<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:09:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:09:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکی کے دارالحکومت میں بم دھماکا، 34 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1034721/</link>
      <description>&lt;p&gt;انقرہ: ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے مرکزی چوک کے قریب ایک بس اسٹاپ پر ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوگئے.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خبر رساں ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دھماکا دارالحکومت انقرہ میں مرکزی چوک کے قریب واقع بس اسٹاپ پر ہوا جس کے قریب ہی ایک پارک بھی قائم ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق بارودی مواد سے بھری ایک کار میں دھماکا ہوا، جس کے بعد متعدد گاڑیوں میں آگ بھڑک اُٹھی۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56e5b10b5e48c.jpg'  alt='انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد ریسکیو سرگرمیاں&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد ریسکیو سرگرمیاں&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;وزیر صحت کے مطابق انقرہ کار بم دھماکے میں 34 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوئے.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی میڈیا کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ متعدد ایمبولنسز کو دھماکے کے مقام کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو شہر کے 10  مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی گئی.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1027799"&gt;ترکی میں دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 86 ہو گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56e5b1091a997.jpg'  alt='نقشے کے ذریعے انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے مقام کی نشاندہی کی گئی ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					نقشے کے ذریعے انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے مقام کی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور میڈیا اور دیگر افراد کو دوسرے دھماکے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے دھماکے کے مقام سے فاصلہ برقرار رکھنے کا کہا گیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسری جانب انقرہ کی ایک عدالت نے کار بم دھماکے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد ترکی میں فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس تک رسائی پر پابندی عائد کردی.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ماہ دارالحکومت میں &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1033589"&gt;ترک فوجی قافلے پر بم سے حملہ&lt;/a&gt; کیا گیا تھا جس میں 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اے پی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مذکورہ دھماکے کی ذمہ داری ترکی کی کردش ورکر پارٹی نے قبول کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;ترکی میں گزشتہ تین سال کے دہشت گردی کے بڑے واقعات&lt;/h3&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;13 مارچ 2016&lt;/strong&gt; کو انقرہ مرکزی چوک پر ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;17 فروری 2016&lt;/strong&gt; کو انقرہ ہی میں ترک فوجی قافلے پر ہونے والے کار بم
دھماکے میں 29 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;12 جنوری 2016&lt;/strong&gt; کو استمبول میں ہونے والے خود کش حملے میں جرمنی کے 11
سیاح ہلاک اور دیگر 16 افراد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;10 اکتوبر 2015&lt;/strong&gt; کو انقرہ میں ہونے والی کردش حمایتی ریلی میں خود کش
حملے کے باعث 103 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;20 جولائی 2015&lt;/strong&gt; کو ترکی کی شامی سرحد کے قریب کردش اکثریتی علاقے میں
ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;11 مئی 2013&lt;/strong&gt; ترکی کے شام سے متصل سرحدی علاقے ریحانلی میں دو کار بم
دھماکوں کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;11 فروری 2013&lt;/strong&gt; کو ریحانلی میں بس میں ہونے والے بم دھماکے میں
17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انقرہ: ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے مرکزی چوک کے قریب ایک بس اسٹاپ پر ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوگئے.</p><p>خبر رساں ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دھماکا دارالحکومت انقرہ میں مرکزی چوک کے قریب واقع بس اسٹاپ پر ہوا جس کے قریب ہی ایک پارک بھی قائم ہے۔</p><p>سرکاری بیان کے مطابق بارودی مواد سے بھری ایک کار میں دھماکا ہوا، جس کے بعد متعدد گاڑیوں میں آگ بھڑک اُٹھی۔ </p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56e5b10b5e48c.jpg'  alt='انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد ریسکیو سرگرمیاں&mdash; فوٹو: اے ایف پی۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد ریسکیو سرگرمیاں&mdash; فوٹو: اے ایف پی۔</figcaption>
				</figure><p>وزیر صحت کے مطابق انقرہ کار بم دھماکے میں 34 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوئے.</p><p>غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی میڈیا کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ متعدد ایمبولنسز کو دھماکے کے مقام کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا.</p><p>طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو شہر کے 10  مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی گئی.</p><p><strong>مزید پڑھیں: <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1027799">ترکی میں دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 86 ہو گئی</a></strong></p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56e5b1091a997.jpg'  alt='نقشے کے ذریعے انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے مقام کی نشاندہی کی گئی ہے۔' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					نقشے کے ذریعے انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے مقام کی نشاندہی کی گئی ہے۔</figcaption>
				</figure><p>واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور میڈیا اور دیگر افراد کو دوسرے دھماکے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے دھماکے کے مقام سے فاصلہ برقرار رکھنے کا کہا گیا.</p><p>دوسری جانب انقرہ کی ایک عدالت نے کار بم دھماکے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد ترکی میں فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس تک رسائی پر پابندی عائد کردی.</p><p>خیال رہے کہ گزشتہ ماہ دارالحکومت میں <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1033589">ترک فوجی قافلے پر بم سے حملہ</a> کیا گیا تھا جس میں 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p><p>اے پی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مذکورہ دھماکے کی ذمہ داری ترکی کی کردش ورکر پارٹی نے قبول کی تھی۔</p><h3>ترکی میں گزشتہ تین سال کے دہشت گردی کے بڑے واقعات</h3>
<ul>
<li><p><strong>13 مارچ 2016</strong> کو انقرہ مرکزی چوک پر ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہوئے۔</p></li>
<li><p><strong>17 فروری 2016</strong> کو انقرہ ہی میں ترک فوجی قافلے پر ہونے والے کار بم
دھماکے میں 29 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>12 جنوری 2016</strong> کو استمبول میں ہونے والے خود کش حملے میں جرمنی کے 11
سیاح ہلاک اور دیگر 16 افراد زخمی ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>10 اکتوبر 2015</strong> کو انقرہ میں ہونے والی کردش حمایتی ریلی میں خود کش
حملے کے باعث 103 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>20 جولائی 2015</strong> کو ترکی کی شامی سرحد کے قریب کردش اکثریتی علاقے میں
ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>11 مئی 2013</strong> ترکی کے شام سے متصل سرحدی علاقے ریحانلی میں دو کار بم
دھماکوں کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>11 فروری 2013</strong> کو ریحانلی میں بس میں ہونے والے بم دھماکے میں
17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p></li>
</ul>
<hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں.</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1034721</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Mar 2016 11:16:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56e5ba75cd63d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56e5ba75cd63d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56e5ba83e3e46.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56e5ba83e3e46.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
