<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:20:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:20:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف آئی اے کا سرفراز مرچنٹ، مصطفی کمال سے رابطہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1034701/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے متحدہ قومی موومنٹ کو انڈین ایجنسی  را سے ملنے والے  مبینہ فنڈزکے الزامات کی تحقیقات کیلئے سابق ناظم کراچی مصطفی کمال اور پارٹی کو چندہ دینے والے سرفراز مرچن سے باضابطہ طور پر  رابطہ کر لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایف آئی اے اسلام آباد کے ڈائریکٹر انعام غنی نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے سرفراز سے ٹیلی فون پر رابطہ کرتے ہوئے  پاکستان آ کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے  اور شواہد فراہم کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غنی کے مطابق، سرفراز نے پاکستان آنے کی دعوت تو مستردنہیں کی لیکن یہاں آنے سے قبل اپنے وکلا سے مشاورت کا وقت مانگا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ٹیلی فونک رابطے سے قبل سرفراز کو ایک سمن بھی  بھیجا گیا تھا،جو انہوں  نے موصول ہونے کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ سرفراز نے را کی جانب سے ایم کیو ایم کوملنے والے مبینہ فنڈز کے الزامات کی تحقیقات میں پاکستانی حکومت کو معاونت کی پیش کش کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غنی نے بتایا کہ سرفراز پیر تک جواب دیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسری جانب، ایف آئی اے  سندھ کے ڈائریکٹر شاہدحیات نے کراچی میں مصطفی کمال سے رابطہ کرتے ہوئے تعاون کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، مصطفی جلد ہی  ایف آئی اے حکام سے مل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 16-3-13 کے ڈان اخبار سے لی گئی&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے متحدہ قومی موومنٹ کو انڈین ایجنسی  را سے ملنے والے  مبینہ فنڈزکے الزامات کی تحقیقات کیلئے سابق ناظم کراچی مصطفی کمال اور پارٹی کو چندہ دینے والے سرفراز مرچن سے باضابطہ طور پر  رابطہ کر لیا۔</p><p>ایف آئی اے اسلام آباد کے ڈائریکٹر انعام غنی نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے سرفراز سے ٹیلی فون پر رابطہ کرتے ہوئے  پاکستان آ کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے  اور شواہد فراہم کرنے کی دعوت دی۔</p><p>غنی کے مطابق، سرفراز نے پاکستان آنے کی دعوت تو مستردنہیں کی لیکن یہاں آنے سے قبل اپنے وکلا سے مشاورت کا وقت مانگا ہے۔</p><p>ٹیلی فونک رابطے سے قبل سرفراز کو ایک سمن بھی  بھیجا گیا تھا،جو انہوں  نے موصول ہونے کی تصدیق کی۔</p><p>خیال رہے کہ سرفراز نے را کی جانب سے ایم کیو ایم کوملنے والے مبینہ فنڈز کے الزامات کی تحقیقات میں پاکستانی حکومت کو معاونت کی پیش کش کی تھی۔</p><p>غنی نے بتایا کہ سرفراز پیر تک جواب دیں گے۔</p><p>دوسری جانب، ایف آئی اے  سندھ کے ڈائریکٹر شاہدحیات نے کراچی میں مصطفی کمال سے رابطہ کرتے ہوئے تعاون کی درخواست کی ہے۔</p><p>ذرائع کے مطابق، مصطفی جلد ہی  ایف آئی اے حکام سے مل سکتے ہیں۔</p><p><em>یہ خبر 16-3-13 کے ڈان اخبار سے لی گئی</em></p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1034701</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Mar 2016 05:10:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56e4aff872e7d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56e4aff872e7d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
