<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 05:43:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 05:43:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹ بال میں ویڈیو ریفری کی خدمات کا حصول</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1034390/</link>
      <description>&lt;p&gt;لندن: فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے میچوں میں گول سمیت دیگر اہم فیصلوں کے لیے ویڈیو ریفری کی خدمات حاصل کرنے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;a href="http://www.bbc.com/sport/football/35736241"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق فٹ بال کے میچوں میں فیصلہ کن واقعات کی ویڈیو کی مدد سے فیصلے کرنے والے ریفری کے لیے تجربات 18-2017 کے سیزن سے بلاتاخیر شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس فیصلے کا اعلان کارڈف میں انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آئی ایف اے بی کا کہنا ہےکہ وہ 12 ایسوایشنز اور ایک کنفیڈریشن کے مقابلوں سے ویڈیو ریفری کو براہ راست جانچنے پر دلچسپی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کا اطلاق صرف میچ کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات گول، ریڈ کارڈ، غلط شناخت اور پینلٹی پر ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فیفا کے نومنتخب صدر جیانی انفینٹینو نے کھیل کے دوران ٹیکنالوجی کے استعمال کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ &amp;#39;یہ کھیلوں کے لیے تاریخی دن ہے اور یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ کھیل کے قائدین فٹ بال کی سن رہے ہیں&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آئی ایف اے بی جو برطانوی فٹ بال کی چارایسوسی ایشنوں سے بنی ہے اور فیفا کا کہنا ہے کہ کھیل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا حتمی فیصلہ اس کو جانچنے کے دوران اور اس کے استعمال کے پروٹوکول پر معاہدے کے بعد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جیانی انفینٹیو کا کہنا تھا کہ ’ہم مستقبل کے لیے اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام کرے گا۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کھیل کی روانی ضروری ہے۔ ہم اس کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ اسی لیے ہمیں تجربے کرنے ہوں گے۔‘&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لندن: فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے میچوں میں گول سمیت دیگر اہم فیصلوں کے لیے ویڈیو ریفری کی خدمات حاصل کرنے کا اعلان کردیا۔</p><p>بی بی سی کی <a href="http://www.bbc.com/sport/football/35736241">رپورٹ</a> کے مطابق فٹ بال کے میچوں میں فیصلہ کن واقعات کی ویڈیو کی مدد سے فیصلے کرنے والے ریفری کے لیے تجربات 18-2017 کے سیزن سے بلاتاخیر شروع ہوگا۔</p><p>اس فیصلے کا اعلان کارڈف میں انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔</p><p>آئی ایف اے بی کا کہنا ہےکہ وہ 12 ایسوایشنز اور ایک کنفیڈریشن کے مقابلوں سے ویڈیو ریفری کو براہ راست جانچنے پر دلچسپی رکھتا ہے۔</p><p>ٹیکنالوجی کا اطلاق صرف میچ کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات گول، ریڈ کارڈ، غلط شناخت اور پینلٹی پر ہوگا۔</p><p>فیفا کے نومنتخب صدر جیانی انفینٹینو نے کھیل کے دوران ٹیکنالوجی کے استعمال کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ &#39;یہ کھیلوں کے لیے تاریخی دن ہے اور یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ کھیل کے قائدین فٹ بال کی سن رہے ہیں&#39;۔</p><p>آئی ایف اے بی جو برطانوی فٹ بال کی چارایسوسی ایشنوں سے بنی ہے اور فیفا کا کہنا ہے کہ کھیل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا حتمی فیصلہ اس کو جانچنے کے دوران اور اس کے استعمال کے پروٹوکول پر معاہدے کے بعد کیا جائے گا۔</p><p>جیانی انفینٹیو کا کہنا تھا کہ ’ہم مستقبل کے لیے اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام کرے گا۔‘</p><p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کھیل کی روانی ضروری ہے۔ ہم اس کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ اسی لیے ہمیں تجربے کرنے ہوں گے۔‘</p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1034390</guid>
      <pubDate>Sun, 06 Mar 2016 20:52:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56dc4fa168c7d.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56dc4fa168c7d.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
