<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 03:24:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 03:24:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چترال: تودے تلے دبے 7 طلبہ کے بچنے کا امکان معدوم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1035103/</link>
      <description>&lt;p&gt;چترال: چترال کی کریم آباد وادی میں برفانی تودے تلے دبے طالب علموں کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہفتہ کو میٹرک کا امتحان دینے کے بعد واپس اپنے گاؤں  سسمون جانے والے طالب علم پہاڑی ندی سے گزرتے ہوئے ایک بڑے تودے کی زد میں آ گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حادثہ میں بچنے والے  ایک طالب علم نے اپنے گاؤں میں اطلاع دی، جس کے بعد  اتوار کو امدادی کارروائیوں میں 2 لاشیں نکال لی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1035036/"&gt;چترال میں برفانی تودے تلے لاپتہ 6 بچوں کی تلاش جاری&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری رہنے والی امدادی کارروائی میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے طالب علموں کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;چترال کے ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ نے ڈان کو بتایا کہ بھاری مشینری  کی عدم موجودگی  سے ریسکیو کارروائی میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; وڑائچ کے مطابق، دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ  علاقے میں ایک اور بڑا تودہ مسلسل نیچے سرک رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ  نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی منگل کوسرچ کیلئے خصوصی آلات سے لیس اسلام آباد سے ایک ریسکیو ٹیم  بھیجے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وڑائچ نے بتایا کہ انہوں نے پیر کی دوپہر ہیلی کاپٹر کے ذریعے  جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سڑک سے کچھ برفانی ملبہ  ہٹایا جا چکا ہے اور  ریسکیو آپریشن میں تیزی لانے کیلئے  درمیانے سائز کی مشینری منگل کو پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاہم، ڈپٹی کمشنر نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے سے ملبہ پوری طرح ہٹانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 22 مارچ، 2016 کے ڈان اخبار سے لی گئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چترال: چترال کی کریم آباد وادی میں برفانی تودے تلے دبے طالب علموں کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔</p><p>ہفتہ کو میٹرک کا امتحان دینے کے بعد واپس اپنے گاؤں  سسمون جانے والے طالب علم پہاڑی ندی سے گزرتے ہوئے ایک بڑے تودے کی زد میں آ گئے تھے۔</p><p>حادثہ میں بچنے والے  ایک طالب علم نے اپنے گاؤں میں اطلاع دی، جس کے بعد  اتوار کو امدادی کارروائیوں میں 2 لاشیں نکال لی گئیں۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں : <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1035036/">چترال میں برفانی تودے تلے لاپتہ 6 بچوں کی تلاش جاری</a></h6>
<p>پیر کو جاری رہنے والی امدادی کارروائی میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے طالب علموں کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔</p><p>چترال کے ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ نے ڈان کو بتایا کہ بھاری مشینری  کی عدم موجودگی  سے ریسکیو کارروائی میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔</p><p> وڑائچ کے مطابق، دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ  علاقے میں ایک اور بڑا تودہ مسلسل نیچے سرک رہا ہے۔</p><p>انہوں نے بتایا کہ  نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی منگل کوسرچ کیلئے خصوصی آلات سے لیس اسلام آباد سے ایک ریسکیو ٹیم  بھیجے گی۔</p><p>وڑائچ نے بتایا کہ انہوں نے پیر کی دوپہر ہیلی کاپٹر کے ذریعے  جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے۔</p><p>سڑک سے کچھ برفانی ملبہ  ہٹایا جا چکا ہے اور  ریسکیو آپریشن میں تیزی لانے کیلئے  درمیانے سائز کی مشینری منگل کو پہنچ جائے گی۔</p><p>تاہم، ڈپٹی کمشنر نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے سے ملبہ پوری طرح ہٹانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔</p><p><strong>یہ خبر 22 مارچ، 2016 کے ڈان اخبار سے لی گئی</strong></p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1035103</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Mar 2016 12:38:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56f09c1e92902.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56f09c1e92902.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
