<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:08:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:08:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکی: خود کش حملے میں 5افراد  ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1035003/</link>
      <description>&lt;p&gt;استبول: ترکی کے شہر استنبول میں خود کش دھماکے میں حملہ آور سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56ed3058bcb1a.jpg'  alt='فوٹو : بشکریہ سی این این ترک' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فوٹو : بشکریہ سی این این ترک&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا شہر کے مصروف ترین کاروباری مقام پر ہوا، جس کی زد میں کئی افراد آئے، اس لیے ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ترکی کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کی &lt;a href="http://www.trtworld.com/turkey/explosion-hits-istanbuls-beyoglu-district-at-least-two-dead-70839"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق دھماکا استقلال اسٹریٹ میں ہوا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھماکے کے بعد افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;استبول کے گورنر کے مطابق دھماکے سے 5 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 36 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا.&lt;/p&gt;&lt;p&gt;زخمیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں 12 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ استقلال اسٹریٹ استبول کی اہم تجارتی شاہراہ ہے، جہاں ہفتے اور اتوار کے روز عام دنوں کے مقابلے میں لوگ زیادہ تعداد میں خریداری کے لیے آتے ہیں، جب کہ ترکی آنے والے سیاح بھی استقلال اسٹریٹ میں بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں.&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
			&lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%"&gt;
				&lt;a href="https://twitter.com/trtworld/status/711130565869748224"&gt;&lt;/a&gt;
			&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دنوں میں ترکی میں دھماکوں اور شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، یہ دھماکے اور حملے شدت پسند تنظیم داعش کے ساتھ ساتھ باغی کردوں کی جانب سے بھی کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1034721/"&gt;ترکی کے دارالحکومت میں بم دھماکا، 34 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;گذشتہ اتوار کو بھی ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے مرکزی چوک میں کار بم دھماکے میں 34 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوئے تھے، اس دھماکے کی ذمہ داری ترکی کی کردش ورکرز پارٹی نے قبول کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;استنبول حملے میں دو اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے، نیتن یاہو&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے یروشلم میں میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے خود کش دھماکے میں دو اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ کیا اس حملے کا نشانہ اسرائیلی شہری تھے، تاہم اب تک اس حوالے سے ثبوت سامنے نہیں آئے۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;ترکی میں گزشتہ تین سال کے دہشت گردی کے بڑے واقعات&lt;/h3&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;13 مارچ 2016&lt;/strong&gt; کو انقرہ مرکزی چوک پر ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;17 فروری 2016&lt;/strong&gt; کو انقرہ ہی میں ترک فوجی قافلے پر ہونے والے کار بم دھماکے میں 29 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;12 جنوری 2016&lt;/strong&gt; کو استمبول میں ہونے والے خود کش حملے میں جرمنی کے 11 سیاح ہلاک اور دیگر 16 افراد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;10 اکتوبر 2015&lt;/strong&gt; کو انقرہ میں ہونے والی کردش حمایتی ریلی میں خود کش حملے کے باعث 103 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;20 جولائی 2015&lt;/strong&gt; کو ترکی کی شامی سرحد کے قریب کردش اکثریتی علاقے میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;11 مئی 2013&lt;/strong&gt; ترکی کے شام سے متصل سرحدی علاقے ریحانلی میں دو کار بم دھماکوں کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;11 فروری 2013&lt;/strong&gt; کو ریحانلی میں بس میں ہونے والے بم دھماکے میں 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>استبول: ترکی کے شہر استنبول میں خود کش دھماکے میں حملہ آور سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوگئے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56ed3058bcb1a.jpg'  alt='فوٹو : بشکریہ سی این این ترک' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					فوٹو : بشکریہ سی این این ترک</figcaption>
				</figure><p>میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا شہر کے مصروف ترین کاروباری مقام پر ہوا، جس کی زد میں کئی افراد آئے، اس لیے ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔</p><p>ترکی کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کی <a href="http://www.trtworld.com/turkey/explosion-hits-istanbuls-beyoglu-district-at-least-two-dead-70839">رپورٹ</a> کے مطابق دھماکا استقلال اسٹریٹ میں ہوا.</p><p>سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھماکے کے بعد افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیا۔</p><p>استبول کے گورنر کے مطابق دھماکے سے 5 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 36 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا.</p><p>زخمیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں 12 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔</p><p>واضح رہے کہ استقلال اسٹریٹ استبول کی اہم تجارتی شاہراہ ہے، جہاں ہفتے اور اتوار کے روز عام دنوں کے مقابلے میں لوگ زیادہ تعداد میں خریداری کے لیے آتے ہیں، جب کہ ترکی آنے والے سیاح بھی استقلال اسٹریٹ میں بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں.</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
			<blockquote class="twitter-tweet" lang="en" width="100%">
				<a href="https://twitter.com/trtworld/status/711130565869748224"></a>
			</blockquote>
</div>
				</figure>
<p>حالیہ دنوں میں ترکی میں دھماکوں اور شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، یہ دھماکے اور حملے شدت پسند تنظیم داعش کے ساتھ ساتھ باغی کردوں کی جانب سے بھی کیے جاتے ہیں۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں : <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1034721/">ترکی کے دارالحکومت میں بم دھماکا، 34 افراد ہلاک</a></h6>
<p>گذشتہ اتوار کو بھی ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے مرکزی چوک میں کار بم دھماکے میں 34 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوئے تھے، اس دھماکے کی ذمہ داری ترکی کی کردش ورکرز پارٹی نے قبول کی تھی۔</p><h4>استنبول حملے میں دو اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے، نیتن یاہو</h4>
<p>اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے یروشلم میں میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے خود کش دھماکے میں دو اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔</p><p>انھوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ کیا اس حملے کا نشانہ اسرائیلی شہری تھے، تاہم اب تک اس حوالے سے ثبوت سامنے نہیں آئے۔</p><h3>ترکی میں گزشتہ تین سال کے دہشت گردی کے بڑے واقعات</h3>
<ul>
<li><p><strong>13 مارچ 2016</strong> کو انقرہ مرکزی چوک پر ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہوئے۔</p></li>
<li><p><strong>17 فروری 2016</strong> کو انقرہ ہی میں ترک فوجی قافلے پر ہونے والے کار بم دھماکے میں 29 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>12 جنوری 2016</strong> کو استمبول میں ہونے والے خود کش حملے میں جرمنی کے 11 سیاح ہلاک اور دیگر 16 افراد زخمی ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>10 اکتوبر 2015</strong> کو انقرہ میں ہونے والی کردش حمایتی ریلی میں خود کش حملے کے باعث 103 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>20 جولائی 2015</strong> کو ترکی کی شامی سرحد کے قریب کردش اکثریتی علاقے میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>11 مئی 2013</strong> ترکی کے شام سے متصل سرحدی علاقے ریحانلی میں دو کار بم دھماکوں کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p></li>
<li><p><strong>11 فروری 2013</strong> کو ریحانلی میں بس میں ہونے والے بم دھماکے میں 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p></li>
</ul>
<hr>
<p>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1035003</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Mar 2016 23:56:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56ed1dd8e9bb4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56ed1dd8e9bb4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56ed30c4d9f07.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56ed30c4d9f07.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
