<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:53:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:53:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہندوستانی یوم جمہوریہ کشمیری کارٹونسٹ کی نظر سے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1032302/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئی دہلی: ہندوستان کے 26 جنوری کو &amp;#39;یوم جمہوریہ&amp;#39; پر کشمیر میں حفاظتی انتظامات کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کو کارٹون بنانے والے فنکار نے انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہندوستان ٹائمز کی ایک &lt;a href="http://www.hindustantimes.com/india/republic-day-in-kashmir-three-cartoons-and-one-message/story-RQ0lnC4FbQCpKTEFJuLsvN.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق ہندوستان کے یوم جمہوریہ کے قریب آنے کشمیر کے 26سالہ کارٹونسٹ سہیل قادری کے گزشتہ سالوں میں بنائے گئے کارٹون سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;Kashmir on R-Day Eve&lt;/h3&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/569f650711c53.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سہیل قادری کے بنائے ہوئے پہلے کارٹون پر &amp;#39;ہندوستان کے یوم جمہوریہ پر&amp;#39; تحریر ہے، اس کارٹون میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح سیکیورٹی ادارے کشمیر کے شہریوں پر نظر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کارٹون میں یہ بھی نشاندہی کی کوشش کی گئی ہے کہ اس روز کشمیر کا ہر شہری اس روز سیکیورٹی اداروں کی نظر میں مشتبہ قرار پاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ کشمیر میں 1987 سے علیحدگی کی مسلح تحریک چل رہے ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سہیل قادری سری نگر سے شائع ہونے والےے متعدد اخبارات سے منسلک ہیں جن میں ان کے کارٹون شائع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کے اخبارات میں شائع ہونے والے کارٹون صرف کشمیر کے حالات کی ہی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ وہاں سیکیورٹی اداروں کے باعث شہریوں کی مشکلات بھی سامنے لاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سہیل قادری کے کارٹونز پر آراء دینے والوں کا خیال ہے کہ وہ صرف کارٹون ہی نہیں بناتے بلکہ وہ ایک عام بات کو بہت خاص بنا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;It’s For Your Own Peace&lt;/h4&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/569f65083687f.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سہیل قادری کے دوسرے کارٹون کا عنوان &amp;#39;یہ آپ کی حفاظت کیلئے ہے&amp;#39; ہے، اس کارٹون میں &amp;#39;امن کی فاختہ&amp;#39; کو اس کیفیت میں دکھایا گیا ہے کہ وہ ہندوستانی سیکیورٹی اداروں کے اسکینر ے گزرنے کے بعد بلکل برہنہ ہے اور اس کے جسم پر ایک بھی پر باقی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس فاختہ کے جسم سے اترے ہوئے پر  اسکینر سے پہلے پڑے ہوئے ہیں جن کو کشمیر کے شہریوں کے لباس سے تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ ہندوستانی سیکیورٹی اہلکار اس فاختہ سے کہہ رہے ہیں کہ &amp;#39; یہ سب تمہاری حفاظت کیلئے ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سہیل قادری کا اپنے کارٹونز کے حوالے سے خود بھی کہنا ہے کہ 09-2008 میں کشمیر میں احتجاج کے دوران ہندوستانی سیکیورٹی اداروں کی فائرنگ سے میرے ہم عمر لڑکے ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد میں ڈپریشن کا شکار ہو گیا تھا، اس ڈپریشن سے میں آرٹ کے ذریعے باہر آسکا۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;January 26&lt;/h3&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/569f650827c35.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سہیل قادری کے تیسرے کارٹون میں کشمیر کے ایک عمومی مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں موبائل نیٹ ورک کو 26 جنوری پر فعال رکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;عمومی طور پر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کسی بھی خاص دن یا تہوار کے روز موبائل نیٹ ورک بند کر دیئے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تیسرے کارٹون میں دکھایا گیا کہ یوم جمہوریہ پر ہندوستان کی باقی ریاستوں میں سب &amp;#39;امن کی فاختہ&amp;#39; اڑا رہے ہیں جبکہ  کشمیر کے گورنر این این ووہراہ موبائل اڑا رہے کیونکہ اس دن اتفاق سے سگنلز بند نہیں کیے گئے اور وہ بھی موبائل سے رابطے کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ 26 جنوری کو ہندوستان میں یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے، نومبر 1949 میں ہندوستان کا آئین تیار کیا گیا تھا جبکہ 26 جنوری 1950 کو یہ نافذ العمل ہو تھا اس سے قبل ہندوستان میں انگریز کا بنایا ہوا انگریز دور کا 1935 کا قانون نافذ تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئی دہلی: ہندوستان کے 26 جنوری کو &#39;یوم جمہوریہ&#39; پر کشمیر میں حفاظتی انتظامات کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کو کارٹون بنانے والے فنکار نے انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔</p><p>ہندوستان ٹائمز کی ایک <a href="http://www.hindustantimes.com/india/republic-day-in-kashmir-three-cartoons-and-one-message/story-RQ0lnC4FbQCpKTEFJuLsvN.html">رپورٹ</a> کے مطابق ہندوستان کے یوم جمہوریہ کے قریب آنے کشمیر کے 26سالہ کارٹونسٹ سہیل قادری کے گزشتہ سالوں میں بنائے گئے کارٹون سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔</p><h3>Kashmir on R-Day Eve</h3>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/569f650711c53.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<p>سہیل قادری کے بنائے ہوئے پہلے کارٹون پر &#39;ہندوستان کے یوم جمہوریہ پر&#39; تحریر ہے، اس کارٹون میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح سیکیورٹی ادارے کشمیر کے شہریوں پر نظر رکھتے ہیں۔</p><p>کارٹون میں یہ بھی نشاندہی کی کوشش کی گئی ہے کہ اس روز کشمیر کا ہر شہری اس روز سیکیورٹی اداروں کی نظر میں مشتبہ قرار پاتا ہے۔</p><p>خیال رہے کہ کشمیر میں 1987 سے علیحدگی کی مسلح تحریک چل رہے ہے۔</p><p>سہیل قادری سری نگر سے شائع ہونے والےے متعدد اخبارات سے منسلک ہیں جن میں ان کے کارٹون شائع ہوتے ہیں۔</p><p>ان کے اخبارات میں شائع ہونے والے کارٹون صرف کشمیر کے حالات کی ہی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ وہاں سیکیورٹی اداروں کے باعث شہریوں کی مشکلات بھی سامنے لاتے ہیں۔</p><p>سہیل قادری کے کارٹونز پر آراء دینے والوں کا خیال ہے کہ وہ صرف کارٹون ہی نہیں بناتے بلکہ وہ ایک عام بات کو بہت خاص بنا دیتے ہیں۔</p><h4>It’s For Your Own Peace</h4>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/569f65083687f.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<p>سہیل قادری کے دوسرے کارٹون کا عنوان &#39;یہ آپ کی حفاظت کیلئے ہے&#39; ہے، اس کارٹون میں &#39;امن کی فاختہ&#39; کو اس کیفیت میں دکھایا گیا ہے کہ وہ ہندوستانی سیکیورٹی اداروں کے اسکینر ے گزرنے کے بعد بلکل برہنہ ہے اور اس کے جسم پر ایک بھی پر باقی نہیں ہے۔</p><p>اس فاختہ کے جسم سے اترے ہوئے پر  اسکینر سے پہلے پڑے ہوئے ہیں جن کو کشمیر کے شہریوں کے لباس سے تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ ہندوستانی سیکیورٹی اہلکار اس فاختہ سے کہہ رہے ہیں کہ &#39; یہ سب تمہاری حفاظت کیلئے ہے&#39;۔</p><p>سہیل قادری کا اپنے کارٹونز کے حوالے سے خود بھی کہنا ہے کہ 09-2008 میں کشمیر میں احتجاج کے دوران ہندوستانی سیکیورٹی اداروں کی فائرنگ سے میرے ہم عمر لڑکے ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد میں ڈپریشن کا شکار ہو گیا تھا، اس ڈپریشن سے میں آرٹ کے ذریعے باہر آسکا۔</p><h3>January 26</h3>
<figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/01/569f650827c35.jpg'  alt='' /></div>
				</figure>
<p>سہیل قادری کے تیسرے کارٹون میں کشمیر کے ایک عمومی مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں موبائل نیٹ ورک کو 26 جنوری پر فعال رکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔</p><p>عمومی طور پر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کسی بھی خاص دن یا تہوار کے روز موبائل نیٹ ورک بند کر دیئے جاتے ہیں۔</p><p>تیسرے کارٹون میں دکھایا گیا کہ یوم جمہوریہ پر ہندوستان کی باقی ریاستوں میں سب &#39;امن کی فاختہ&#39; اڑا رہے ہیں جبکہ  کشمیر کے گورنر این این ووہراہ موبائل اڑا رہے کیونکہ اس دن اتفاق سے سگنلز بند نہیں کیے گئے اور وہ بھی موبائل سے رابطے کر سکتے ہیں۔</p><p>خیال رہے کہ 26 جنوری کو ہندوستان میں یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے، نومبر 1949 میں ہندوستان کا آئین تیار کیا گیا تھا جبکہ 26 جنوری 1950 کو یہ نافذ العمل ہو تھا اس سے قبل ہندوستان میں انگریز کا بنایا ہوا انگریز دور کا 1935 کا قانون نافذ تھا۔</p><hr>
<p>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1032302</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Jan 2016 15:55:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/01/569f654e7b9ad.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/01/569f654e7b9ad.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
