی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محمد دوران مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’مسجد کی تزئین و آرائش میں استعمال ہونے والی لکڑی زیادہ تر ’’دیار‘‘ کی ہے۔ مسجد کے محراب میں تین قسم کی لکڑی استعمال ہوئی ہے۔ استعمال شدہ کالے رنگ کی لکڑی کو عرف عام میں ’’بنڑیا‘‘ کہتے ہیں، جو کہ اس علاقہ کی لکڑی نہیں ہے اور یہ خاص طور پر موضع ملم جبہ سے منگوائی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس میں دوسری قسم ’’دیار‘‘ کی لکڑی ہے۔ تیسری قسم اس میں ’’چیڑ‘‘ کی لکڑی استعمال ہوئی ہے، جسے سوات کی سب سے بہترین لکڑی ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ تقریباً 315 سال گزرنے کے بعد بھی اس مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی موجودہ دور میں استعمال ہونے والی دیگر لکڑیوں سے بدرجہا بہتر اور مضبوط ہے۔ یہاں کی روایات کے مطابق مسجد کی تعمیر میں لکڑی کا استعمال زیادہ کیا گیا ہے۔ یہاں روایتی طرز تعمیر میں لکڑی، پتھر اور گارے کا ہی زیادہ تر استعمال ہوتا ہے اور یہی کچھ ہماری روایات ہیں۔‘‘ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سپل بانڈئی کے بیشتر لوگ سرکاری ملازم ہیں جن میں ایک بڑی تعداد پولیس میں بھرتی ہے۔ اس کے علاوہ اندرون و بیرون ملک کام کرنے والے رقوم بھیجتے رہتے ہیں جس سے گاؤں کے لوگ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ آمدنی کے بیشتر ذرائع میں زراعت و باغبانی بھی شامل ہیں۔ یہاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے۔ گندم اور مکئی جیسی نقد آور فصلوں کے علاوہ یہاں سبزیوں میں آلو، پیاز، گوبھی، مٹر،گاجر، مولی، شلجم وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پھلوں میں سیب، آلوچہ، خوبانی، شفتالو، انجیر وغیرہ بکثرت پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں کا اَخروٹ خاص طور پر مشہور ہے جس کا چھلکا اتنا نرم ہوتا ہے کہ اسے انگلیوں میں دبا کر ہلکا زور دینے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ چونکہ گاؤں سرسبز و شاداب ہے، اس لیے یہ مگس بانی (شہد کی مکھیاں پالنے) کے لیے بے حد موزوں ہے۔ اک آدھ جگہ اس حوالے سے تجربہ کیا بھی گیا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو مگس بانی بھی گاؤں والوں کے لیے ایک بہترین ذریعہ آمدن ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f7159cbefd.jpg'  alt='مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر اعلیٰ نقاشی کی گئی ہے.' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر اعلیٰ نقاشی کی گئی ہے.&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f7159c519e.jpg'  alt='315 سال گزرنے کے بعد بھی لکڑی موجودہ دور میں استعمال ہونے والی دیگر لکڑیوں سے بہتر اور مضبوط ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					315 سال گزرنے کے بعد بھی لکڑی موجودہ دور میں استعمال ہونے والی دیگر لکڑیوں سے بہتر اور مضبوط ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f7159b6733.jpg'  alt='مسجد میں لگے ایک ستون پر کندہ شدہ فارسی کا شعر اور تاریخ نمایاں ہیں۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					مسجد میں لگے ایک ستون پر کندہ شدہ فارسی کا شعر اور تاریخ نمایاں ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;گاؤں میں تعلیم کی شرح ملک کے باقی حصوں سے زیادہ ہے۔ سپل بانڈئی کے رہائشی امجد علی (اسکول ٹیچر) کے بقول ’’گاؤں میں تعلیم کی شرح 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں عموماً لڑکوں کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے مگر سپل بانڈئی اس حوالے سے جداگانہ حیثیت کا حامل گاؤں ہے جہاں لڑکوں کے لیے مڈل اور لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول قائم ہے۔ اس کے علاوہ دو پرائمری اسکول اور ایک نجی اسکول (انگلش میڈیم) بھی نونہالانِ وطن کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے قائم ہے۔‘‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;گاؤں میں کام کے بندوں کی کمی نہیں ہے۔ یہاں کے ایک رہائشی جہان پرویز نے بائیو گیس پلانٹ کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہوا ہے۔ ان کے بقول ’’پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی کے تعاون سے ہم نے بائیو گیس پلانٹ لگایا ہے۔ مویشیوں کے فضلے سے اب گیس کی پیداوار کا کام جاری ہے جس سے گھر میں کھانا پکانے اور کمروں کو گرم رکھنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی گیس کسی بھی آٹھ سے دس افراد پر مشتمل خاندان کی زندگی سہل بنا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف چھوٹے بڑے سلنڈر بھرے جاسکتے ہیں بلکہ اسے گاڑی کے ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اتنی خوبیوں کے ساتھ اس گاؤں کو ایک بڑا خطرہ یہ لاحق ہے کہ آج کل اس کے اندر بے ہنگم تعمیرات زور و شور سے جاری ہیں، جو اس گاؤں کے فطری حسن کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہاں کی زرخیز زمین تیزی کے ساتھ پختہ عمارتوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے گاؤں کے بڑوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ ترقی اور جدت ضرور ہونی چاہیے لیکن اگر اسے تھوڑی منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے، تو اس گاؤں کی خوبصورتی کو بچایا جا سکتا ہے۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;— تصاویر بشکریہ لکھاری۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--right    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
امجد علی سحاب فری لانس صحافی ہیں اور تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مینگورہ کا گاؤں سپل بانڈئی سوات کے دارالخلافہ سیدو شریف سے محض 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سیاحتی مقام مرغزار جاتے ہوئے راستے میں دائیں طرف سرسبز و شاداب پہاڑی کے اوپر یہ گاؤں واقع ہے۔ یہ پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے۔ </p><p>سپل بانڈئی کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سوات کے ان گنے چنے دیہاتوں میں سے ایک ہے جو پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے گاؤں کی بلندی 3600 فٹ یا 1100 میٹر ہے۔ </p><p>سپل بانڈئی سے تعلق رکھنے والے شوکت شرار کی تحقیق کے مطابق گاؤں کے آثار قدیمہ بتاتے ہیں کہ یہاں محمود غزنوی کی افغان فوج کے آنے سے پہلے بدھ اور ہندو لوگوں کی آبادیاں تھیں۔ ’’سپل بانڈئی کا نام اور جغرافیائی خصوصیات بتاتی ہیں کہ یہ موجودہ گاؤں ان لوگوں نے آباد کیا جو محمود غزنوی کی افغان فوج کا حصہ تھے۔ گاؤں میں ابھی تک اس زمانے کا نظامِ آبپاشی موجود ہے۔‘‘ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e3492d06.jpg'  alt='گاؤں سپل بانڈئی، سوات.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					گاؤں سپل بانڈئی، سوات.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e3335844.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e34d1cbb.jpg'  alt='گاؤں کی سادہ زندگی کا ایک منظر.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					گاؤں کی سادہ زندگی کا ایک منظر.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f6e34ba6ef.jpg'  alt='ایک کوچہ.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					ایک کوچہ.</figcaption>
