<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 15:07:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 15:07:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسیقی کے آلات بنانے والی کلثوم حمید </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1032882/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے ضلع پشین کے ایک دور دراز گاؤں خانوزئی میں رہائش پزیر نہایت قابل کمہار کلثوم حمید کا تعلق ایک پشتون گھرانے سے ہے جو افغانستان سے ہجرت کرنے کے بعد بلوچستان میں بس چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسرے فنکاروں کی طرح کلثوم نے بھی وژول آرٹس میں داخلہ لینے کے لیے کافی جدو جہد کی اور اپنے والدین کی خواہش کے خلاف مزاحمت کی جو ان کا داخلہ میڈیکل سائنسز میں کرانا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’میں بہت خاموش طبع تھی اور ہمیشہ سے ہی وژول آرٹس میں داخلہ لینا چاہتی تھی‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اپنا ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد کلثوم نے اعلان کردیا کہ یا تو وہ آرٹس پڑھیں گی تا پھر کچھ نہیں پڑھیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی سے وژول آرٹس میں بنیادی کورس کرنے کے بعد انہوں نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں سرامکس ڈیزائن کے کورس میں داخلہ لے لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ابتداء میں کلثوم نے زیادہ تر گھر کے انٹیریئر کے لیے آرائشی سامان، چھوٹے پیمانے پر پیچیدہ خطاطی پینل، پچی کاری اور آرائشی برتن وغیرہ تیار کیے. اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے سرفیس ٹریٹمنٹ اور ٹیسکچرز کی وسیع رینج کا بھی تجربہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تقریباً تین سال کی سٹوڈیو پریکٹس اور تعلیمی تحقیق میں کڑی محنت کے بعد انہوں نے موسیقی کا ایک آلہ تیار کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ آلہ انہوں نے &amp;#39;سرنا&amp;#39; نامی آلہ موسیقی سے متاثر ہوکر بنایا، جس سے ان کی بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اپنے بنائے ہوئے موسیقی آلہ کے بارے میں کلثوم کا کہنا تھا ’اسے وادئ سندھ کی تہذیب میں ’بورندو‘ جبکہ اس کی ابتدائی شکل کو ہڑپہ تہذیب میں ’گھو گھو‘ کہا جاتا ہے۔ مٹی سے بنائے گئے اس آلے کا ساز پرندوں جیسا ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا ’آلہ بنانے سے پہلے میں نے پڑھا کہ آواز کو کیسے تخلیق دیا جائے گا اور کس طرح ہاتھوں سے سیٹی بجانے کے ساتھ ایک خالی بوتل میں پھونک مارنے سے آواز پیدا ہوسکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک ماہر کے طور پر انہوں نے بتایا کہ ’میں نے پہلے یہ سیکھا کہ ووکل کورڈز کی مدد سے کیسے آواز کی تخلیق کی جاسکتی ہے، یہ بھی کہ اس آلہ کے اندر کیسے ہوا تقسیم ہوتی ہے اور کیسے آواز پیدا کی جاتی ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے ٹیراکوٹا کی بنیادی اقسام ’سلپ کاسٹنگ‘ اور اوپن ماؤلڈ کاسٹنگ‘ بنائیں اور پھر آواز پر غور کیا۔ بعد ازاں ’شہنائی‘، ’بانسری‘، اور ’اوکیرینا‘ نامی قدیم مغربی موسیقی کے آلات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس آلہ کی شکل کو مزید بہتر بنایا گیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ابتدا میں &amp;#39;سرنا&amp;#39; کو صرف ایک ہی انداز میں بجانے کے بعد آواز پیدا کی جاسکتی تھی، اس غلطی کو دور کرنے کے لیے کلثوم نے کئی آلات کا مطالعہ کیا اور انہیں اپنے آلات میں شامل کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا ’میں مختلف سائز پر مشتمل گول، سیدھے، باقاعدہ اور بے قاعدہ اشکال کے آلات پر مسلسل آواز کا تجربہ کرتی رہتی ہوں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کلثوم کا کہنا تھا ’میں نے اوکیرینا کے قریب ترین سُر بنانے کے لیے ان اقسام میں موسیقی کے ایک خاص سر کو شامل کیا ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے ایک بانسری بجانے والے سے بھی مشورہ کیا جس نے انہیں بنیادی سروں پر کام کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کلثوم نے موسیقی کے آلات کی ایک سیریز تخلیق کی، جس کی دھن اوکیرینا کے مقابلے میں نہایت سادہ اور بجانے میں کافی آسان تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جبکہ ان کی اشکال پکڑنے کے ساتھ ساتھ سُر پیدا کرنے کے لیے بھی نہایت آسان ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کلثوم معمار اور موسیقار قاسم ابراہیم کی نہایت شکر گزار ہیں جنہوں نے موسیقی سے متعلق تکنیکی مسائل پر ان کی مدد کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کلثوم کے کام کا معیار ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور فن کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے پاس انتہائی مطالعہ اور تحقیق کی بنیاد کے ساتھ نمونے بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt; &lt;a href="http://images.dawn.com/news/1174749/meet-kalsoom-hameed-inventor-of-musical-instruments"&gt;انگریزی میں پڑھیں&lt;/a&gt;.&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے ضلع پشین کے ایک دور دراز گاؤں خانوزئی میں رہائش پزیر نہایت قابل کمہار کلثوم حمید کا تعلق ایک پشتون گھرانے سے ہے جو افغانستان سے ہجرت کرنے کے بعد بلوچستان میں بس چکا ہے۔</p><p>دوسرے فنکاروں کی طرح کلثوم نے بھی وژول آرٹس میں داخلہ لینے کے لیے کافی جدو جہد کی اور اپنے والدین کی خواہش کے خلاف مزاحمت کی جو ان کا داخلہ میڈیکل سائنسز میں کرانا چاہتے تھے۔</p><p>اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’میں بہت خاموش طبع تھی اور ہمیشہ سے ہی وژول آرٹس میں داخلہ لینا چاہتی تھی‘۔</p><p>اپنا ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد کلثوم نے اعلان کردیا کہ یا تو وہ آرٹس پڑھیں گی تا پھر کچھ نہیں پڑھیں گی۔</p><p>کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی سے وژول آرٹس میں بنیادی کورس کرنے کے بعد انہوں نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں سرامکس ڈیزائن کے کورس میں داخلہ لے لیا۔</p><p>ابتداء میں کلثوم نے زیادہ تر گھر کے انٹیریئر کے لیے آرائشی سامان، چھوٹے پیمانے پر پیچیدہ خطاطی پینل، پچی کاری اور آرائشی برتن وغیرہ تیار کیے. اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے سرفیس ٹریٹمنٹ اور ٹیسکچرز کی وسیع رینج کا بھی تجربہ کیا۔</p><p>تقریباً تین سال کی سٹوڈیو پریکٹس اور تعلیمی تحقیق میں کڑی محنت کے بعد انہوں نے موسیقی کا ایک آلہ تیار کیا۔</p><p>یہ آلہ انہوں نے &#39;سرنا&#39; نامی آلہ موسیقی سے متاثر ہوکر بنایا، جس سے ان کی بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔</p><p>اپنے بنائے ہوئے موسیقی آلہ کے بارے میں کلثوم کا کہنا تھا ’اسے وادئ سندھ کی تہذیب میں ’بورندو‘ جبکہ اس کی ابتدائی شکل کو ہڑپہ تہذیب میں ’گھو گھو‘ کہا جاتا ہے۔ مٹی سے بنائے گئے اس آلے کا ساز پرندوں جیسا ہوتا ہے‘۔</p><p>ان کا کہنا تھا ’آلہ بنانے سے پہلے میں نے پڑھا کہ آواز کو کیسے تخلیق دیا جائے گا اور کس طرح ہاتھوں سے سیٹی بجانے کے ساتھ ایک خالی بوتل میں پھونک مارنے سے آواز پیدا ہوسکتی ہے‘۔</p><p>ایک ماہر کے طور پر انہوں نے بتایا کہ ’میں نے پہلے یہ سیکھا کہ ووکل کورڈز کی مدد سے کیسے آواز کی تخلیق کی جاسکتی ہے، یہ بھی کہ اس آلہ کے اندر کیسے ہوا تقسیم ہوتی ہے اور کیسے آواز پیدا کی جاتی ہے‘۔</p><p>انہوں نے ٹیراکوٹا کی بنیادی اقسام ’سلپ کاسٹنگ‘ اور اوپن ماؤلڈ کاسٹنگ‘ بنائیں اور پھر آواز پر غور کیا۔ بعد ازاں ’شہنائی‘، ’بانسری‘، اور ’اوکیرینا‘ نامی قدیم مغربی موسیقی کے آلات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس آلہ کی شکل کو مزید بہتر بنایا گیا.</p><p>ابتدا میں &#39;سرنا&#39; کو صرف ایک ہی انداز میں بجانے کے بعد آواز پیدا کی جاسکتی تھی، اس غلطی کو دور کرنے کے لیے کلثوم نے کئی آلات کا مطالعہ کیا اور انہیں اپنے آلات میں شامل کیا۔</p><p>ان کا کہنا تھا ’میں مختلف سائز پر مشتمل گول، سیدھے، باقاعدہ اور بے قاعدہ اشکال کے آلات پر مسلسل آواز کا تجربہ کرتی رہتی ہوں‘۔</p><p>کلثوم کا کہنا تھا ’میں نے اوکیرینا کے قریب ترین سُر بنانے کے لیے ان اقسام میں موسیقی کے ایک خاص سر کو شامل کیا ہے‘۔</p><p>انہوں نے ایک بانسری بجانے والے سے بھی مشورہ کیا جس نے انہیں بنیادی سروں پر کام کرنے کی ہدایت کی۔</p><p>اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کلثوم نے موسیقی کے آلات کی ایک سیریز تخلیق کی، جس کی دھن اوکیرینا کے مقابلے میں نہایت سادہ اور بجانے میں کافی آسان تھی۔</p><p>جبکہ ان کی اشکال پکڑنے کے ساتھ ساتھ سُر پیدا کرنے کے لیے بھی نہایت آسان ہیں۔</p><p>کلثوم معمار اور موسیقار قاسم ابراہیم کی نہایت شکر گزار ہیں جنہوں نے موسیقی سے متعلق تکنیکی مسائل پر ان کی مدد کی۔</p><p>کلثوم کے کام کا معیار ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور فن کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے پاس انتہائی مطالعہ اور تحقیق کی بنیاد کے ساتھ نمونے بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ </p><p> <a href="http://images.dawn.com/news/1174749/meet-kalsoom-hameed-inventor-of-musical-instruments">انگریزی میں پڑھیں</a>.</p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1032882</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Feb 2016 13:06:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نعیم سدھو)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/02/56b05a9cb4220.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/02/56b05a9cb4220.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