				</figure><p>شوکت شرار کی تحقیق کے مطابق سوات کے وہ گاؤں جن کے ساتھ ’’پور‘‘ کا لاحقہ لگتا ہے، ہندوؤں کے بسائے گئے علاقے ہیں۔ سوات میں اسلام پور، فتح پور اور شاہ پور اس کی مثالیں ہیں۔ اس طرح ’’گرام‘‘ کا لاحقہ ان علاقوں کے ساتھ لگتا ہے جنہیں بدھ لوگوں نے آباد کیا تھا یا انہیں ترقی دی تھی۔ ایسے علاقوں میں اوڈیگرام، نجیگرام اور گلی گرام وغیرہ نمایاں ہیں۔ لفظ ’’بانڈئی‘‘ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ مذکورہ لفظ ان علاقوں کے ساتھ مستعمل ہے جنہیں پختون زمانے میں ترقی دی گئی ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ سپل بانڈئی کو پختونوں نے ترقی دی تھی۔</p><p>گاؤں کے بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے ساتھ آنے والی فوج نے اس گاؤں کو آباد کیا تھا، لیکن یہاں پر بدھ مت اور اس کے بعد ہندوشاہی دور کے آثار بھی ملتے ہیں ، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس گاؤں کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ </p><p>سوات شرکتی کونسل کی سمیطہ احمد کی ترتیب دی ہوئی کتاب ’’لکڑی اور پتھر میں شاعری‘‘ میں شوکت شرار رقم کرتے ہیں کہ پندرہویں صدی میں سوات پر یوسف زئی پختونوں نے دست تصرف دراز کیا۔ یوسف زئی قبیلے نے زمین کے بٹوارے کا ایک بے مثل طریقہ اپنایا۔ بٹوارے میں ان لوگوں کو بھی حصہ ملا جنہوں نے لشکر یا پیدل فوج میں حصہ لیا تھا۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f703a9560d.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f703a96a62.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f703ad99c0.jpg'  alt='گاؤں کا اپنا بائیو گیس پلانٹ.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					گاؤں کا اپنا بائیو گیس پلانٹ.</figcaption>
				</figure><p>فوج میں شامل ایک شخص شیخ سعدی، جو ترک نسل سے تھا، اس کو بھی حصہ ملا۔اس کا پوتا اخوند درویزہ ایک بڑا عالم بنا۔ مقامی لوگوں نے اسے ولی کا درجہ دیا۔ بعد میں اخوند درویزہ کے پوتوں نے گاؤں کی زمین کو آپس میں بانٹ لیا۔ ان کے پوتے میاں دولت بابا کی اولاد نے سپل بانڈئی گاؤں کو آباد کیا۔ آج میاں دولت بابا کی اولاد سپل بانڈئی میں آباد ہے۔‘‘ </p><p>اس تحقیق کی روشنی میں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سپل بانڈئی پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے۔ گاؤں کے ایک بزرگ ’’امیر مشال‘‘ گاؤں کے شجرۂ نسب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’گاؤں سپل بانڈئی میں تین خاندانوں پر مشتمل لوگ رہتے ہیں۔ پورا گاؤں ’’اخوند درویزہ باباؒ‘‘ کی اولاد ہے۔ تینوں خاندان ’’برٹل میاں گان‘‘، ’’کوزہ خونہ میاں گان‘‘ اور ’’بنڑ میاں گان‘‘ کے ناموں سے مشہور ہیں۔‘‘</p><p>سوات کے دیگر گاؤں یا علاقوں میں ایک ایک محلے میں دو دو، تین تین مساجد ہوتی ہیں۔ بالفاظ دیگر ہر قبیلے یا خیل کی اپنی ایک الگ مسجد ہوتی ہے۔ اس حوالے سے سپل بانڈئی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پورے پاکستان میں یہ واحد گاؤں ہے جہاں سات ہزار کی آبادی ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتی ہے۔ یہ بات ایک طرح سے اہل سپل بانڈئی کے اتحاد اور مذہبی اعتدال کی بھی غماز ہے۔</p><p>مسجد کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تین سو سال پرانی ہے۔ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ تین ساڑھے تین سو سال پرانا جبکہ دوسرا عصر حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مسجد ایک طرح سے قدیم و جدید دور کا حسین امتزاج ہے جسے ملک کے طول و عرض سے سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر مخصوص سواتی کاریگری کا جائزہ لیا جاسکتا ہے جو گردشِ ایام کے ساتھ معدومیت کا شکار ہوچکی ہے۔ اب سواتی کاریگر ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b1ee6b7.jpg'  alt='گاؤں کی تین صدی پرانی مسجد کا منظر.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					گاؤں کی تین صدی پرانی مسجد کا منظر.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b337e43.jpg'  alt='مسجد کی محراب کا منظر جو سواتی کاریگری کی آئینہ دار ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد کی محراب کا منظر جو سواتی کاریگری کی آئینہ دار ہے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b321159.jpg'  alt='مسجد گاؤں کی عین وسط میں واقع ہے.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد گاؤں کی عین وسط میں واقع ہے.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f70b31cfaf.jpg'  alt='ستونوں پر بھی نفیس نقش و نگار بنائے گئے ہیں.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					ستونوں پر بھی نفیس نقش و نگار بنائے گئے ہیں.</figcaption>
				</figure><p>گاؤں کے ایک سفید ریش عزیز خان کے بقول: ’’مسجد کی کئی خوبیاں ہیں۔ یہ عین گاؤں کے وسط میں واقع ہے اور صاف اور میٹھے پانی کا گزر بھی ایک نالے کی شکل میں اسی مسجد سے ہوتا ہے۔ چونکہ پورے گاؤں کی یہ واحد مسجد ہے، اس لیے پچھلے 315 سالوں سے اس گاؤں کے اتفاق و اتحاد اور یگانگت پر آج تک آنچ بھی نہیں آئی ہے۔‘‘</p><p>ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محمد دوران مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’مسجد کی تزئین و آرائش میں استعمال ہونے والی لکڑی زیادہ تر ’’دیار‘‘ کی ہے۔ مسجد کے محراب میں تین قسم کی لکڑی استعمال ہوئی ہے۔ استعمال شدہ کالے رنگ کی لکڑی کو عرف عام میں ’’بنڑیا‘‘ کہتے ہیں، جو کہ اس علاقہ کی لکڑی نہیں ہے اور یہ خاص طور پر موضع ملم جبہ سے منگوائی گئی ہے۔ </p><p>اس میں دوسری قسم ’’دیار‘‘ کی لکڑی ہے۔ تیسری قسم اس میں ’’چیڑ‘‘ کی لکڑی استعمال ہوئی ہے، جسے سوات کی سب سے بہترین لکڑی ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ تقریباً 315 سال گزرنے کے بعد بھی اس مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی موجودہ دور میں استعمال ہونے والی دیگر لکڑیوں سے بدرجہا بہتر اور مضبوط ہے۔ یہاں کی روایات کے مطابق مسجد کی تعمیر میں لکڑی کا استعمال زیادہ کیا گیا ہے۔ یہاں روایتی طرز تعمیر میں لکڑی، پتھر اور گارے کا ہی زیادہ تر استعمال ہوتا ہے اور یہی کچھ ہماری روایات ہیں۔‘‘ </p><p>سپل بانڈئی کے بیشتر لوگ سرکاری ملازم ہیں جن میں ایک بڑی تعداد پولیس میں بھرتی ہے۔ اس کے علاوہ اندرون و بیرون ملک کام کرنے والے رقوم بھیجتے رہتے ہیں جس سے گاؤں کے لوگ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ آمدنی کے بیشتر ذرائع میں زراعت و باغبانی بھی شامل ہیں۔ یہاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے۔ گندم اور مکئی جیسی نقد آور فصلوں کے علاوہ یہاں سبزیوں میں آلو، پیاز، گوبھی، مٹر،گاجر، مولی، شلجم وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ </p><p>پھلوں میں سیب، آلوچہ، خوبانی، شفتالو، انجیر وغیرہ بکثرت پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں کا اَخروٹ خاص طور پر مشہور ہے جس کا چھلکا اتنا نرم ہوتا ہے کہ اسے انگلیوں میں دبا کر ہلکا زور دینے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ چونکہ گاؤں سرسبز و شاداب ہے، اس لیے یہ مگس بانی (شہد کی مکھیاں پالنے) کے لیے بے حد موزوں ہے۔ اک آدھ جگہ اس حوالے سے تجربہ کیا بھی گیا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو مگس بانی بھی گاؤں والوں کے لیے ایک بہترین ذریعہ آمدن ثابت ہوسکتی ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f7159cbefd.jpg'  alt='مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر اعلیٰ نقاشی کی گئی ہے.' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد میں استعمال ہونے والی لکڑی پر اعلیٰ نقاشی کی گئی ہے.</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f7159c519e.jpg'  alt='315 سال گزرنے کے بعد بھی لکڑی موجودہ دور میں استعمال ہونے والی دیگر لکڑیوں سے بہتر اور مضبوط ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					315 سال گزرنے کے بعد بھی لکڑی موجودہ دور میں استعمال ہونے والی دیگر لکڑیوں سے بہتر اور مضبوط ہے۔</figcaption>
				</figure><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/568f7159b6733.jpg'  alt='مسجد میں لگے ایک ستون پر کندہ شدہ فارسی کا شعر اور تاریخ نمایاں ہیں۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					مسجد میں لگے ایک ستون پر کندہ شدہ فارسی کا شعر اور تاریخ نمایاں ہیں۔</figcaption>
				</figure><p>گاؤں میں تعلیم کی شرح ملک کے باقی حصوں سے زیادہ ہے۔ سپل بانڈئی کے رہائشی امجد علی (اسکول ٹیچر) کے بقول ’’گاؤں میں تعلیم کی شرح 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں عموماً لڑکوں کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے مگر سپل بانڈئی اس حوالے سے جداگانہ حیثیت کا حامل گاؤں ہے جہاں لڑکوں کے لیے مڈل اور لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول قائم ہے۔ اس کے علاوہ دو پرائمری اسکول اور ایک نجی اسکول (انگلش میڈیم) بھی نونہالانِ وطن کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے قائم ہے۔‘‘</p><p>گاؤں میں کام کے بندوں کی کمی نہیں ہے۔ یہاں کے ایک رہائشی جہان پرویز نے بائیو گیس پلانٹ کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہوا ہے۔ ان کے بقول ’’پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی کے تعاون سے ہم نے بائیو گیس پلانٹ لگایا ہے۔ مویشیوں کے فضلے سے اب گیس کی پیداوار کا کام جاری ہے جس سے گھر میں کھانا پکانے اور کمروں کو گرم رکھنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی گیس کسی بھی آٹھ سے دس افراد پر مشتمل خاندان کی زندگی سہل بنا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف چھوٹے بڑے سلنڈر بھرے جاسکتے ہیں بلکہ اسے گاڑی کے ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘</p><p>اتنی خوبیوں کے ساتھ اس گاؤں کو ایک بڑا خطرہ یہ لاحق ہے کہ آج کل اس کے اندر بے ہنگم تعمیرات زور و شور سے جاری ہیں، جو اس گاؤں کے فطری حسن کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہاں کی زرخیز زمین تیزی کے ساتھ پختہ عمارتوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے گاؤں کے بڑوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ ترقی اور جدت ضرور ہونی چاہیے لیکن اگر اسے تھوڑی منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے، تو اس گاؤں کی خوبصورتی کو بچایا جا سکتا ہے۔  </p><p>— تصاویر بشکریہ لکھاری۔</p><hr>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--right    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112'  alt='' /></div>
				</figure>
امجد علی سحاب فری لانس صحافی ہیں اور تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔</p><hr>
<p>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1031717</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Jan 2016 14:50:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/01/568f732dd4dfe.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/01/568f732dd4dfe.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
